اب ہمیں نصابی کتابوں میں جھوٹ لکھنے کی ضرورت کیوں نہیں رہی؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ ہماری نسل کے لوگ اب تک انڈیا کے ہاتھوں 1971 کی جنگ میں ہونے والی شکست کے زخموں کو سہلاتے ہوئے زندگی گزار رہے تھے، لیکن ہماری اگلی نسل 2025 میں بھارت کو عبرتناک شکست کے نتیجے میں ملنے والے مان کے ساتھ زندگی گزارے گی۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ تجزیے میں حماد غزنوی کہتے ہیں کہ اب ہمیں مطالعہ پاکستان کی کتابوں میں جھوٹ لکھنے کی ضرورت نہیں رہی، 10 مئی 2025 کو پاکستان نے بھارت کو واضح برتری کیساتھ فضائی جنگ میں شکست دی ہے، یہ منظر ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، ساری دنیا اس کی گواہی دے رہی ہے، اور پاکستان کی برتری تسلیم کر رہی ہے۔

اس احمقانہ جنگ کا آغاز کرنے والے مودی جی اب بھی اس کوشش میں ہیں کہ اس حوالے سے ابہام پیدا کر سکیں مگر ان کے افسانوں پر ان کی جنتا بھی اعتبار نہیں کر رہی۔ برصغیر کی جنگی تاریخ میں پاکستان نے بھارت کی ناک خاک آلودہ کر دی ہے۔ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، آبادی کے اعتبار سے بھارت دنیا کی سب سے بڑی منڈی ہے، بھارت دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے، چوتھی سب سے بڑی فوج بھارت کی ہے، چوتھا سب سے بڑا دفاعی بجٹ بھارت کا ہے، چوتھے سب سے زیادہ زرِ مبادلہ کے ذخائر بھارت کے پاس ہیں، بھارت کی حیثیت اور طاقت ثابت کرنے والی یہ فہرست طویل ہے۔ پاکستان کم از کم کاغذ پر ایک چھوٹا سا ملک ہے جو آج کل خاص طور پر سیاسی و معاشی ابتری کا شکار نظر آتا تھا۔

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ ان حقائق کی روشنی میں جنگ کا منظر کچھ یوں تھا کہ ایک لحیم شحیم پہلوان نے اپنے تئیں ایک لاغر بچے کو سبق سکھانے کا ارادہ کیا، پہلوان نے دورے پر آئے ہوئے امریکی نائب صدر وینس کو اپنے ارادے سے آگاہ کیا، اس پر صدر ٹرمپ نے کہا یہ ’’پہلوان اور بچے‘‘ کا آپسی معاملہ ہے، نائب صدر وینس نے کہا ہمارا اس لڑائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جنگ شروع ہو گئی، چار دن بعد امریکا کو یاد آ یا کہ یہ تنازع تو پورے کُرہء ا رض کیلئےخطرناک ہے، فوری جنگ بندی ہونی چاہیے، اور پھر جنگ بندی ہو گئی۔ کتنی سادہ سی بات ہے اور کتنی آسانی سے سمجھ میں آ رہی ہے۔ قرائن بتاتے ہیں کہ منصوبہ تو یہ تھا کہ پہلوان نے بچے کو ایک چپت لگا کر سیدھا کر دینا تھا، اور یوں محلے کا چودھری قرار پانا تھا، اور پھر پہلوان کے غیظ و غضب سے بچنے کیلئے بچے نے منہ بسورتے ہوئے واشنگٹن جانا تھا اور جاں بخشی کی درخواست کرنا تھی۔ مگر واللہ خیر الماکرین۔

لیکن حماد غزنوی کہتے ہیں کہ نہ تو کوئی پاکستانی راتوں رات واشنگٹن پہنچا، نہ پاکستان پر کوئی شرائط عائد کی گئیں، بلکہ اس کے اُلٹ ہوا، پاکستان نے بدلہ لینے کے بعد سیزفائر قبول کیا، امریکا اور مغرب کی طرف سے پاکستان کو دہشت گردی کا زیرِلب طعنہ بھی نہیں دیا گیا، بھارت اور پاکستان کا نام ایک سانس میں لیا گیا اور دونوں ممالک کو تجارت کی پیش کش کی گئی۔ بلکہ اس سے ایک قدم آگے جا کر پاکستان کا دیرینہ مطالبہ دہراتے ہوئے ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کو برِ صغیر میں تنازعات کی جڑ قرار دیا اور ثالثی کی پیش کش کی، یعنی مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر دوبارہ زندہ کر دیا۔ یہ مہربانیاں پاکستان کو خیرات میں نہیں ملیں، یہ کرم ہارے ہوئے ملک پرنہیں کیے جاتے۔ دنیا یک زبان ہو کر کہہ رہی ہے کہ اس جنگ میں پاکستان نے بھارت پر مکمل فضائی برتری کا مظاہرہ کیا، ماڈرن وار فیئر میں فضائی برتری ہی سب کچھ سمجھی جاتی ہے، اور پاکستان یہ برتری جنگ کی پہلی رات ہی پانچ بھارتی طیارے گرا کر ثابت کر چکا تھا۔ بھارتی جنگی ماہر پراوین سوہنی اس فضائی برتری کی تفصیل بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان کو 44 چینی سیٹلائٹ کی کہکشاں میسر تھی جس سے سارا جنگی تھیٹر اپنی جزیات سمیت دکھائی دیتا ہے، اور الیکٹرانک وارفیئر سے پاکستان نے ہماری تمام وار مشینری کے سگنل جام کر دیے، حتیٰ کہ پاکستان ہمارے سارے جنگی پیغامات بھی سُن رہا تھا۔ یعنی بھارتی فوج کو اندھا اور گونگا بہرا کر دیا گیا تھا۔

یوں کہیے جنگ کی پہلی رات ہی بھارت کی مانگ اُجڑ چکی تھی، اُس کے بعد بھارت نے تین دن فقط خِفت مٹانے کی کوشش کی۔ بھارتی جنگی ماہرین کی رائے میں پاکستان کی موجودہ جنگی ٹیکنالوجی کا مقابلہ کرنے کیلئے دس سال کی تیاری کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ، پاکستان کو اس جنگ میں چین کی ٹیکنالوجیکل مدد حاصل تھی، جیسے اسرائیل اپنی تمام تر ٹیکنالوجی کے ساتھ بھارت کے شانہ بہ شانہ کھڑا تھا۔ مین بی ہائنڈ دی گن  man behind the gun کی اہمیت تو ہم سب جانتے ہیں۔ لڑکپن میں سٹار کرکٹر ویوین رچرڈ سے متاثر ہو کر ہم نے ایس ایس جمبو بلّا خریدا تھا اور پہلے میچ میں صفر پر آئوٹ ہو گئے تھے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں جدید ترین لڑاکا طیارے فراہم کرنے والے چین کا بے پناہ شکریہ، لیکن ہمارے بہادر شاہینوں کا کریڈٹ ان سے کوئی نہیں چھین سکتا۔

بھارت پر سائبر حملے نے پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر کی ترقی کے دروازے کیسے کھولے؟

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ پاکستان بھارت سے میڈیا وار بھی جیتا ہے، ہماری حکومت نے جب پہلی رات پانچ طیارے گرانے کی خبر دی تو ہم بھی اسے زیبِ داستاں سمجھے، مگر یہ سچ ثابت ہوا، اور جنگ کے باقی دن بھی پاکستان سچ کے قریب رہا، جب کہ ہندوستان کی حکومت پترکاروں سے چھپ رہی تھی، انفارمیشن روک رہی تھی، سوشل میڈیا پر پابندیاں لگا رہی تھی، جبکہ ہم پابندیاں ہٹا رہے تھے، ہمارے نیوزٹی وی پر معقول گفتگو ہو رہی تھی، جبکہ بھارتی ٹی وی جنگی جنون میں لت پت بے سروپا جھوٹ بول کر تیزی سے بے اعتبار ہو رہے تھے۔ اب یہ ٹی وی اپنے درشکوں سے فیک نیوز کی معافیاں مانگ رہے ہیں۔ بھارت کو اس جنگ سے عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کا بھرم ٹوٹ گیا ہے، عالمی طاقت تو کیا بنتا، بھارت خطے کا ایس ایچ او بھی نہیں بن سکا۔ مودی کا بُت بھی ٹوٹ گیا، اب مودی کا اگلا سیاسی سفر ڈھلانوں کا سفر ہے۔

انکا کہنا ہے کہ حالیہ پاک بھارت جنگ میں کامیابی کے بعد پاکستان سر بلند ہوا ہے، پاکستانی قوم پُراعتماد ہوئی ہے، ہندوستان کے اندر اور خطے میں ہندوتوا کی نفرت کے ڈسے ہوئے سب عناصر و ممالک اس جنگ سے نفسیاتی طور پر توانا ہوئے ہیں۔ لہٰذا پاکستان کی نوجوان نسل کو خصوصی مبارک باد۔ ہماری نسل نے 1971ءکے گھائو کے ساتھ زندگی گزاری تھی، ہماری اگلی نسل 2025ءکے مان کے ساتھ زندگی گزارے گی….پاکستان زندہ باد!

Back to top button