نیب 179 میگا سکینڈلز میں سزائیں دلوانے میں ناکام کیوں؟

قومی احتساب بیورو کی جانب سے سپریم کورٹ کے سامنے 179 ’’میگا کرپشن کیسز‘‘ کی فہرست پیش کیے جانے کو دس سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، لیکن ان مقدمات کا موجودہ انجام احتساب کے پورے نظام پر ایک بنیادی سوال کھڑا کرتا ہے کہ آخر ان میں سے کتنے مقدمات میں بدعنوانی کے الزامات عدالت میں ثابت ہوسکے؟ ایک دہائی قبل قومی احتساب بیورو نے سپریم کورٹ کے سامنے 179 مقدمات کی ایک فہرست پیش کی اور انہیں ’’میگا کرپشن کیسز‘‘ قرار دیا۔ ان مقدمات میں بڑے مالی اسکینڈلز، سیاسی شخصیات اور اہم اداروں سے متعلق تحقیقات اور ریفرنسز شامل تھے۔ نیب نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ ان مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر میرٹ اور شفافیت کے ساتھ تیزی سے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، لیکن تقریباً دس سال بعد سامنے آنے والا ریکارڈ کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جن مقدمات کو ایک دہائی قبل ’’میگا کرپشن‘‘ قرار دے کر سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیا گیا، ان میں کرپشن ثابت ہونے کی شرح اتنی کم کیوں رہی؟

خیال رہے کہ 179 کیسز میں سے بڑی تعداد نمٹائی جا چکی ہے، متعدد مقدمات اب بھی زیر سماعت ہیں، کچھ تحقیقات جاری ہیں، جبکہ قابلِ ذکر تعداد میں کیسز یا تو بند ہوگئے یا ملزمان بری ہوگئے۔ 2024 میں دستیاب نیب کے اعداد و شمار کے مطابق ان 179 مقدمات میں صرف 10 کیسز میں سزائیں ہوئی تھیں، جبکہ تقریباً 19 مقدمات بریت پر ختم ہوئے تھے۔ یوں سب سے بڑا سوال یہی بنتا ہے کہ جن مقدمات کو ریاست کے احتسابی ادارے نے ’’میگا کرپشن‘‘ قرار دے کر ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سامنے پیش کیا تھا، ان میں اتنی کم تعداد میں کرپشن عدالت میں کیوں ثابت ہوسکی؟

ناقدین کے مطابق 179 مقدمات کی یہ فہرست پہلی مرتبہ 2015 میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر پیش کی گئی تھی۔ اس وقت نیب نے ان کیسز کو 81 انکوائریز، 52 تحقیقات اور ٹرائل کے مرحلے میں موجود 46 ریفرنسز میں تقسیم کیا تھا۔

نیب نے اس وقت واضح کیا تھا کہ ان مقدمات کو انتہائی اہمیت حاصل ہے اور انہیں ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا۔ ادارے کی جانب سے یہ تاثر بھی دیا گیا کہ ان مقدمات کو شفافیت اور میرٹ کے ساتھ تیزی سے حتمی انجام تک پہنچایا جائے گا۔مگر تقریباً ایک دہائی بعد دستیاب ریکارڈ ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔

نیب کی ایک سابقہ سرکاری اپ ڈیٹ کے مطابق 179 کیسز میں سے 90 مقدمات نمٹائے جاچکے تھے، جبکہ 86 ریفرنسز عدالتوں میں زیر سماعت تھے اور 3 تحقیقات اب بھی جاری تھیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار حاصل کرنے کیلئے نیب سے رابطہ کیا گیا، تاہم مزید معلومات فراہم نہیں کی جاسکیں۔اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جون 2024 میں دستیاب نیب کے اعداد و شمار کے مطابق ان 179 کیسز میں صرف 10 مقدمات میں سزائیں ہوئی تھیں، جبکہ تقریباً 19 مقدمات بریت پر ختم ہوگئے تھے۔ اس وقت 87 ریفرنسز زیر سماعت جبکہ 85 مقدمات نمٹائے جاچکے تھے۔

یقیناً کسی مقدمے کا زیر سماعت ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ ملزم مجرم ہے یا بے گناہ۔ جب تک عدالت کسی شخص کے خلاف جرم ثابت نہ کردے، محض الزام کو جرم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن یہاں اصل سوال انفرادی مقدمات سے زیادہ اس پوری فہرست کی درجہ بندی کا ہے۔

اگر کسی کیس کو ریاست کا احتسابی ادارہ ’’میگا کرپشن کیس‘‘ قرار دے، اسے سپریم کورٹ کے سامنے پیش کرے اور اسے خصوصی ترجیح دینے کا اعلان کرے تو پھر اس کیس کا حتمی عدالتی نتیجہ اس درجہ بندی کی ساکھ جانچنے کا اہم پیمانہ ضرور بن جاتا ہے۔

نیب کی اپنی ویب سائٹ پر موجود اعداد و شمار بھی اس معاملے کی پیچیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اصل 81 انکوائریز میں سے 45 کو تحقیقات میں تبدیل کیا گیا، 6 کے نتیجے میں رضاکارانہ ادائیگی ہوئی جبکہ 30 انکوائریز بند، ضم یا کسی دوسرے مقام پر منتقل کردی گئیں۔

اسی طرح مجموعی طور پر 97 تحقیقات میں، جن میں انکوائریز سے تبدیل ہونے والی تحقیقات بھی شامل تھیں، 73 ریفرنسز دائر کیے گئے، 4 معاملات پلی بارگین کے ذریعے نمٹائے گئے جبکہ 17 کیسز بند کردیئے گئے۔

سیاسی نوعیت کے مقدمات اس صورتحال کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ 179 کیسز میں کئی بڑے سیاسی نام شامل تھے، تاہم ان میں سے بہت کم مقدمات سزا تک پہنچ سکے۔ متعدد کیسز میں ملزمان بری ہوگئے یا مقدمات ہی ختم کردیئے گئے۔یہی وہ مقام ہے جہاں احتساب کے پورے عمل سے متعلق ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے۔

ناقدین کے مطابق اگر الزامات اتنے سنگین تھے کہ انہیں ’’میگا کرپشن‘‘ کیسز قرار دیا گیا، تو پھر ان میں سے بڑی تعداد عدالت میں ثابت کیوں نہ ہوسکی؟اور اگر مقدمات میں شواہد اتنے مضبوط نہیں تھے کہ وہ سزا کی بنیاد بن سکتے، تو پھر انہیں ابتدا ہی میں ’’میگا کرپشن کیسز‘‘ کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت اور بنیاد کیا تھی؟یہ سوال صرف نیب کی کارکردگی تک محدود نہیں۔ اس کا تعلق اس طریقہ کار سے بھی ہے جس کے تحت کسی مقدمے کو بڑے کرپشن اسکینڈل کے طور پر عوام اور عدالت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔

کسی مقدمے کا نیب کی فہرست میں شامل ہوجانا بذاتِ خود کرپشن ثابت نہیں کرتا۔ الزام، انکوائری، تحقیق، ریفرنس اور سزا—یہ سب الگ الگ قانونی مراحل ہیں۔ آخری فیصلہ شواہد اور عدالت کے فیصلے کی بنیاد پر ہی ہوتا ہے۔اسی لیے دس سال سے زیادہ عرصے پر محیط 179 مقدمات کا ریکارڈ اب ایک جامع جائزے کا تقاضا کرتا ہے۔

پارلیمنٹ، عدلیہ اور خود نیب کیلئے یہ جاننا اہم ہے کہ 2015 میں ان مقدمات کو ’’میگا‘‘ قرار دینے کا معیار کیا تھا؟ ان کے وقت کون سے شواہد دستیاب تھے؟ کتنی رقم کی مبینہ کرپشن سامنے آئی؟ کتنی رقم حقیقتاً واپس حاصل کی گئی؟ کتنے مقدمات میں شواہد عدالت میں قابلِ قبول ثابت ہوئے؟ اور کتنے مقدمات صرف طویل قانونی کارروائی کے بعد بند یا بریت پر ختم ہوئے؟یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ احتسابی ادارے کی ساکھ صرف مقدمات کی تعداد سے نہیں بلکہ ان مقدمات کے معیار، شواہد کی مضبوطی اور حتمی نتائج سے بنتی ہے۔

179 میگا کرپشن کیسز کی ایک دہائی پر محیط داستان اس لیے محض ماضی کا حساب نہیں بلکہ مستقبل کے احتسابی نظام کیلئے ایک اہم سبق بھی ہے: کرپشن کے خلاف کارروائی صرف بڑے بڑے مقدمات بنانے کا نام نہیں، اصل کامیابی یہ ہے کہ مضبوط شواہد کی بنیاد پر مقدمہ عدالت میں ثابت ہو اور قانون کے مطابق فیصلہ سامنے آئے۔اب دس سال بعد بنیادی سوال یہی ہے کہ 179 ’’میگا کرپشن کیسز‘‘ میں آخر کتنی کرپشن ثابت ہوئی، کتنی رقم واپس آئی، اور کتنے مقدمات محض الزامات ثابت ہوکر رہ گئے؟

Back to top button