حکومت چینی آن لائن پاپنگ ایپ ٹیمو پرپابندی کیوں لگارہی ہے؟

کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے عوام کو سستی اشیاء فراہم کرنے والی عالمی شہرت یافتہ چینی آن لائن شاپنگ ایپ ٹیمو پر پابندی لگانے کی سفارش کر دی۔ کمپیٹیشن کمیشن کی جانب سے یہ سفارش ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب ملک مہنگائی کے بدترین بحران سے گزر رہا ہے اور عوام کو روزمرہ اشیاء خریدنا پہلے ہی مشکل ہو چکا ہے۔

خیال رہے کہ لاکھوں پاکستانی صارفین کے لیے ٹیمو ایپ مہنگائی کے طوفان میں کسی سہولت سے کم نہ تھی۔ عوام اس ایپ سے کپڑوں سے لے کر گھریلو سامان اور گیجٹس تک،  تمام اشیائے ضروریہ کم قیمت پر حاصل کر رہے تھے جو مقامی مارکیٹ میں کئی گنا زیادہ قیمت پر دستیاب ہیں۔ ایسے میں اس ایپ پر پابندی کی سفارش عوامی حلقوں میں شدید تنقید کا باعث بن گئی ہے۔

واضح رہے کہ کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی یعنی پی ٹی اے کو چینی ای کامرس پلیٹ فارم ٹیموپر پابندی لگانے کی سفارش کی ہے۔اس حوالے سے 22 اگست 2025 کو جاری کیے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ٹیمو کی سرگرمیاں نہ صرف مقامی تجارت کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ صارفین کے حقوق کو متاثر کر رہی ہیں۔ نوٹس میں پاکستان ریٹیل بزنس کونسل اور چین اسٹور ایسوسی ایشن کی شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ٹیمو ’غیر معمولی کم قیمتوں اور جارحانہ مارکیٹنگ‘ کے ذریعے مقامی ریٹیلرز کے لیے غیر پائیدار حالات پیدا کررہا ہے۔ مسابقتی کمیشن نے واضح کیا ہے کہ چونکہ ٹیمو پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں ہے اس لیے وہ براہِ راست اس پر پابندی نہیں لگا سکتا، اسی لیے یہ معاملہ پی ٹی اے کو بھیجا گیا ہے جس کے پاس قانون کے تحت اس نوعیت کی تمام ایپس کو محدود یا بند کرنے کا اختیار ہے۔

تاہم معاشی ماہریں کمپیٹیشن کمیشن کے اس فیصلے کو عوامی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسابقتی کمیشن کے اس اقدام کے پیچھے اصل مقصد مقامی کارٹیلز اور بڑے کاروباری گروپس کو تحفظ دینا دکھائی دیتا ہے کیونکہ جب بھی کوئی سستی ایپ یا پلیٹ فارم مارکیٹ میں آتا ہے تو مقامی بڑے تاجر دباؤ میں آ جاتے ہیں، اور اکثر ادارے دباؤ میں آکر عوامی مفاد کے بجائے کارپوریٹ مفاد کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ تاہم اب اسی مافیا کے دباؤ میں آکر مسابقتی کمیشن نے اس سستی ایپ پر پابندی کی سفارش کر دی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ٹیمو جیسے پلیٹ فارمز جہاں پاکستان میں ای کامرس کے کلچر کو فروغ دے رہے تھے وہیں صارفین کو عالمی معیار کی مصنوعات سستے داموں فراہم کر کے مقامی منڈی میں مسابقت بھی پیدا کر رہے تھے۔ تاہم ان پلیٹ فارمز پر پابندی لگنے کی صورت میں اس شعبے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور مقامی صارفین کو پھر سے مہنگے ریٹ پر سامان خریدنا پڑے گا۔ حکومت اگر واقعی عوام کے ساتھ ہے تو اسے ایسی پابندیوں کے بجائے قیمتوں میں کمی اور مسابقت بڑھانے والے اقدامات کرنے چاہئیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ٹیمو پر پابندی لگتی ہے تو اس کا براہِ راست نقصان پاکستانی صارفین کو برداشت کرنا پڑے گا، تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کمپیٹیشن کمیشن جس کا بنیادی کام مارکیٹ میں مقابلے کو فروغ دینا اور صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، وہی ادارہ اب عوامی سہولت اور سستی اشیاء کی دستیابی میں رکاوٹ کیوں بن رہا ہے؟

واضح رہے کہ ٹیمو کو ایک ’گیمیفائیڈ شاپنگ ایپ‘ سمجھا جاتا ہے جو صارفین کو سستی قیمتوں پر پرکشش پروڈکٹس فراہم کرتی ہے۔ کمپنی صارفین کو متوجہ رکھنے کے لیے اسپن دی وہیل، کوائنز اور بونس جیسے فیچرز استعمال کرتی ہے تاہم دنیا کے کئی ممالک میں ٹیمو کو ریگولیٹری دباؤ کا سامنا ہے، انڈونیشیا نے اسے مقامی قوانین کی خلاف ورزی پر بلاک کر دیا، تھائی لینڈ میں اس کے خلاف قانونی تحقیقات ہوئیں جبکہ یورپی کمیشن نے ٹیمو کیخلاف تحقیقات شروع کی ہیں جن میں غیر محفوظ مصنوعات، گمراہ کن سفارشاتی الگورتھم اور نشہ آور ڈیزائن فیچرز جیسے خدشات شامل ہیں۔

Back to top button