عمران کا کون سا جرم فوجی قیادت کیلئے ناقابل معافی ہے؟

پچھلے دو برس سے اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کو معافی ملنا اسلیے ممکن نہیں کہ مسئلہ صرف ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا نہیں۔ مسئلہ ان شہیدوں کی یادگاروں کا ہے جنہیں 9 مئی 2023 کو عمران خان کے ایما پر توڑ پھوڑ کے بعد نذر آتش کر دیا گیا۔ 9 مئی کے روز ہدف نہ تو میاں نواز شریف تھا اور نہ ہی آصف علی زرداری۔ یہ جرم شہیدوں کے ساتھ کیا گیا۔ فوج بہت کچھ معاف کر سکتی ہے۔ وہ شاید کور کمانڈرز کے گھروں پر ہونے والے حملے بھی بھول جائے اور جی ایچ کیو کے گیٹ سے لٹکتے انصافی غنڈوں کو بھی بھلا دے، لیکن فوجی شہداء کی یادگاروں کو نذر آتش کرنے کا جرم فوج سے بھلایا نہیں جا رہا۔ اس آگ کی تپش آج بھی فوجی قیادت کو اپنے سینے پر محسوس ہوتی ہے لہٰذا عمران کو اس سنگین جرم پر معافی دیے جانے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔
سینیئر صحافی اور لکھاری عمار مسعود اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کوئی بھی صاحبِ عقل اڈیالہ جیل کے باہر عمران کی بہن علیمہ خان کو انڈے مارنے کی توصیف نہیں کر سکتا۔ یہ ایک شرمناک عمل تھا اور سابق وزیر اعظم کی بہن کی سربازار توہین کا معاملہ تھا جس پر سب کو اظہار افسوس کرنا چاہیے۔ اس عمل کی تادیب ہونی چاہیے۔ ایسا کرنے والوں کو گرفتار کر کے انہیں سخت سزا دینی چاہیے تاکہ آئندہ کسی کو ایسی قبیح حرکت کی جرات نہ ہو۔ سیاست میں خواتین کو دھمکانے کا یہ رذیل طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔ یہ تو وہ بات ہو گئی جو سب کو کہنی چاہی مگر کچھ بات وقت کی بھی ہو جائے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ وقت بہت ظالم ہوتا ہے۔ ماضی کی غلطیوں سے اس طرح پردہ اٹھاتا ہے کہ آپ خود ششدر رہ جاتے ہیں۔ وقت لحاظ نہیں کرتا کہ اب آپ کس حال میں ہیں۔ آپ پر کیا گزر رہی ہے۔ حالات ایسے ہوں کہ آپ پر ترس آ رہا ہو مگر وقت ایسے میں ترس نہیں کھاتا بلکہ پوری شدت سے وہ سبق یاد کرواتا ہے جو آپ ہی نے لکھے تھے۔ وہ تاریخ دوہراتا ہے جس کے مورخ آپ تھے۔ وہ نوشتہ دیوار پڑھواتا ہے جس کے راقم آپ خود تھے۔
عمار مسعود یاد دلاتے ہیں کہ یہی ملک تھا، یہی لوگ تھے، یہی زمانہ تھا۔ چند برس پہلے کی بات ہے۔ اس وقت کچھ لوگوں پر عمران خان کو وزیر اعظم بنوانے کی ہوس طاری تھی۔ اس ہوس میں انہوں نے اس ملک، اس سماج، اس سیاست اور اس جمہوریت کے ساتھ جو سلوک روا رکھا وہ آج ڈراؤنے خواب کی طرح ان کے سامنے آ رہا ہے۔ اس زمانے میں نواز شریف سسٹم کا سب سے بڑا دشمن تھا اور عمران خان سسٹم کا سب سے چہیتا تھا۔ اس زمانے میں وقت نے جس طرح اس ملک کی سیاست کے منہ پر کالک ملی وہ ناقابل تلافی ہے۔ یہ اسی زمانے کی بات تھی جب ڈان لیکس کے ذریعے نواز شریف کو ملک کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا گیا۔ اس بات پر مہینوں پروگرام ہوتے رہے کہ نواز شریف کی نادیدہ فیکٹریوں میں سینکڑوں نادیدہ بھارتی ایجنٹ کام کرتے ہیں۔ کرپشن کا ہر الزام ان پر لگا۔ نفرت کا ہر پیغام ان کے نام ہوا۔ یہ تک ہوا کہ شریف خاندان جو ایک مذہبی خاندان کے نام سے جانا جاتا ہے، اس پر کفر کے فتوے بھی لگ گئے۔ بدقسمتی سے یہ فتوے انہوں نے لگائے جن کا اپنا ایمان اسلامی ٹچ تک محدود تھا۔
عمار مسعود کے مطابق تحریک انصاف کی بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اس نے جو بویا، اسے وہی کاٹنا پڑ رہا ہے۔ اس کا المیہ یہ ہے کہ اسے اپنی بوئی فصل کی کٹائی میں زیادہ وقت بھی نہیں لگا۔ ہمارے سامنے کی بات ہے، ابھی حال ہی میں تحریک انصاف کے غنڈے ہر کسی کی عزت کا جنازہ ٹی وی سکرینوں اور سوشل مِیڈیا پر نکالتے تھے۔ ان کے خلاف کسی کو بات کرنے کی جرأت نہیں تھی۔ حالات اتنےسنگین تھے کہ کسی کو عثمان بزدار تک پر بھی تنقید کی جرأت نہیں تھی۔ آج آزادی اظہار کا ماتم کرنے والوں کو شاید وہ وقت یاد نہ ہو، مگر وقت کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو یاد کرواتا ہے۔ جو باتیں آپ بھول بھی جانا چاہیں انہیں آپ کے سامنے لاتا ہے۔ اس زمانے میں نواز شریف کا نام ٹی وی پر لینا جرم تھا۔ ان کے حق میں بات کرنا ملک دشمنی تھا۔
علیمہ خان نے گندا انڈا کھانے کا غصہ صحافیوں پر کیوں نکالا؟
تحریک انصاف کے اکثر لوگ آج کل حالات کی ستم ظریفی کا تذکرہ کرتے ہیں۔ جبر کے موسم کی بات کرتے ہیں۔ انہیں اس بات کا رتی بھر ادراک نہیں ہوتا کہ ابھی تو اس کام کی ابتدا ہوئی ہے جس کی انتہا تحریک انصاف کر چکی ہے۔ ابھی تو ’مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں‘۔ ابھی ظلم کی انتہا نہیں ہوئی، ابھی تو اس ظلم کی صرف ابتدا ہوئی ہے جو تحریک انصاف نے روا رکھا تھا۔ عمار مسعود کہتے ہیں کہ دیکھیں! ابھی کسی کے چہرے پر سیاہی نہیں پھینکی گئی، ابھی کسی کے منہ پر جوتا نہیں مارا گیا، ابھی کسی کو گولی نہیں ماری گئی۔ ابھی کسی کے سامنے اس کی بیٹی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔
عمار کہتے ہیں کہ ابھی کسی کے بسترِ مرگ پر اہلیہ کے ہسپتال کے دروازوں پر ٹھڈے نہیں مارے گئے۔ ابھی سوشل میڈیا پر گالیوں کے وہ ٹرولز تحریک انصاف کے لوگوں کے خلاف نہیں شروع ہوئے جن میں لوگوں کی ماؤں، بہنوں کی عزتوں کو بھی پامال کیا گیا ہو۔ ابھی تحریک انصاف والوں پر کفر کے فتوے نہیں لگے۔ ابھی کسی نے نہیں کہا کہ ان کے بچوں سے کوئی شادی نہیں کرے گا، ابھی تک کسی نے ان کے گھروں پر پتھر نہیں مارے۔ ان پر کرپشن کے جھوٹے الزام بھی نہیں لگائے۔ انکی فیکٹریوں سے بھارتی ایجنٹ بھی ابھی برآمد نہیں ہوئے۔ ابھی عمران خان کے کھانے میں کسی نے ایسا زہر نہیں ملایا جس سے ان کے پلیٹ لیٹس کم ہو جائیں۔ ابھی عمران کے بچوں کی نیب کی حراست میں تصویر بھی سامنے نہیں آئی۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ علیمہ کو گندا انڈا پڑنا ایک تکلیف دہ سفر کی ابتدا ہے، جس کی انتہا تحریک انصاف نے ابھی دیکھنی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ جس نہج پر تحریک انصاف نے نفرت کو پہنچایا، اب یہ سماج اسی قوت سے اس نفرت کو لوٹا سکتا ہے لیکن تحریک انصاف کی خوش قسمتی ہے کہ اس کے سامنے ن لیگ ہے۔ جس میں بہت سے لوگ اب بھی چاہتے ہیں کہ عمران خان کو رہا کیا جائے، ان کی سختیاں ختم کی جائیں، ان کو معافی دے دی جائے، ان کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دے دی جائے۔ بھٹو کیس جیسا فیصلہ نہ دوہرایا جائے۔ لیکن ایسا ہونا ممکن اس لیے نہیں کہ شہداء کی یادگاروں کو نذر آتش کرنے کا جرم ناقابل معافی ہے۔
