فیض حمید کن PTI  لیڈروں کو جرنیلوں کے خلاف بھڑکا رہے تھے؟

سینیئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید عمران خان کی گرفتاری کے بعد سے تحریک انصاف کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی کوشش کر رہے تھے، انکی پارٹی امور میں مداخلت اتنی زیادہ بڑھ چکی تھی کہ وہ اپنے من پسند افراد کو پی ٹی آئی میں عہدے دلانے کی کوشش کر رہے تھے جس پر پارٹی کے اندر اُن کے خلاف بے چینی پیدا ہو چکی تھی۔ اس دوران کچھ ایسی خبریں بھی باہر نکلیں کہ وہ تحریک انصاف کے کچھ رہنمائوں کو فوج کے حاضر سروس جرنیلوں کے خلاف بھڑکانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جب ان خبروں کی تصدیق ہو گئی تو فیض حمید کے خلاف ایک پرانا کیس کھول کر کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کر دی گئی۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کا خیال تھا کہ اُن پر کبھی ہاتھ نہ ڈالا جا سکے گا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اُنہیں نومبر 2022ء میں بتا دیا تھا کہ اگر جنرل عاصم منیر آرمی چیف بن گئے تو تمہارا کورٹ مارشل ضرور کریں گے لیکن فیض کو یقین تھا کہ عاصم منیر آرمی چیف نہیں بن سکیں گے۔ جب عاصم منیر آرمی چیف بن گئے تو فیض نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ عرصہ وہ محتاط رہے لیکن جب اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی تو وہ غیر محتاط ہو گئے۔ وہ ایک ایسے سسٹم کی پیداوار تھے جہاں طاقت کا بے جا استعمال ہوتا ہے، اختیارات کے ناجائز استعمال پر ادارے کے اندر تو جواب دہی ہوتی ہے لیکن جب آپ ادارے کے سربراہ بن جائیں تو پھر ملک کا آئین و قانون بے بس ہو جاتا ہے۔

جنرل فیض کورٹ مارشل کا شکار ہونے والے پہلے آئی ایس آئی چیف

بقول حامد میر، فیض حمید کو یقین تھا کہ اگر اُن کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی تو وہ یہ ثابت کر دیں گے کہ اُنہوں نے جو کچھ بھی کیا جنرل قمر جاوید باجوہ کے حکم پر کیا اور باجوہ کے خلاف کارروائی کی کوئی ہمت نہیں کر سکتا لہٰذا اُن کے خلاف بھی کارروائی نہیں ہو گی۔ فیض خود کو ضرورت سے زیادہ چالاک اور ہوشیار سمجھتے تھے اور یہی اُن کی سب سے بڑی خامی تھی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ایک نہیں تین مختلف جماعتوں کی قیادت کے ساتھ رابطے میں تھے وہ تحریک انصاف کے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک رہنما کے ذریعے مختلف لوگوں کو پیغامات بھیجتے اور تحریک انصاف کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی کوشش کر رہے تھے جس وجہ سے پارٹی میں ان کے خلاف بے چینی پیدا ہو چکی تھی۔ فیض نے بہت زیادہ کھل کر کھیلنا شروع کر دیا تھا اس لیے غیر محتاط ہو گئے اور یوں قابو آ گے۔

فرعون ہو یا ہلاکو ہو، فیض حمید ہو یا عمران، احتساب سب کا ہو گا

حامد میر کہتے ہیں کہ جنرل قمر باجوہ کے دور میں ہی ٹاپ سٹی اسلام آباد کے مقدمے کی تحقیقات کے دوران فیض کے خلاف ٹھوس ثبوت سامنے آ گئے تھے لیکن جنرل باجوہ نے اُن کے خلاف کارروائی نہیں ہونے دی۔ ٹاپ سٹی میں فیض حمید کا کردار کوئی ٹاپ سیکرٹ نہیں تھا، اصل ٹاپ سیکرٹ تو وہ معاملات ہیں جن کی وجہ سے فیض حمید کو یقین تھا کہ اُن کے خلاف کارروائی نہیں ہو گی۔ اُن کے اعتماد کی سب سے بڑی وجہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں میں اُن کے گہرے تعلقات تھے۔ مسلم لیگ (ن) میں اُن کے تعلقات کی گہرائی کا یہ عالم تھا کہ فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجوہات جاننے کیلئے ایک کمیٹی بنائی گئی۔ اس کمیٹی میں موجودہ حکومت نے اپنے انتہائی قابل اعتماد پولیس افسران کو شامل کیا۔ کمیٹی کے سامنے شاہد خاقان عباسی سمیت مسلم لیگ (ن) کے وہ رہنما پیش ہوئے جو 2017 میں حکومت کا حصہ تھے اور حیران کن۔ طور پر اس کمیٹی نے فیض حمید کو بے قصور قرار دیدیا۔

الزامات ثابت ہونے پر جنرل فیض کو عمر قید یا موت کی سزا کا امکان

حامد میر کہتے ہیں کہ عام تاثر یہ ہے کہ فیض حمید تحریک انصاف کے بہت قریب تھے لیکن کم لوگ جانتے ہیں کہ اُن کے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سے بھی بڑے گہرے تعلقات تھے۔ 2019ء میں انہوں نے نہ صرف ان تعلقات کی مدد سے نواز شریف کو طبی بنیادوں پر پاکستان سے باہر بھجوایا بلکہ ان تینوں جماعتوں کو جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کیلئے بھی راضی کیا۔ باجوہ کو ایکسٹینشن دلوانے میں بھی فیض کا اپنا مفاد تھا۔ اسی ایکسٹینشن کے نتیجے میں کچھ سینئر افسران ریٹائر ہو گئے اور فیض حمید کا نمبر اوپر چلا گیا۔ 2022 میں جنرل باجوہ ایک اور ایکسٹینشن لینا چاہتے تھے۔ اُن سے غلطی یہ ہوئی کہ وہ نواز شریف کی طرح آصف زرداری کو بھی طبی بنیادوں پر پاکستان سے باہر بھیجنا چاہتے تھے۔ اس مقصد کیلئے اُنہوں نے بلاول بھٹو کو استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن بلاول نے اپنے والد کے خلاف کسی سازش کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔ بلاول نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل کر پی ڈی ایم بنائی اور یوں عمران کی حکومت گرانے کیلئے کوشش کا آغاز ہوا۔

حامد میر کہتے ہیں کہ جنرل باجوہ نے عمران خان کے خلاف سازشیں اس لئے شروع کیں کہ خان صاحب کچھ معاملات پر باجوہ کا حکم ماننے کیلئے تیار نہ تھے۔ پہلا پھڈا تو عثمان بزدار پر ہوا۔ دوسرا پھڈا اسرائیل کو تسلیم کرنے پر ہوا اور پھر جب باجوہ نے فیض حمید کے ذریعے بھارت کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوول کے ساتھ ایسے فیصلے کرنے شروع کر دیئے جن کا عمران کو علم نہیں تھا۔ جب اپریل 2022ء میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا دورہ پاکستان طے کیا گیا تو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس دورے کو مسترد کر دیا۔ عمران خان نے اپنے وزیر خارجہ کا ساتھ دیا۔ باجوہ سخت ناراض تھے اور فیض حمید دونوں طرف کھیل رہے تھے۔ انہوں نے ایک طرف تو بھارت کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کے معاہدے پر آمادگی ظاہر کی دوسری طرف عمران کو باجوہ سے بدظن کیا۔ عمران کا خیال تھا کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں کشمیر کی حیثیت تبدیل کر کے پاکستان کو دھوکہ دیا ہے لہٰذا اس دھوکے کے بعد بھارت کے ساتھ سیز فائر اور نریندر مودی کا دورہ پاکستان ان کیلئے مشکلات پیدا کرے گا۔ کشمیری رہنما سید علی گیلانی ان تمام واقعات پر صرف پریشان نہیں بلکہ ناراض تھے لہٰذا جب عمران نے مودی کا پاکستان میں استقبال کرنے سے انکار کیا تو باجوہ کے ساتھ ڈیڈ لاک ہو گیا۔ بعد میں صدر عارف علوی نے یہ ڈیڈ لاک ختم کرانے کی بہت کوشش کی لیکن فیض حمید نے عمران کو باجوہ پر اعتماد نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ فیض کبھی عمران کے ہمدرد نہ تھے۔ وہ خان سمیت ہر کسی کے ساتھ ڈبل گیم کرتے رہے۔ 2019ء سے 2022ء کے دوران اُنہوں نے کچھ اہم غیر ملکی شخصیات کے ساتھ بھی تعلقات بنا لئے تھے اور اُنہیں یقین تھا کہ اگر اُن کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی تو یہ شخصیات اُنہیں بچا لیں گی۔ لیکن ابھی تک ان شخصیات نے فیض حمید کو بچانے کیلئے کچھ نہیں کیا۔ فیض حمید کے خلاف کارروائی سے فوج میں کرپشن کا راستہ رُکے گا لیکن اصل مسئلہ کرپشن نہیں بلکہ سیاست میں فوج کی مداخلت ہے۔ اس مداخلت سے ہی کرپشن کے راستے کھلتے ہیں۔ اس لیے فوج کو مضبوط بنانے کیلئے ضروری ہے کہ سیاست میں فوج کی مداخلت ختم کی جائے۔ فیض حمید جیسے کردار فوج کی سیاست میں مداخلت سے پیدا ہوتے ہیں۔

Back to top button