حامد میر صحافت کو ایک خطرناک پیشہ کیوں سمجھتے ہیں ؟

 

 

 

 

معروف اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ صحافت انکے والد پروفیسر وارث میر کے زمانے میں بھی ایک خطرناک شعبہ تھا اور آج کئی دہائیوں بعد بھی ان کے زمانے میں بھی ایک خطرناک پیشہ ہے جس کی بنیادی وجہ ریاستی سوچ ہے۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں حامد میر بتاتے ہیں کہ پچھلے دنوں ایک یونیورسٹی میں ہونے والے سیمینار کے دوران سوال و جواب کا سیشن جاری تھا۔ طلبہ وطالبات کے سوالات ختم نہیں ہو رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے شدید ناراض ہیں، میں انہیں بار بار بتا رہا تھا کہ پاکستانی میڈیا بہت سی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ پابندیوں کا شکار ہے۔ ان پابندیوں کے باوجود میڈیا جتنا سچ سامنے لا سکتا ہے وہ لانے کی کوشش کرتا ہے جس کے سنگین نتائج بھی بھگتتا ہے۔سوالات کرنے والے سٹوڈنٹس کی اکثریت کا تعلق ماس کمیونیکیشن کے شعبے سے تھا۔ وہ پوچھ رہے تھے کہ انہیں صحافت کا پیشہ اختیار کرنا چاہئے یا نہیں ؟ میں انہیں بتا رہا تھا کہ میرے والد مرحوم پروفیسر وارث میر صحافت کے استاد تھے لیکن انہوں نے مجھے مشورہ دیا تھا کہ میں صحافی بننے کا خیال دل سے نکال دوں کیونکہ یہ بہت خطرناک شعبہ ہے۔ انہیں اپنی تحریروں کے باعث بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور سخت ذہنی دباؤ کے باعث وہ جنرل ضیاء الحق کے آمرانہ دور میں قلمی جنگ لڑتے ہوئے صرف 48 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

 

حامد میر بتاتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کے مشورے کیخلاف صحافت کے میدان میں قدم رکھا لیکن اس معاملے میں مجھے اپنی والدہ کے ساتھ ساتھ دادا کی تائید بھی حاصل تھی۔ میری باتیں سُن کر ایک طالبہ نے پوچھا کہ کیا آپ ہمیں مشورہ دے رہےہیں کہ ہم صحافی نہ بنیں؟ مجھے یہ سوال بہت ہی مشکل لگا۔ میں نے بڑے محتاط انداز میں کہا کہ میرے والد پروفیسر وارث میر کے دور میں بھی صحافت ایک خطرناک پیشہ تھا اور یہ آج بھی خطرناک ترین پیشوں میں سے ایک ہے۔ لیکن اگر آپ لوگ خطرات سے کھیلنا چاہتے ہیں تو پھر جان ہتھیلی پر رکھ کر صحافی بن جائیں لیکن ایسا کرتے ہوئے کسی سیاسی جماعت کے کارکن یا ریاستی ادارے کے ترجمان نہ بنیں۔ سوال و جواب کا سلسلہ طویل ہو رہا تھا ۔ میں نے طلبہ وطالبات سےگزارش کی کہ اب آخری سوال کریں۔ پچھلی نشستوں پر بیٹھے ایک طالب علم نے سوال کیا کہ زندگی کی کوئی ایسی غلطی جس پر آج بھی آپکو بہت پچھتاوا ہوتا ہے ؟ سوال سنتے ہی وہ غلطی میرے دل و دماغ میں بجلی کی طرح کودنے لگی جو آج بھی مجھے بہت نادم کر دیتی ہے ۔ میں نے اس غلطی کا اعتراف کرنے کیلئے جیسے ہی لب کھولے تو بجلی چلی گئی ۔

 

حامد میر بتاتے ہیں کہ سیمینار ہال میں اندھیرا چھا گیا اور مائیک بھی آف ہو گیا ۔ کچھ دیر تک انتظار کیا کہ شائد بجلی واپس آجائے لیکن بے صبرے طلبہ وطالبات نے اندھیرے کا فائدہ اُٹھا کر نعرہ بازی شروع کر دی۔ یونیورسٹی انتظامیہ ان نعروں سےگھبرا گئی اور مجھے سٹیج کے پیچھے سے باہر لے گئی ۔ جب میں واپس جانے کیلئے گاڑی میں سوار ہوا تو کچھ طلبہ نے مجھے روک کر کہا کہ آخری سوال بہت اہم تھا ہم اسکے جواب کا انتظار کرینگے ۔ میں نے پوچھا کہاں انتظار کرو گے ؟ ایک استاد نے لقمہ دیا کہ آپ اپنے کالم میں جواب دے دیجئے گا ۔ میں نے ہنستے ہوئے انہیں بتایا کہ میں نے جس غلطی کا اعتراف کرنا تھا وہ انتہائی غیر سیاسی تھی لیکن نوجوانوں کو بتانا بڑا ضروری ہے۔

 

حامد میر بتاتے ہیں کہ وہ غلطی یہ تھی کہ بچپن میں ہمارے ایک ماموں نے ہمیں ایک ایئرگن کا تحفہ دیدیا۔ ہم اس ایئر گن سے پرندوں کا شکار کرنے لگے۔ ہم تب نیو کیمپس لاہور میں رہائش پزیر تھے۔ والدہ اور والد بہت روکتے تھے لیکن میں چھپ چھپ کر تلیر اور جنگلی کبوتروں کا شکار کرنے لگا۔ پرندوں کا گوشت پکانے کا کام ہمارے ایک دوست ارشد لطیف کیا کرتے تھے کیونکہ گھر میں پرندوں کا گوشت لانا ممنوع تھا۔ جب ہم سکول سے کالج پہنچے تو ایسے دوست‎ مل گئے جو تیتروں اور مرغابیوں کے شکار کے شوقین تھے لیکن میں جلد ہی اس شوق سے تائب ہو گیا کیونکہ مجھے شکار کی گئی مرغابیوں کے ساتھ تصاویر کھنچوانے والے دوست بہت ظالم لگنے لگے۔

جیل میں عمران کوحق زوجیت دلوانے کی کوشش کس نے کی؟

حامد میر کہتے ہیں کہ میرے کچھ دوست ابھی تک پرندوں اور جانوروں کا شکار کرتے ہیں۔ وہ اپنا شوق جاری رکھیں لیکن مجھے بچپن میں ائر گن سے تلیر اور کبوتر مارنے پر آج بھی بہت ندامت ہے۔ اس اعتراف جرم کا مقصد یہ قطعاً نہیں کہ اُن غیر ملکی شہزادوں کی شان میں گستاخی کی جائے جو ہر سال پاکستان آکر سینکڑوں ہزاروں پرندوں کا شکار کرتے ہیں۔ مجھے تو تکلیف صرف اس بات کی ہے کہ جب ہم یورپ کے کسی شہر میں جاتے ہیں تو وہاں چوکوں چوراہوں پر پرندے انسانوں کے درمیان بلا خوف و خطر گھومتے نظر آتے ہیں لیکن پاکستان میں پرندے انسانوں سے دور بھاگتے ہیں۔ پاکستان میں تو انسان بھی انسانوں سے بہت ڈرتے ہیں لیکن یہاں پرندوں کا انسانوں سے ڈرنا ایک بے رحم معاشرے کا ثبوت ہے۔

 

اس میں شک نہیں کہ پاکستان میں پرندوں اور جانوروں سے محبت کرنیوالوں کی بھی کمی نہیں لیکن چند دن قبل سکھر کے علاقے صالح پٹ میں ایک مقامی جاگیردار کی طرف سے ایک اونٹنی کو ٹریکٹر کے ساتھ باندھ کر گھسیٹنے اور اُس کے منہ پر ڈنڈے مارنے کی خبر بہت تکلیف دہ تھی ۔ گزشتہ سال سانگھڑ کے ایک جاگیردار نے بھی اپنی فصلوں میں گھس جانیوالی ایک اونٹنی کی ٹانگ کاٹ دی تھی۔ سکھر میں اونٹنی پر ظلم کرنے والا شخص قربان بروہی گرفتار ہو گیا ہے لیکن وہ بہت جلد رہا ہو جائے گا ۔ پاکستان میں جانوروں پر ظلم و زیادتی کیخلاف قانون بہت کمزور ہے۔ جس معاشرے میں جانوروں پر ظلم کیا جاتا ہے اُس معاشرے میں انسان بھی انسانوں سے محفوظ نہیں رہتے۔ سمجھیےگا کہ آج کے پاکستان میں انسانوں پر ظلم کی مذمت مشکل ہو چکی۔ لہذا جب ہم جانوروں سے محبت کرنا سیکھ جائیں گے تو انسانوں سے بھی محبت کرنا سیکھ لیں گے۔ ہمیں ایک ایسا معاشرہ بنانا ہے۔

Back to top button