پی ٹی آئی وزیر داخلہ کو ٹارگٹ کرنے سے گریزاں کیوں؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ عمران خان کو ریلیف ملنے کا امکان ہے، حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان معاملات مرحلہ وار آگے بڑھ رہے ہیں، جبکہ ڈیل کی بات منظرِ عام پر نہ لانے پر دونوں فریق متفق ہیں۔ نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ اپنے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتی کیونکہ دونوں جانب پسِ پردہ رابطے جاری ہیں۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ توہینِ عدالت کی درخواست میں محسن نقوی کا نام بھی شامل نہیں کیا گیا۔
دنیا نیوز کے پروگرام ’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی دونوں کو معلوم ہے کہ عمران خان ہسپتال جائیں گے اور کچھ عرصہ وہاں قیام کریں گے۔ ان کے مطابق دونوں فریق اس بات پر بھی متفق ہیں کہ اگر کسی قسم کے معاملات طے ہو رہے ہیں تو ان کی تفصیلات منظرِ عام پر نہیں آنی چاہییں، کیونکہ ڈیل کی خبر سامنے آنے کی صورت میں پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے عمران خان پر اصولوں سے پیچھے ہٹنے کے حوالے سے تنقید ہوسکتی ہے۔
نجم سیٹھی کے مطابق عمران خان کو ہسپتال میں کچھ عرصے کے لیے ریلیف مل سکتا ہے اور وہاں ان سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملات کو ایک ہی مرحلے میں حل کرنے کے بجائے مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔ان کے مطابق پہلے مرحلے میں پی ٹی آئی کی جانب سے دھرنوں، احتجاج اور لانگ مارچ سے گریز کیا جاسکتا ہے، جس کے بعد پارلیمنٹ میں واپسی کا مرحلہ آئے گا۔ اس کے بعد اسپیکر اور محسن نقوی کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات ہوسکتے ہیں اور پی ٹی آئی دوبارہ سیاسی نظام کا حصہ بننے پر آمادہ ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مرحلے میں پارٹی پارلیمانی کمیٹیوں میں بھی واپس آسکتی ہے۔
نجم سیٹھی نے مزید کہا کہ فی الحال پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت کے خلاف بیانات اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، تاہم کسی پیش رفت کی خبر سامنے آنے کی صورت میں دونوں فریق اس کی تردید کرتے ہیں، کیونکہ ان کے مطابق معاملات پردے کے پیچھے طے کیے جا رہے ہیں۔ان کا دعویٰ تھا کہ محسن نقوی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے رابطہ کاری کر رہے ہیں جبکہ ان کے پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی رابطے جاری ہیں۔ نجم سیٹھی کے مطابق مختلف معاملات بتدریج طے ہوں گے اور یہی ممکنہ ڈیل کی طرف بڑھنے کا راستہ بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے محسن نقوی کو براہِ راست ہدف نہ بنانا بھی اس بات کی علامت ہوسکتا ہے کہ پارٹی ان کے ساتھ تعلقات مکمل طور پر خراب نہیں کرنا چاہتی۔ ان کے بقول جو وعدہ کیا گیا ہے، اس کے مطابق عمران خان کو ریلیف ملنے کا امکان ہے اور وہ کچھ عرصے کے لیے ہسپتال منتقل ہوسکتے ہیں۔
