بھڑکیں مارنے والا عمران اب عسکری قیادت کے ترلے کیوں کرنے لگا؟

بھڑکیں مارنے والا عمران اب عسکری قیادت کے ترلے کیوں کرنے لگا؟پی ٹی آئی رہنماؤں کے دعوؤں کے برعکس ہر گزرتے دن کے ساتھ تحریک انصارف کیلئے اقتدار کی راہیں مسدود ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں مہنگائی اور دہشتگردی کے نتیجے میں عوام کا غم و غصہ بڑھتا جارہا ہے جس کا فائدہ تحریک انصاف کو مل رہا ہے تاہم پی ٹی آئی پاور کوریڈورز کی محلاتی سازشوں میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے، اسی لئے کل تک آمی چیف پر الزام تراشیاں کرنے والے عمران خان آج جیل سے جنرل عاصم منیر کو محبت کے پیغام بھجوا رہے ہیں تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عسکری قیادت عمران خان سمیت سانحہ 9 مئی میں ملوث شرپسندوں کو کسی قسم کا ریلیف دینے کو قطعا تیار نہیں اس لئے عمران خان کے پیغامات کے باوجود دونوں طرف ٹمپریچر میں کسی قسم کی کمی ہوتی دکھائی نہیں دیتی دوسری جانب تجزیہ کاروں کے مطابق عدالتی احکامات کے باوجود الیکشن کمیشن مختلف ٹیکنیکل ایشوز کی بنیاد پر پی ٹی آئی کو کبھی بھی مخصوص سیٹیں نہیں دے گا۔ اس طرح عمرانڈوز کا دوبارہ اقتدار میں آنے کا خواب صرف خواب ہی رہے گا۔

سینئر صحافی شاہزیب خانزادہ کے مطابق تحریک انصاف الیکشن ٹریبونلز سے اپنے حق میں فیصلے آنے کی امید پر دسمبر میں اقتدار میں آنے اور نئے الیکشن کی توقع کررہی ہے، لیکن صورتحال یہ ہے کہ اسلام آباد اور پنجاب کے الیکشن ٹریبونلز اس وقت غیر فعال ہیں۔شاہزیب خانزادہ کا تجزیے میں مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے دعویٰ کردیا ہے کہ دسمبر میں عام انتخابات ہونے جارہے ہیں، آرمی چیف جنرل عاصم منیر پر نام لے کر اپنے اور اپنے پارٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے سخت تنقید کرنے اورآرمی چیف پر براہ راست الزام لگانے والے عمران خان نے آرمی چیف کو سپہ سالار کہہ کر جیل سے پیغام بھجوایا ہے کہ حکومت فوج اور تحریک انصاف کو لڑوانا چاہتی ہے لیکن ہم اورآرمی چیف دونوں ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

دوسری جانب سینئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے حوالے سے مقتدرہ اور الیکشن کمیشن کی پالیسی اور موقف میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے، پی ٹی آئی کے اندر اگر تبدیلی آئی ہے تو مثبت ہے، پی ٹی آئی کی لچک سے فائدہ اٹھا کر مصالحت کی طرف جاناچاہئے تاہم ن لیگ اور مقتدرہ کی طرف سے مثبت سگنل نظر نہیں آرہے۔ دوسری جانب سینئر صحافی و تجزیہ کار شہزاد اقبال کا کہنا ہے کہ ملکی سیاسی معاملات بند گلی میں جاچکے ہیں کوئی بھی فاتح نہیں ہوگا، سب کو پیچھے ہٹنا ہوگا اگر نہیں ہٹتے تواس سے ملک کا بڑا نقصان ہوگا، تحریک انصاف کے حالیہ بیانات سے پالیسی نرم ہوتی نظر آتی ہے تاہم پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بداعتمادی کی فضا بہت زیادہ ہے۔ جس کو کم کرنے میں مزید وقت لگے گا۔ شہزاد اقبال کے مطابق عدالتوں سے تحریک انصاف کے حق میں فیصلوں کا تعلق کسی بات چیت یا ڈیل سے نہیں ہے، تاہم اس وقت پی ٹی آئی کو عدالتی فیصلوں کا کوئی فائدہ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

Back to top button