نئے صوبوں کی تشکیل، صدر زرداری اپنے موقف پر ڈٹ گئے

نئے صوبوں کی بحث ایک مرتبہ پھر ملکی سیاست کے اہم موضوعات میں شامل ہوگئی ہے، اور اس معاملے پر صدر آصف علی زرداری نے اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا واضح پیغام دے دیا ہے۔ لندن میں صدر زرداری اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات میں قومی اور موجودہ سیاسی صورتحال سمیت مختلف اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا، تاہم نئے صوبوں کی بحث کے تناظر میں صدر کا مؤقف خاص اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق صدر مملکت نے اس معاملے میں اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹنے کا پیغام دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں انتظامی ڈھانچے اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کرسکتی ہے۔
لندن میں صدر آصف علی زرداری سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ملاقات تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون گفتگو بھی ہوئی، جس میں اہم قومی معاملات اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ ایک مرتبہ پھر سیاسی بحث کا حصہ بنا ہوا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں سے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے کے مطالبات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ سیاسی جماعتوں کے درمیان بھی اس معاملے پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ ایسے میں صدر مملکت کی جانب سے اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا پیغام سیاسی طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے صدر مملکت کو قومی اور موجودہ سیاسی معاملات کے حوالے سے اہم پیغام بھی پہنچایا۔ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، اہم قومی امور اور مستقبل کے حوالے سے مختلف معاملات زیر بحث آئے۔ تاہم ذرائع نے ملاقات میں زیر بحث آنے والے تمام معاملات کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
نئے صوبوں کا معاملہ پاکستان کی سیاست میں نیا نہیں۔ ماضی میں بھی انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تعداد بڑھانے کی تجاویز سامنے آتی رہی ہیں، لیکن اس حوالے سے سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ کسی نئے صوبے کے قیام کیلئے نہ صرف سیاسی اتفاق رائے بلکہ آئینی اور قانونی مراحل بھی طے کرنا ضروری ہوتے ہیں، اس لیے یہ معاملہ محض سیاسی اعلان تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے دور رس انتظامی اور سیاسی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری کا نئے صوبوں کی بحث میں اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا پیغام اس لیے بھی اہم ہے کہ پیپلز پارٹی کی سیاست میں وفاقی اکائیوں، صوبائی خودمختاری اور انتظامی اختیارات کی تقسیم جیسے معاملات ہمیشہ اہم رہے ہیں۔ دوسری جانب ملک کے مختلف حصوں میں نئے صوبوں کے مطالبات اپنی اپنی سیاسی، انتظامی اور علاقائی وجوہات کے باعث سامنے آتے رہے ہیں۔
حالیہ ملاقات نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا نئے صوبوں کے معاملے پر حکومت اور سیاسی جماعتیں کسی مشترکہ لائحہ عمل کی طرف بڑھ رہی ہیں یا یہ بحث فی الحال سیاسی بیانات اور مشاورت تک محدود رہے گی۔ صدر زرداری اور محسن نقوی کے درمیان ملاقات میں اس موضوع کا زیر بحث آنا اس بات کا اشارہ ضرور ہے کہ معاملہ سیاسی سطح پر اہمیت رکھتا ہے۔
تاہم فی الحال یہ واضح نہیں کہ ملاقات کے نتیجے میں نئے صوبوں کے حوالے سے کوئی عملی پیش رفت سامنے آئے گی یا نہیں۔ اتنا ضرور ہے کہ صدر مملکت کی جانب سے اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا پیغام اس حساس سیاسی معاملے کو ایک مرتبہ پھر قومی سیاسی بحث کے مرکز میں لے آیا ہے۔ آنے والے دنوں میں سیاسی جماعتوں کا ردعمل اور حکومتی سطح پر ہونے والی مزید مشاورت اس معاملے کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
