پی ٹی آئی کا باولا سوشل میڈیا بریگیڈ اپنوں کو کیوں کاٹنے لگا ؟

 

 

 

یوتھیوں کی جانب سے پٹواری قرار دیے جانے والے سینیئر صحافی انصار عباسی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف پر وہی پرانی کہاوت صادق آتی ہے کہ دوسروں کے لیے گڑھا کھودنے والا خود اس میں گرتا ہے۔

 

انصار عباسی روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں کہتے ہیں کہ آج کی تحریک انصاف کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ یوتھیے جو کل تک اپنے مخالف سیاسی رہنماوں کی ٹرولنگ پر تالیاں بجاتے تھے اُن کو آج اپنے ہی سوشل میڈیا بریگیڈ کی جانب سے اُسی گالم گلوچ، بہتان تراشی اور بدتمیزی کا سامنا ہے۔ جو انصافیے کل تک دوسروں کو غدار قرار دینے کے لیے اپنے سوشل میڈیا بریگیڈ کی طاقت پر خوش ہوتے تھے اُن کے لیے آج وہی بریگیڈ اب ناقابل برداشت ہو چکا۔ وجہ یہ ہے کہ اب کسی کی قربانی، کسی کی رائے، اور کسی کی سوچ کی کوئی حیثیت نہیں۔

 

اگر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا بریگیڈ نے کسی کو غدار بنا دیا تو پارٹی کا کوئی دوسرا رہنما بھی اسکے ساتھ کھڑا ہونے کی صورت میں غدار قرار پائے گا۔

انصار عباسی کہتے ہیں کہ صرف اور صرف عمران خان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والا وہ واحد شخص ہے جسکے خلاف آج بھی نہ کوئی بات نہ کی جا سکتی ہے اور نہ ہی اُس سے کوئی اختلاف کر سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پارٹی کو تباہی سے دوچار کرنے والے بھی خود عمران خان ہی ہیں لیکن وہ چاہے کتنا بھی غلط فیصلہ کر لیں، وہ چاہے کتنا ہی بڑا یو ٹرن کیوں نہ لے لیں، اُسے من و عن قبول کرنا ہر پارٹی لیڈر اور ورکر کا فرض ہے، کیونکہ کپتان سے اختلاف غداری کے زمرے میں آتا ہے۔

 

انصار عباسی سوال کرتے ہیں کہ یہ کیسی جمہوریت ہے، کیسا سیاسی شعور ہے، کیسی حقیقی آزادی کی جنگ ہے، یہ کیسی سیاست ہے جس میں پی ٹی آئی کے بانی کے علاوہ سب کے سب مشکوک اور دو نمبر ہیں۔ پارٹی کے کس رہنما کو کس وقت غدار بنا دیا جائے، کس کو کس وقت ٹاؤٹ کا خطاب دے دیا جائے، کون کس وقت گالیوں اور نفرت کا شکار بن جائے، اس کا کسی کو علم نہیں، لیکن ایک بات طے یے کہ باری سب کی آنی ہے۔ جس کو عدالت سزا دے وہ بھی غدار، وہی عدالت جس کو باعزت بری کر دے وہ بھی غدار۔ جو اس رائے سے اختلاف کرے وہ بھی غدار، سوائے ایک فرد کے کسی کی بات، کسی کی سوچ اور کسی کی قربانی کی کوئی حیثیت نہیں۔ یہ ہے آج کی تحریک انصاف اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ یہ ہے آج کی تحریک انصاف کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ جو کل تک اپنے مخالف سیاسی رہنماوں اور اختلاف کرنے والے افراد کی ٹرولنگ پر خوش یا خاموش تھے اُن کو آج مکافات عمل کے تحت اپنے ہی سوشل میڈیا کے ہاتھوں ٹرولنگ کا سامنا ہے۔

 

مولانا انصار عباسی کے بقول اگر تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بریگیڈ کی گالم گلوچ اور غداری کے فتووں سے بچنا ہے تو پھر جسے عمران پسند نہیں کرتا اُسے ناپسند کرنا اور اس کا اظہار کرنا لازم ہے، جسے عمران خان بُرا بھلا کہے یا اُس پر چاہے جو الزام لگائے وہ سب دہرانا لازم ہے۔ لیکن پھر بھی دوسرا ہر کوئی مشکوک ہی رہے گا۔ انصار عباسی کے بقول سیاسی شعور کے نام پر عمران خان نے اپنے ووٹرز،سپورٹرز میں اتنی نفرت اور اس قدر منفی سوچ پیدا کردی کہ ایک طرف شاہ محمود قریشی دو سال سے زیادہ جیل میں بند رہنے کے بعد چند کیسز میں بری ہونے پر مشکوک قرار پائے ہیں جبکہ دوسری طرف اُنہی عدالتوں سے عمر ایوب خان، شبلی فراز اور زرتاج گل دس دس سال قید کی سزائیں ملنے کے باوجود مشکوک ہیں، اُنہیں بھی غداری کے طعنے دیے جا رہے ہیں۔

 

تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بریگیڈ کے ہاتھوں نہ تو وزیر اعلی علی امین گنڈاپور کی عزت بچی ہے اور نہ ہی بیرسٹر گوہر خان کو کوئی احترام دیا جاتا ہے۔ کئی پارٹی رہنماوں کو درجنوں مقدمات کا سامنا ہے، بہت سوں کے کاروبار تک ٹھپ ہو گئے لیکن اُن کی پارٹی اور عمران سے وفاداری مشکوک ہی رہتی ہے۔ دوسری جانب علیمہ خان کی زیر قیادت سوشل میڈیا بریگیڈ چلانے والے کہتے ہیں کہ وہ حق کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ اُن کی زبان کے شر، اُنکے جھوٹ، بہتان تراشی اور فتنہ انگیزی سے اُن کے اپنے بھی محفوظ نہیں۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ اسے سیاسی شعور اور حقیقی آزادی کی تحریک کا نام دیا جاتا ہے۔ عمران خان کو اس بارے میں ضرور سوچنا چاہیے۔ ہو سکتا ہے اُنہیں بھی یہ احساس ہو جائے کہ اُنہوں نے بے لگام اور زبان دراز سوشل میڈیا بریگیڈ پال کر کتنی بڑی غلطی کی کیونکہ اب اس کا مداوا ممکن نہیں ہے۔

Back to top button