پاکستانی کرکٹ ٹیم کی انڈیا کے ہاتھوں شکست کی اصل وجہ کیا ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر نے کہا ہے کہ ہماری کرکٹ ٹیم کو جب بھی اپنے ازلی دشمن بھارت کے ہاتھوں شکست ہوتی ہے تو پوری قوم یہ بھلا کر ماتم کرنے لگ جاتی ہے کہ ہمارا انڈیا سے کھیل کے علاوہ بھی کسی اور میدان میں کوئی مقابلہ نہیں کیونکہ وہ ہم سے ہر فیلڈ میں بہتر ہیں۔ انکا کہنا یے کہ تعلیم وتحقیق میں انڈیا آگے‘ درس وتدریس میں وہ کہاں اور ہم کہاں‘ اُن کے امبانی اور ٹاٹا دنیا بھر کے صنعتکاروں کی ٹکر کے ہیں، دولت بھی اسکے پاس زیادہ ہے‘ انڈین زرِمبادلہ کے ذخائر اتنے ہیں کہ ذکر کرتے ہوئے شرم آئے۔ اور سونے پر سہاگہ یہ کہ انڈیا چاند پر بھی پہنچ چکا یے۔
اپنی تازہ تحریر میں ایاز امیر کہتے ہیں کہ ایک کرکٹ کا میدان ہی تھا جس سے امیدیں بندھی رہتی تھیں کہ جوشِ جہاد آنے کی دیر ہے اور ہم نے ہندوستانیوں کو شکست دے دینی ہے۔ اب اس وادیٔ امید میں بھی گنگا اُلٹی ہی بہتی ہے اور زیادہ تر شکست کا تاج ہمارے کھلاڑیوں کو ہی پہننا پڑتا ہے۔ چیمپینز ٹرافی کے دوران دبئی میں ہونے والے اہم ترین میچ میں بھی ایسا ہی ہوا، لیکن اہلِ فکر و دانش سے یہ سوال پوچھنا بنتا ہے کہ اگر ہر شعبے میں ستیاناس قومی شعار بن چکا ہے تو کرکٹ کا میدان ایسی ستیاناسی سے کس منطق سے بچا رہے؟ کھیل کود کے معرکے خلا میں نہیں مارے جاتے۔
اولمپک گیموں کے نتائج پر ایک نظر ڈالی جائے‘ اس میدان میں بھی اُنہی قوموں کی کارکردگی بہتر رہتی ہے جن کی حالت کچھ سنبھلی ہو۔ زیادہ تر میڈلز امریکہ‘ روس اور چین کے کھلاڑی جیتتے ہیں۔ چین جب افیمیوں کا ملک کہلاتا تھا تو کھیلوں کے میدان میں کہیں اس کا ذکر نہیں ہوتا تھا۔ لیکن انقلابِ چین نے اُس معاشرے کو تبدیلی کی راہ پر ڈالا تو بتدریج چینی قوم کھیلوں کے میدان میں اچھی کارکردگی دکھانے لگی۔ کسی میدان میں بھی کچھ کرنے کے لیے پہلی چیز اعتماد اور خود اعتمادی ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان کا سبز پاسپورٹ پکڑا ہو تو اعتماد کچھ کمزور ہونے لگتا ہے۔ ہماری کرکٹ ٹیمیں بھی اسی معاشرے سے ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں اربابِ حکم وجبر نے کچھ اعتماد رہنے دیا ہو پھر تو ہمارے کھلاڑی بھی سینے پھلا کے چلیں۔ لیکن جو حال ملک و قوم کا ہے، اسے دیکھتے ہوئے ہمارے کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی یہی مہربانی کافی ہے کہ میدان میں اُتر جاتے ہیں۔ اس سے زیادہ کی توقع اُن سے نہ کی جائے۔
ایاز امیر کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے نے ٹھیک نہیں ہونا ہے‘ ہم نے بطور قوم یہ قسم اٹھا رکھی ہے، ایسے میں بیچارے گیارہ کھلاڑی 25 کروڑ بے ہنگم آبادی کی امیدیں اپنے کندھوں پر کہاں تک اٹھاتے پھریں؟ ویرات کوہلی اور روہت شرما وغیرہ کوئی پیدائشی رستم و سہراب تو نہیں۔ لیکن وہ آگے قدم بڑھانے والے معاشرے کے نمائندوں کے طور پر کرکٹ کی گراونڈ میں اترتے ہیں۔ اُن کا اعتماد وہاں سے آتا ہے۔ پاکستانی جب کسی ایک میچ میں ازلی دشمنوں کے ہاتھوں پٹائی پر ماتم کرنے بیٹھ جاتے ہیں، اُنہیں حالات کا پورا تناظر سامنے رکھنا چاہیے۔ پاکستان کا معرضِ وجود میں آنا اور ہندوستان کو آزادی ملنا‘ یہ دونوں عوامل ایک ہی برطانوی قانون کی وجہ سے پایۂ تکمیل کو پہنچے۔ دونوں ممالک کا قانونی اور آئینی ڈھانچہ ایک تھا۔ تمام قوانین ایک تھے۔ ادارے ایک قسم کے تھے۔ لیکن ہمارا ازلی دشمن ایک ڈگر پر چلا اور ہمارے فیصلہ سازوں نے کوئی اور راستہ اپنایا۔ چنانچہ ایک بنیادی فرق جلد ہی نمایاں ہو گیا، یہ فرق وہ عسکری خارش تھی کہ ہر پانچ سال بعد ہمیں کچھ نہ کچھ ضرور کرنا ہے۔ اس کھجلی کے باعث فوجی ڈکٹیٹرز بار بار قلعۂ سیاست میں قدم رکھتے رہے۔ پہلی کھجلی غلام محمد اور سکندر مرزا کو ہوئی، پھر جنرل ایوب خان زیادہ شدت سے اسی کھجلی کی زد میں آئے۔ کبھی پانچ سالہ اور کبھی دس سالہ کھجلی ہمارے نصیب کا حصہ بن گئی۔
دوسری جانب ہندوستان میں اور لاکھ کمزوریاں سہی، لیکن اس مخصوص کھجلی سے وہ آزاد رہا۔ وہاں اداروں کی نشو ونما ہوئی‘ یہاں طالع آزمائی پر زور رہا۔ اقتدار کی اس عسکری خارش نے ہمارے معاشرے کو کہیں کا نہ چھوڑا۔ اب جب نہ کماری سیاست بچی اور نہ ہی آئین اور قانون تو اہلِ دانش یہ بتائیں کہ کرکٹ اس ستیاناسی سے کب بچ سکتی تھی؟ لہٰذا ہمیں اپنے کھلاڑیوں پر ہولا ہاتھ رکھنا چاہیے۔
