عمران خان کوشفاہسپتال منتقل نہ کرنےپروکلانےدھرنےکی دھمکی دیدی

لاہورہائیکورٹ بارکے وکلا نے عمران خان کوشفاہسپتال منتقل کرنےکےعدالتی حکم پرعملدرآمدنہ کرنےپردھرنےکی دھمکی دیدی۔
صدر لاہور ہائیکورٹ بار بابر مرتضیٰ نےپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جھوٹے مقدمات میں سزائیں دے کر رکھا گیا ہے اور وہ دس ماہ سے قید تنہائی میں ہیں۔ سپریم کورٹ نے ان کی رپورٹس دیکھ کر علاج کا فیصلہ کیا، حکومت کا عدالتی حکم کے باوجود بانی چیئرمین عمران خان کا علاج نہ کرانا بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔
بابر مرتضیٰ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ بار اور لاہور بار نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے قراردادیں منظور کیں۔ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد نہ ہونے سے بے چینی بڑھے گی۔
انہوں نے کہا کہ عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں چیک اپ کا حکم دیا اور ان کی بہن اور ذاتی معالج کی موجودگی لازمی قرار دی، تاہم حکومت بانی پی ٹی آئی کو شفا ہسپتال کی بجائے پمز ہسپتال لے گئی۔
بابرمرتضیٰ نے کہا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم نہ کرکے توہین عدالت کی، حکومت نے جان بوجھ کر عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی۔ وزیر قانون نے پریس کانفرنس میں عدالتی حکم نہ ماننے کا اعلان کیا۔ سپریم کورٹ حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے۔ اب اگر سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہوئی تو وکلا احتجاج کریں گے اور عدالتی چھٹیوں کے بعد پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے۔
سینیٹر حامد خان نے کہا کہ جس ملک میں آئین اور قانون کی پابندی نہیں وہاں بے چینی پیدا ہوتی ہے، عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے سے انارکی پیدا ہوتی ہے۔ ملک میں ملٹری رجیم ہے جس نے ملک تباہ کردیا، کٹھ پتلیوں کے ذریعے نظام چلایا جارہا ہے۔ دو الگ بڑی عدالتیں بنا کر من پسند فیصلے لینے کا پروگرام بنایا گیا ہے، اگر ایک بڑی عدالت سے ریلیف نہ ملے تو دوسری میں چلے جائیں گے۔
