پاکستان بہتر بنانے کے لیے ہائبرڈ نظام کا خاتمہ کیوں ضروری ہے؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ اگرچہ زیادہ تر لوگ موجودہ ہائبرڈ نظام کو چلانے کی حمایت کرتے ہیں مگر ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اس نظام کو پاکستان اور فوج دونوں کیلئے ناجائز بوجھ  قرار دیتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ اگر اس بوجھ کو اتار پھینکا جائے تو ملک کو ذیادہ بہتر طور پر چلایا جا سکتا ہے۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ہر طرف کنفیوژن ہے، ویژن کہیں نظر نہیں آرہا۔ ہماری اپوزیشن بھی کنفیوژڈ، حکومت بھی کنفیوژڈ اور عوام بھی کنفیوژڈ ہیں۔ اپوزیشن بند گلی میں جا رہی ہے، اسکے لیے امید اور کامیابی کے آپشنز ایک ایک کر کے بند ہو رہے ہیں۔ اب کوئی انہونی یا کوئی کرشمہ ہی اپوزیشن کی واحد امید ہے۔ دوسری طرف حکومت کو معاشی استحکام مل رہا ہے۔ بھارت سے جنگ میں کامیابی کے بعد اسے عوامی سپورٹ بھی مل گئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود کنفیوژن ابھی تک برقرار ہے۔ پی ٹی آئی اور اس کے بانی کا مستقبل ہو یا پھر نون لیگ کی جانب سے اپنی مقبولیت بحال کرنے کی کوشش ہو، دونوں ایشوز پر گہری دھند اور دھواں چھایا ہوا ہے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن کے اس دو طرفہ کنفیوژن سے عوامی سطح پر بھی کنفیوژن ہے۔ حکومت اور فوج کے حامی تاجر اور صنعت کار تیز تر معاشی تبدیلیوں کی توقع کرتے ہیں مگر فی الحال اس کے آثار نظر نہیں آتے۔ اس لئے یہ لابی حکومت کو مختلف تجاویز اور مشورے دے رہی ہے۔ کوئی ایکسپورٹ بڑھانے کی تجویز دے رہا ہے تو کوئی ٹیکسوں کے نظام میں مکمل اصلاح کی بات کر رہا ہے، کوئی ملک میں فرقہ بندی کے مکمل خاتمے کیلئے سخت ترین ضابطے رائج کرنے کو بہتری کا راستہ سمجھتا ہے، اسی طرح حکومت کے لبرل حامی یہ تصور کرتے ہیں کہ مذہبی سخت گیری ختم کر کے 1979 سے پہلے جیسا معتدل اور متوازن ماحول قائم کیا جائے، دوسری طرف حکومت کے حامی مذہبی حلقے پاکستان کو مزید اسلامی رنگ دینے اور غزہ کے مسلمانوں کی عملی مدد نعرے کرنےکےلگا رہے ہیں، ایک معروف بزنس مین نے تو چڑ کر یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اگر فوج اقتدار سنبھال لے تو معیشت فوری طور پر بہتری کے راستے پر گامزن ہو جائے گی۔

سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگ اسی ہائبرڈ نظام کو چلانے کی حمایت کرتے ہیں مگر کئی اس سیاسی نظام کو ملک اور فوج دونوں کیلئے ایک ناجائز بوجھ قرار دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ بوجھ اتار کر پاکستان ذیادہ بہتر طور پر چلایا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن کا حال حکومت سے بھی بُرا ہے۔ اس کی فوج سے لڑائی ہے، اور اب اسے عدلیہ سے کوئی مدد مل نہیں رہی۔ عوامی مقبولیت کے باوجود قبولیت نہ ہونے کی وجہ سے عوام احتجاج کے لئے باہر نکلنے کو تیار نہیں۔ پارٹی مکمل طور پر انتشار کا شکار ہے۔ ساری قیادت بداعتمادی کا شکار ہے، کوئی ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں۔ پارٹی کی قیادت اپنوں ہی کے حملوں سے بے اثر اور بے عزت ہو چکی ہے۔

عمران کا کون سا جرم فوجی قیادت کیلئے ناقابل معافی ہے؟

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ علیمہ خان روز بروز طاقت پکڑ رہی ہیں مگر عمران خان کے لئے بشری بی بی کی اہمیت اب بھی اپنی بہنوں سے کہیں زیادہ ہے، اور سب کو علم ہے کہ بشریٰ بی بی اور علیمہ کی آپس میں بنتی ہی نہیں۔ غرضیکہ اندھیرے غار میں دور دور تک چراغ کی روشنی بھی نظر نہیں آرہی۔ مکمل کنفیوژن ہے۔ عوامی سطح پر بھی کنفیوژن ہے کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اگلے چھ ماہ یا سال، کے بعد کی سیاست اور معیشت کیا ہوگی؟ ہر طرف افواہیں ہیں یوٹیوبرز یہ افواہیں بڑی منصوبہ بندی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کا ایک تھیسس غلط ثابت ہوتا ہے تو وہ دوسرا ایشو بنا کر جھوٹی امیدیں کھڑی کر دیتے ہیں ۔عوامی حوصلہ و برداشت بھی اتنا زیادہ ہے کہ افواہوں کے بار بار جھوٹا ثابت ہونے کے باوجود انسانی جبلت کے تحت عوام ایک نئی افواہ اور نئی جھوٹی امید کے پیچھے پھر سے بھاگ پڑتے ہیں، یعنی ادھر بھی مکمل کنفیوژن ہے۔

سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ اس کنفیوژن کو صرف اور صرف ویژن سے دور کیا جا سکتا ہے۔ طاقت ور اور عملی بیانیے، قابل عمل نعروں، خوش نما اور برآتی ہوئی امیدوں سے ہی کنفیوژن سے نکلا جاسکتا ہے۔ مغربی سیاسی نظام ہو یا تعلیمی نظام اس میں ہر بات یقینی ہوتی ہے۔ غیر یقینی واقعات و حالات سے بچنے کا ایک طریق کار وضع ہوتا ہے۔ امریکہ میں انتخابات کے لئے نومبر کا مہینہ پہلا منگل وار طے ہے۔ تعلیمی نظام کا کیلنڈر پہلے سے جاری ہوتا ہے چھٹیاں کب ہوں گی اور امتحانات کب؟ سب کچھ پہلے طے ہوجاتا ہے اور پھر اُس سے سرِمُو انحراف نہیں کیا جاتا۔ اس طریق کار کو مستقبل کا ویژن کہتے ہیں ایسے ویژن کی موجودگی میں کنفیوژن پیدا ہونے کا دور دور تک امکان ہی پیدا نہیں ہوتا۔کسی بھی ملک کو آگے چلانے کیلئے مستقبل کا ٹھوس لائحہ عمل طے ہونا اشد ضروری ہے۔ معروف صنعتکار گوہر اعجاز کی سربراہی میں ایک تھنک ٹینک نے اس حوالے سے ایک تحقیق کی ہوئی ہے۔ معیشت کو چلانے کیلئے تاجروں اور صنعتکاروں سے بہتر کوئی ممدو معاون نہیں ہو سکتا۔ وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اور وفاقی وزیر خزانہ اورنگ زیب بھی زیرک اور تجربہ کار ہیں۔ لہذا صنعت کاروں اور وزارت خزانہ کے باہم مشورے اور فوج کی سرپرستی میں ایک ٹھوس ماڈل سامنے آنا چاہئے تاکہ سیاست، معیشت اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے موجود کنفیوژن دور کی جا سکے۔ اسکا بہترین طریقہ یہ ہے کہ مذہبی، سیاسی اور تجارتی فالٹ لائنز کو دور کیا جائے۔ اسکے بعد قومی ترجیحات پر مبنی ویژن دیا جائے۔ جب ویژن پاپولر ہوگا تو کنفیوژن ختم ہو گی اور مایوسی کے بادل چھٹ جائیں گے۔ یوں امید اور خوش حالی کا راستہ کھلتا چلا جائے گا۔

Back to top button