عمران خان اور پرویز خٹک کے مابین کیا پھڈا ہوا؟

پارٹی میں بغاوت کے خطرے سے دوچار وزیراعظم عمران خان کی سیاسی مشکلات ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہیں اور ان کے گھر جانے کی افواہوں میں تیزی لانے کا باعث بن رہی ہیں۔ اس حوالے سے ایک بڑا واقعہ 13 جنوری کے روز اسلام آباد میں ہونے والے حکمران جماعت تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے دوران پیش آیا جب وزیر دفاع پرویز خٹک عمران خان کے ساتھ سیدھے ہو گئے اور ان پر تنقید کے نشتر برسانے شروع کر دئیے۔ جواب میں تنقید برداشت نہ کرنے والے عمران خان غصہ کھا گئے اور بولے کہ اگر آپ کو میری قیادت پسند نہیں تو میں وزارت عظمیٰ چھوڑ دیتا ہوں اور کسی اور کو وزیر اعظم نامزد کر دیتا ہوں۔ اس کے بعد وہ اٹھ کر اجلاس سے جانے لگے لیکن غصےمیں بھرے پرویز خٹک ان سے پہلے باہر نکل گئے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کے مابین بڑھتے ہوئے اختلافات کا مظہر ہے۔
وزیر اعظم اور وزیر دفاع کے مابین تلخی کا آغاز تب ہوا جب پرویز خٹک نے عمران خان سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ کو وزیراعظم ہم کے پی والوں نے بنوایا ہے، لیکن اگر آپ کا ہمارے ساتھ یہی رویہ رہا تو ہم منی بجٹ میں آپ کو ووٹ نہیں دے سکیں گے۔ خٹک کی اس گفتگو پر وزیراعظم اٹھ کر جانے لگے اور کہا کہ اگر آپ مجھ سے مطمئن نہیں تو کسی اور کو حکومت دے دیتا ہوں۔
وزیراعظم نے پرویز خٹک کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن میں کبھی کسی سے بلیک میل نہیں ہوا. انہوں نے کہا کہ میں حکومت میں جائیداد بنانے کے لئے نہیں آیا لیکن مجھے روز روز آپ لوگوں کو بلا کر ووٹ مانگنے پڑتے ہیں لیکن آپ اگر ووٹ نہیں دینا چاہتے تو نہ دیں لیکن مجھے بلیک نہیں کیا جاسکتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے آئی ایم ایف کو سمجھانے کی بہت کوشش کی ہے لیکن اگر وہ نہیں مانتے تو ہم کیا کر سکتے ہیں
یاد رہے کہ پارلیمانی پارٹی کا یہ اجلاس قومی اسمبلی میں زیر بحث ضمنی مالیاتی بل کی منظوی سے قبل ارکان قومی اسمبلی کو اعمتاد میں لینے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ تاہم اجلاس میں معاملہ مزید بگڑ گیا، پرویز خٹک، نور عالم و دیگر ارکان نے منی بجٹ، مہنگائی، اور سٹیٹ بینک کی خودمختاری سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کیا اور اس کی کھل کر مخالفت کی۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ آپ کو وزیراعظم ہم نے بنوایا ہے، خیبرپختونخوا میں گیس پر پابندی ہے، گیس بجلی ہم پیدا کرتے ہیں اور پِس بھی ہم رہے ہیں، اگر آپ کا ہمارے ساتھ یہی رویہ رہا تو ہم اپ کو ووٹ نہیں دے سکیں گے۔
وزیراعظم ، پرویز خٹک آمنے سامنے، ووٹ نہ دینے کی دھمکی
ذرائع کے مطابق پرویز خٹک کی اس گفتگو پر وزیراعظم بھی غصے میں آ گے لیکن اس موقع پر خٹک اٹھ کر اجلاس سے باہر چلے گئے۔ اس دے۔پہلے وزیراعظم نے حکومت اور اتحادی جماعتوں کے تمام اراکین قومی اسمبلی کو ایک روز قبل ہدایت کی تھی کہ وہ فوری اسلام آباد پہنچ جائیں۔ اس کے علاوہ پنجاب اور کے پی کے وزرائے اعلٰی نے بھی گزشتہ شب ارکانِ قومی اسمبلی کو الگ الگ عشائیہ دیا تاہم ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے عشائیے میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 30 سے زائد اراکین قومی اسمبلی شریک نہیں ہوئے۔ عشائیے کے موقع پر پارٹی اراکین قومی اسمبلی کی حاضری لگائی گئی، عشائیے میں نہ آنے والے پارٹی ارکان اسمبلی کی فہرست تیار کی گئی، اور وزیراعظم کو بھجوا دی گئی۔
دوسری جانب یہ اطلاعات ہیں کہ حکومتی جماعت کے علاوہ ایم کیو ایم جیسی حکومتی اتحادی جماعتیں بھی ضمنی بجٹ پر اپنے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے اس کے حق میں ووٹ دینے سے معذوری ظاہر کر چکی ہیں۔ایم کیو ایم پاکستان نے منی بجٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور 11 نکاتی تجاویز قومی اسمبلی میں جمع کرادی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ قاف لیگ کی قیادت کو بھی منی بجٹ پیش کئے جانے پر شدید تحفظات ہیں اور وہ بھی اس کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لئے آمادہ نہیں۔
خیال رہے کہ اگر وفاقی حکومت منی بجٹ پاس کروانے میں کامیاب نہ ہوئی تو حکومت کے خاتمے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ یہ ایک طرح حکومت پر اظہار عدم اعتماد ہوتا ہے۔
