کرپشن مخالف کارروائیاں، پنجاب حکومت بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالنے سے گریزاں کیوں؟

پنجاب میں کرپشن کے خلاف حکومت نے ایک بار پھر سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس اور محکمہ مال کے درجنوں اہلکار گرفتار یا معطل کیے جا چکے ہیں، اینٹی کرپشن سٹیبلشمنٹ کو خصوصی ٹاسک دے دیا گیا ہے اور سرکاری محکموں کے سربراہان کو بلاامتیاز کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔ بظاہر یہ اقدامات کرپشن کے خلاف حکومتی سنجیدگی کا اظہار ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا چند درجن اہلکاروں کے خلاف کارروائی سے ایک ایسے نظام میں بدعنوانی کا خاتمہ ممکن ہے جس پر برسوں سے کرپشن کے الزامات لگتے رہے ہیں؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر احتساب کا عمل نچلی سطح تک محدود رہا اور فیصلہ سازی کے بڑے مراکز، طاقتور افسران اور سیاسی اثرورسوخ بھی اس کے دائرے میں نہ آئے تو کریک ڈاؤن وقتی نتائج تو دے سکتا ہے، مگر کرپشن کی جڑیں ختم نہیں ہوں گی۔
مبصرین کے مطابق پنجاب میں سرکاری محکموں میں کرپشن کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے تمام سرکاری محکموں کے سربراہان اور پولیس حکام کو بدعنوان عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی ہدایت کی ہے، جبکہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو بھی کرپشن کے خاتمے کے لیے خصوصی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس ہدایت کے بعد گزشتہ چند دنوں کے دوران محکمہ پولیس اور محکمہ مال کے متعدد افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی، کئی افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ لاہور میں پولیس کے درجنوں اہلکاروں کو معطل کرکے محکمانہ کارروائی شروع کی گئی۔

اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کے ترجمان کے مطابق صوبے میں بدعنوان عناصر کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی گئی ہے، جس کے پہلے مرحلے میں محکمہ پولیس اور محکمہ مال کو توجہ کا مرکز بنایا گیا ہے۔ مختلف اضلاع میں سب انسپکٹرز، اسسٹنٹ سب انسپکٹرز، تحصیلداروں، نائب تحصیلداروں، پٹواریوں، ریکارڈ کیپرز اور دیگر ملازمین کو کرپشن کے الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے۔ لاہور میں بھی پولیس کے 37 اہلکاروں کو معطل کرکے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی گئی، جن میں 11 سب انسپکٹرز، 14 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز، 6 ہیڈ کانسٹیبل اور 6 کانسٹیبل شامل ہیں۔

ساہیوال میں ایک واقعے نے اس مسئلے کی ایک مختلف اور حیران کن تصویر بھی سامنے رکھی۔ پولیس کے مطابق ایک تھانے کے ایس ایچ او کو کرپشن کے الزام میں معطل کیے جانے کے بعد بعض اہلکاروں نے اسے پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے اور ہار پہنا کر رخصت کیا۔ اس واقعے پر مزید نو اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔ یہ واقعہ اس سوال کو مزید گہرا کرتا ہے کہ اگر کسی سرکاری ادارے کے اندر بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرنے والے افسر کے لیے ماتحت اہلکاروں کی جانب سے اس نوعیت کا ردعمل سامنے آئے تو مسئلہ صرف ایک فرد کی مبینہ کرپشن کا نہیں بلکہ ادارہ جاتی ماحول اور احتساب کے نظام کا بھی ہو سکتا ہے۔

پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ کرپشن کے خلاف کارروائی بلاامتیاز کی جائے گی اور کسی بھی سرکاری اہلکار کو اس کے عہدے یا حیثیت کی بنیاد پر رعایت نہیں دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے بھی سرکاری اداروں میں کرپشن کے حوالے سے سخت مؤقف سامنے آتا رہا ہے۔ چند روز قبل افسران سے خطاب میں ان کا یہ کہنا کہ سرکاری دفتر آنے والا شخص اپنی جیب خالی کرکے گھر پہنچتا ہے، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت کے نزدیک سرکاری اداروں میں مبینہ رشوت اور بدعنوانی ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکی ہے۔

یہ صورتحال صرف پنجاب تک محدود نہیں۔ پاکستان میں تقریباً ہر حکومت کے دور میں کرپشن کے خاتمے کو ایک اہم سیاسی اور انتظامی ترجیح قرار دیا جاتا رہا ہے۔ وفاقی سطح پر قومی احتساب بیورو اور صوبائی سطح پر اینٹی کرپشن کے ادارے بھی اسی مقصد کے لیے قائم کیے گئے، لیکن اس کے باوجود کرپشن کے خاتمے کا ہدف حاصل نہیں ہو سکا۔ مختلف ادوار میں اعلیٰ سیاسی شخصیات، بیوروکریٹس اور سرکاری افسران پر اختیارات کے ناجائز استعمال، آمدن سے زائد اثاثوں اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ موجودہ کریک ڈاؤن کے ساتھ سب سے بنیادی سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا کرپشن کے خلاف کارروائی صرف نچلی سطح کے ملازمین تک محدود رہے گی یا احتساب کا دائرہ اوپر تک بھی جائے گا۔ ماہرین کے مطابق ایک ایسے نظام میں جہاں اختیارات کے استعمال کے مختلف مراحل پر کرپشن کے امکانات موجود ہوں، صرف پٹواری، کانسٹیبل، کلرک یا ماتحت افسر کو گرفتار کرنا مسئلے کا مکمل حل نہیں ہو سکتا۔ اگر کسی بڑے مالیاتی اسکینڈل میں اربوں روپے کے نقصان کا الزام ہو تو اس کے اصل ذمہ داروں، فیصلہ سازوں اور مالی فائدہ اٹھانے والوں تک پہنچنا ہی مؤثر احتساب کی اصل کسوٹی ہے۔

سابق سرکاری افسر یاور مہدی کے مطابق کرپشن نے سرکاری نظام کو اندر سے کمزور کر دیا ہے اور صرف کارروائیاں اس مسئلے کو ختم نہیں کر سکتیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ماضی میں بھی متعدد حکمرانوں اور اعلیٰ افسران کے خلاف کرپشن کے سنگین الزامات اور مقدمات سامنے آئے، لیکن بڑے پیمانے پر رقوم کی واپسی اور مستقل احتساب کے حوالے سے نتائج ہمیشہ سوالات کی زد میں رہے ہیں۔ ان کے مطابق جب بھی عوام کو یہ تاثر دینے کے لیے کارروائی شروع کی جاتی ہے کہ حکومت کرپشن کے خلاف سنجیدہ ہے تو اکثر گرفتاریوں کا دائرہ چھوٹے ملازمین تک محدود رہ جاتا ہے، جبکہ بڑے مالیاتی معاملات کے اصل کردار منظر سے غائب رہتے ہیں۔

اس تنقید کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کرپشن کو صرف رشوت لینے والے اہلکار کے مسئلے کے طور پر دیکھا جائے یا اسے پورے انتظامی نظام کی خرابی سمجھا جائے۔ اگر ایک شہری کو معمولی سرکاری کام کے لیے کئی دفاتر کے چکر لگانے پڑیں، فائل جان بوجھ کر روک دی جائے اور اختیارات کو غیر ضروری رکاوٹ پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو ایسے ماحول میں رشوت کا راستہ خود بخود کھل جاتا ہے۔ اس لیے کرپشن کے خاتمے کے لیے صرف سزا نہیں بلکہ طریقہ کار کو آسان، شفاف اور قابلِ نگرانی بنانا بھی ضروری ہے۔

خصوصاً محکمہ مال، پولیس، تعمیرات، بلدیاتی اداروں اور ایسے دیگر محکموں میں جہاں شہری کا براہ راست واسطہ سرکاری اہلکار سے پڑتا ہے، اختیارات اور فیصلوں کو زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل بنانے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ اگر درخواست، منظوری، فیس، زمین کے ریکارڈ، مقدمے کی پیش رفت یا کسی سرکاری اجازت نامے کا پورا عمل آن لائن اور قابلِ نگرانی ہو تو اہلکار اور شہری کے درمیان غیر ضروری رابطہ کم کیا جا سکتا ہے۔ یوں رشوت کے مواقع بھی محدود کیے جا سکتے ہیں۔

اسی طرح مؤثر احتساب کے لیے صرف گرفتاری کافی نہیں۔ کسی اہلکار کے خلاف الزام ثابت ہونے، عدالتی کارروائی مکمل ہونے، مالی نقصان کی وصولی اور مستقبل میں دوبارہ ایسے واقعات کی روک تھام تک پورا نظام مؤثر ہونا چاہیے۔ اگر ایک شخص گرفتار ہو، کچھ عرصے بعد ضمانت پر رہا ہو جائے اور معاملہ طویل قانونی کارروائی میں چلا جائے تو اس سے دوسرے اہلکاروں کے لیے وہ خوف پیدا نہیں ہوتا جو مستقل اور یقینی احتساب سے پیدا ہو سکتا ہے۔

ماہرین کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ اگر کسی ادارے کے اندر برسوں سے کرپشن جاری ہو تو اس کے ذمہ دار صرف وہ چند اہلکار نہیں ہو سکتے جو حالیہ کارروائی میں پکڑے گئے ہیں۔ ادارے کے اندر نگرانی کرنے والے افسران، شکایات وصول کرنے والے حکام اور داخلی احتساب کے نظام کی کارکردگی کا جائزہ بھی ضروری ہے۔ اگر ایک ہی نوعیت کی شکایات مسلسل سامنے آ رہی ہوں تو یہ سوال بھی پوچھنا ہوگا کہ متعلقہ افسران نے بروقت کارروائی کیوں نہیں کی۔

کرپشن کے خلاف کارروائی میں سیاسی اثرورسوخ کا تاثر بھی ختم کرنا ہوگا۔ اگر احتساب صرف حکومت مخالف یا کمزور افراد کے خلاف کارروائی تک محدود سمجھا جائے تو عوام کا اعتماد بحال نہیں ہوگا۔ مؤثر احتساب وہی تصور کیا جائے گا جو سیاسی وابستگی، عہدے، تعلقات اور اثرورسوخ سے بالاتر ہو اور جس میں حکومتی اداروں کے اندر موجود طاقتور افراد بھی اسی معیار کے تحت جواب دہ ہوں جس معیار پر ایک عام سرکاری ملازم کو جواب دینا پڑتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ کم آمدن والے سرکاری ملازمین کے لیے مالی دباؤ، کم تنخواہ اور مستقبل کے معاشی تحفظ کے مسائل بدعنوانی کی ایک وجہ بن سکتے ہیں، لیکن صرف کم تنخواہ کو کرپشن کا جواز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دوسری طرف اعلیٰ عہدوں پر موجود ایسے افسران یا بااثر افراد کے خلاف کارروائی بھی ضروری ہے جن کے پاس بہتر تنخواہیں، مراعات اور اختیارات ہونے کے باوجود مبینہ طور پر غیر قانونی دولت جمع کرنے کے الزامات سامنے آتے ہیں۔ اس لیے احتساب کا معیار عہدے کے مطابق نہیں بلکہ جرم اور شواہد کے مطابق ہونا چاہیے۔

پنجاب حکومت کی حالیہ کارروائیاں اس لحاظ سے اہم ہیں کہ کم از کم سرکاری اداروں میں کرپشن کے خلاف ایک واضح پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر گرفتاریاں اور معطلیاں صرف وقتی مہم نہ رہیں بلکہ مستقل ادارہ جاتی اصلاحات، شفاف تفتیش، تیز قانونی کارروائی، مالیاتی ریکوری اور ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کے ساتھ جوڑ دی جائیں تو ان کے نتائج زیادہ دیرپا ہو سکتے ہیں۔

اصل امتحان اب یہ نہیں کہ کتنے اہلکار گرفتار ہوئے یا کتنے معطل کیے گئے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کرپشن کے ان محرکات کو ختم کر پائے گی جو شہری اور سرکاری اہلکار کے درمیان غیر ضروری اختیارات، پیچیدہ طریقہ کار اور کمزور نگرانی کے ذریعے پیدا ہوتے ہیں؟ کیا بڑے مالیاتی اسکینڈلز میں مبینہ طور پر ملوث افراد تک بھی قانون پہنچے گا؟ کیا سرکاری اداروں کے سربراہان سے بھی جواب طلبی ہوگی کہ ان کے ماتحت محکموں میں بدعنوانی کیسے جاری رہی؟ اور کیا سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر احتساب کا یکساں معیار قائم کیا جا سکے گا؟

اگر ان سوالات کا جواب عملی اقدامات کی صورت میں سامنے آتا ہے تو موجودہ کریک ڈاؤن پنجاب میں کرپشن کے خلاف ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر کارروائی چند چھوٹے اہلکاروں کی گرفتاری، معطلی اور چند روزہ مہم تک محدود رہی تو ماضی کی طرح اس کے اثرات بھی عارضی ہونے کا خدشہ رہے گا۔ کرپشن ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے نظام کی بیماری ہے، اور اس کا مستقل علاج گرفتاری سے زیادہ یقینی احتساب، شفاف نظام، مؤثر نگرانی، فوری انصاف اور بلاامتیاز سزا و جزا میں پوشیدہ ہے۔

Back to top button