گلگت میں ہونے والے الیکشن سے بھارت کو تکلیف کیوں؟

گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات نے نہ صرف داخلی سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرینہ سفارتی کشیدگی کو بھی دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔ بھارت کی جانب سے ان انتخابات کو "غیر قانونی” قرار دینے کے بعد پاکستان نے اسے "مضحکہ خیز اور حقائق کے منافی بیانیہ” کہہ کر سختی سے مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر جموں و کشمیر کے وسیع تنازع کے تناظر میں عالمی توجہ حاصل کر رہا ہے۔
خیال رہے کہ بھارت نے گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں غیر قانونی قرار دیا ہے اور اپنے دیرینہ مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر، لداخ اور گلگت بلتستان اس کا "اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصہ” ہیں۔ نئی دہلی کے مطابق 1947 کے الحاق کے بعد یہ تمام علاقے بھارت کے قانونی دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اور ان میں کسی بھی قسم کی آئینی یا سیاسی تبدیلی کو وہ تسلیم نہیں کرتا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی جانب سے ان علاقوں میں انتخابی عمل یا انتظامی تبدیلیاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، سیاسی دباؤ اور مبینہ معاشی استحصال جیسے مسائل کو چھپا نہیں سکتیں۔ بھارت نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ان علاقوں سے "غیر قانونی قبضہ” ختم کرے اور تمام یکطرفہ اقدامات واپس لے۔

اس کے برعکس پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھارتی بیان کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت "جعلی بیانیوں اور منظم پروپیگنڈا” کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلام آباد کے مطابق بھارت کا مؤقف نہ صرف تاریخی طور پر متنازع ہے بلکہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے بھی خلاف ہے۔پاکستان نے اپنے مؤقف میں واضح کیا کہ جموں و کشمیر ایک متنازع خطہ ہے جس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ پاکستان کے مطابق کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دیا جانا ضروری ہے، اور بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کے بعد کیے گئے تمام یکطرفہ اقدامات کو واپس لینا چاہیے۔ پاکستان نے یہ بھی کہا کہ بھارت کو انسانی حقوق کی صورتحال پر توجہ دینی چاہیے اور بین الاقوامی مبصرین کو زمینی حقائق تک رسائی دینی چاہیے۔

دوسری جانب گلگت بلتستان میں انتخابی سرگرمیاں زوروں پر ہیں، جہاں 7 جون کو انتخابات منعقد ہونا طے ہیں۔ خطے کے دس اضلاع کی 24 جنرل نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے جبکہ مجموعی طور پر 396 امیدوار میدان میں ہیں جن میں آٹھ خواتین بھی شامل ہیں۔مقامی شہریوں، خصوصاً نوجوان ووٹرز، کے مطابق علاقے کو بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔ 20 سالہ ووٹر کاظم نقوی جیسے نوجوانوں نے کہا ہے کہ علاقے میں پینے کے صاف پانی کی کمی، روزگار کے محدود مواقع، اور صحت و تعلیم کے ناقص نظام جیسے مسائل سب سے زیادہ اہم ہیں۔ ان کے مطابق سابق حکومتوں نے وعدے تو بہت کیے مگر عملی اقدامات کم نظر آئے۔

انتخابی مہم کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت، بشمول نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری، علاقے میں سرگرم رہی اور جلسوں سے خطاب کیا۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کو بطور منظم جماعت حصہ لینے میں مشکلات کا سامنا رہا اور اس نے لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کے الزامات عائد کیے۔

مبصرین کے مطابق انتخابی ماحول میں سیاسی کشیدگی بھی نمایاں ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور اس کے حمایت یافتہ امیدواروں نے الزام لگایا کہ انہیں انتخابی مہم میں رکاوٹوں کا سامنا ہے اور بعض رہنماؤں کو علاقے سے باہر نکالا گیا۔ اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابی فہرستوں اور ترقیاتی منصوبوں کے اعلان پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس کے برعکس الیکشن کمیشن اور حکومتی نمائندوں نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو برابر مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔ گلگت بلتستان الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی ضابطہ اخلاق سب پر یکساں لاگو ہے اور کسی جماعت کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا رہا۔

انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جن میں مختلف صوبوں کی پولیس، رینجرز اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار شامل ہیں۔ حکام کے مطابق مقصد صرف یہ ہے کہ انتخابی عمل شفاف، پرامن اور منظم طریقے سے مکمل ہو۔گلگت بلتستان پولیس کے سربراہ اکبر ناصر خان کے مطابق مجموعی طور پر 17 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔


تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال صرف ایک انتخابی عمل نہیں بلکہ ایک بڑے جغرافیائی و سیاسی تنازع کا حصہ ہے۔ ایک طرف بھارت اپنے مؤقف کو دہراتا ہے کہ یہ علاقے اس کا حصہ ہیں، جبکہ دوسری طرف پاکستان انہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق متنازع قرار دیتا ہے۔لیکن ان تمام بیانیوں کے درمیان اصل مسئلہ خطے کے عوام کے بنیادی مسائل ہیں جو سیاسی کشمکش کے سائے میں مسلسل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔

Back to top button