عمران خان کی رہائی، زیک گولڈ سمتھ کو دولت مشترکہ کا منہ توڑ جواب

عمران خان کا معاملہ ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ برطانیہ کے سابق وزیر، ایوانِ بالا کے رکن اور عمران کان کے سابقہ سالے لارڈ زیک گولڈ سمتھ نے دولتِ مشترکہ کے سیکریٹری جنرل سے سابق وزیراعظم عمران خان کے معاملے پر حکومتِ پاکستان سے بات کرنے اور تنظیم کے انسانی حقوق کے چارٹر کے تحت اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی، تاہم دولتِ مشترکہ کی جانب سے ملنے والے جواب نے انہیں شدید مایوس کردیا۔ زیک گولڈ اسمتھ نے تنظیم کے ردعمل کو ’’شرمناک‘‘ قرار دیتے ہوئے شکوہ کیا کہ سیکریٹری جنرل نے مہذب انداز میں یہ بتا دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں کچھ نہیں کر رہے۔
زیک گولڈ اسمتھ کے مطابق انہوں نے دولتِ مشترکہ کے سیکریٹری جنرل سے اپیل کی تھی کہ وہ عمران خان کے معاملے پر حکومتِ پاکستان سے نمائندگی کریں۔ ان کا مؤقف تھا کہ دولتِ مشترکہ کے اپنے انسانی حقوق کے اصول اور چارٹر ایسے معاملات میں تنظیم کو اپنا کردار ادا کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔
تاہم دولتِ مشترکہ کی جانب سے ملنے والے جواب نے برطانوی سیاست دان کو مطمئن کرنے کے بجائے مزید مایوس کردیا۔ زیک گولڈ اسمتھ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں تنظیم کے ردعمل پر سخت تنقید کی اور کہا کہ انہیں جس جواب کا سامنا کرنا پڑا، اس کا بنیادی مفہوم یہی تھا کہ دولتِ مشترکہ اس معاملے میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھا رہی۔
زیک گولڈ اسمتھ کی جانب سے دولتِ مشترکہ سے مداخلت کی اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عمران خان کی گرفتاری، مقدمات اور سیاسی مستقبل کا معاملہ پاکستان کی داخلی سیاست کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک بھی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ عمران خان کے حامی مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خلاف مقدمات اور قانونی کارروائی سیاسی نوعیت کی ہے، جبکہ حکومت اور متعلقہ ریاستی ادارے ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔
اس تنازع میں بین الاقوامی شخصیات اور اداروں کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات اس معاملے کو مزید عالمی توجہ فراہم کرتے ہیں۔ زیک گولڈ اسمتھ کا حالیہ مؤقف بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس میں انہوں نے دولتِ مشترکہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کا حوالہ دیتے ہوئے تنظیم سے عملی کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
تاہم دولتِ مشترکہ کا ردعمل یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ ایسے معاملات میں عالمی اور بین الاقوامی تنظیموں کی عملی حدود کیا ہیں۔ کسی رکن ملک کے اندر جاری سیاسی یا عدالتی معاملے میں براہِ راست مداخلت کرنا آسان نہیں ہوتا، خصوصاً جب معاملہ ملکی عدالتوں اور قانونی نظام سے متعلق ہو۔ اسی لیے بین الاقوامی تنظیمیں اکثر تشویش، سفارتی رابطے یا اصولی مؤقف تک محدود رہتی ہیں۔
زیک گولڈ اسمتھ نے تاہم اس طرزِ عمل کو ناکافی قرار دیا ہے۔ ان کی ناراضی کی بنیادی وجہ یہی دکھائی دیتی ہے کہ انہوں نے دولتِ مشترکہ سے محض ایک رسمی ردعمل کے بجائے عمران خان کے معاملے میں عملی سفارتی کردار کی توقع کی تھی۔
یہ معاملہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ دولتِ مشترکہ کے انسانی حقوق کے اصول اور رکن ممالک میں جمہوری اقدار اس تنظیم کے بنیادی حوالوں میں شامل ہیں۔ چنانچہ زیک گولڈ اسمتھ کا سوال یہ ہے کہ اگر انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کا حوالہ تنظیم کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے تو پھر کسی رکن ملک میں پیدا ہونے والے ایسے متنازع سیاسی اور قانونی معاملے پر تنظیم کی ذمہ داری کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہوتی ہے۔
دوسری جانب دولتِ مشترکہ کے ردعمل سے یہ تاثر سامنے آتا ہے کہ تنظیم عمران خان کے معاملے میں براہِ راست مداخلت سے گریزاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیک گولڈ اسمتھ نے نہ صرف اپنے ردعمل میں مایوسی کا اظہار کیا بلکہ تنظیم کے طرزِ عمل کو ’’شرمناک‘‘ بھی قرار دیا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان کے معاملے پر عالمی سطح سے اٹھنے والی یہ آوازیں کس حد تک آگے بڑھتی ہیں اور کیا دولتِ مشترکہ مستقبل میں اس معاملے پر کوئی عملی یا سفارتی قدم اٹھاتی ہے، یا یہ معاملہ بیانات اور سفارتی اپیلوں تک ہی محدود رہتا ہے۔ فی الحال زیک گولڈ اسمتھ کی جانب سے دولتِ مشترکہ کے ردعمل پر سخت مایوسی نے عمران خان کے معاملے کو ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی سیاسی بحث میں نمایاں کردیا ہے۔
