27ستمبر کا احتجاجPTIکیلئے ایک سیاسی امتحان کیوں؟

27 ستمبر کا لانگ مارچ اب پاکستان تحریک انصاف کے لیے صرف احتجاج نہیں بلکہ اس کی سیاسی حکمت عملی کا اہم امتحان بن چکا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی اس مارچ سے حاصل کیا کرنا چاہتی ہے اور اس کے بعد اس کے پاس کیا بچے گا؟ اگر مقصد عمران خان کے معاملات میں بہتری، ان کی صحت اور علاج کے لیے سہولت، ملاقاتوں میں آسانی اور بشریٰ بی بی کے معاملے میں ریلیف ہے تو سوال یہ ہے کہ جب یہی معاملات بیک ڈور رابطوں میں زیر بحث آ سکتے تھے تو سڑک پر طاقت دکھانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

گزشتہ دنوں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان پس پردہ رابطوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ان رابطوں میں عمران خان کے علاج، ملاقاتوں میں سہولت اور بشریٰ بی بی کو بنی گالا منتقل کرنے سمیت بعض اعتماد سازی کے اقدامات پر بات ہونے کی اطلاعات تھیں، تاہم حکومت کے بعض نمائندوں نے ان تجاویز یا کسی باقاعدہ پیش رفت کی تردید بھی کی۔ اس کے باوجود یہ واضح ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان رابطے کا ایک راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔

یہاں بنیادی سیاسی سوال یہی ہے کہ مذاکرات کی گنجائش موجود ہونے کے باوجود احتجاج کو مرکزی راستہ کیوں بنایا گیا۔ احتجاج جمہوری سیاست کا حصہ ہے اور سیاسی جماعتوں کو اپنے مطالبات کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن احتجاج اور ریاستی نظام کو مفلوج کرنے کے درمیان ایک واضح حد موجود ہے۔ اگر احتجاج پرامن رہے تو یہ سیاسی اظہار کا ذریعہ بنتا ہے، لیکن شاہراہوں کی بندش، سرکاری تنصیبات کو نقصان یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تصادم صورتحال کو ایک مختلف نوعیت کے بحران میں تبدیل کرسکتا ہے۔

دوسری طرف حکومت نے بھی 27 ستمبر کے احتجاج کو معمول کی سیاسی سرگرمی کے طور پر نہیں لیا۔ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے، متعدد داخلی راستوں اور اہم شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اور وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے علاوہ پنجاب کے بعض اضلاع میں رینجرز کی تعیناتی کی منظوری دی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے احتجاج کے ممکنہ اثرات کو امن و امان کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان اصل اختلاف اب احتجاج کرنے یا نہ کرنے سے آگے بڑھ کر اس بات پر ہے کہ احتجاج کی حدود کیا ہوں گی۔ حکومتی مؤقف ہے کہ پرامن احتجاج کی گنجائش موجود ہے، لیکن اسلام آباد پر دھاوا یا قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب تحریک انصاف اپنے مارچ کو سیاسی دباؤ اور عمران خان کی رہائی کے مطالبے سے جوڑ رہی ہے اور اس کے رہنماؤں کی جانب سے احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کے لیے اصل امتحان صرف کارکنوں کی تعداد جمع کرنا نہیں بلکہ اس اجتماع کو کسی واضح سیاسی نتیجے سے جوڑنا ہے۔ اگر مارچ پرامن رہتا ہے تو پارٹی اپنی عوامی موجودگی اور سیاسی قوت کا اظہار کرسکتی ہے، لیکن اس سے یہ لازمی نہیں کہ اس کے بنیادی مطالبات فوری طور پر تسلیم کرلیے جائیں۔ اگر حکومت اسلام آباد میں داخلے کو روک دیتی ہے تو تحریک انصاف کو اپنی آئندہ احتجاجی حکمت عملی طے کرنا ہوگی، جبکہ تصادم کی صورت میں گرفتاریوں، مقدمات اور سیاسی کشیدگی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔

اسی طرح حکومت کے لیے بھی یہ ایک اہم مرحلہ ہے۔ ریاستی اختیار استعمال کرتے ہوئے امن و امان برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن پرامن سیاسی کارکن اور قانون توڑنے والے افراد کے درمیان فرق برقرار رکھنا بھی ضروری ہوگا۔ کسی احتجاج میں شریک ہر شخص کو یکساں طور پر قانون شکن تصور کرنا سیاسی اور انتظامی دونوں سطحوں پر مزید کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی طرح اگر قانون کی خلاف ورزی ہو تو کارروائی بھی واضح قانونی بنیاد اور متناسب طریقے سے ہونی چاہیے۔

موجودہ صورتحال میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ حکومت نے بیک ڈور رابطوں کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا۔ وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناءاللہ نے 24 ستمبر کو کہا کہ پس پردہ رابطے جاری ہیں، تاہم ان کے مطابق باقاعدہ مذاکرات کے لیے تحریک انصاف کو پہلے 27 ستمبر کا لانگ مارچ مؤخر کرنا ہوگا۔ یوں ایک طرف سڑکوں پر سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے اور دوسری طرف مذاکرات کے لیے ایک محدود راستہ اب بھی موجود ہے۔

اس دوران اسلام آباد کی طرف آنے والے راستوں کی بندش اور رکاوٹوں نے عام شہریوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کردی ہیں۔ موٹروے اور بعض اہم شاہراہوں پر پابندیوں اور رکاوٹوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ رینجرز کی تعیناتی بھی عمل میں آچکی ہے۔ اس صورتحال میں 27 ستمبر کا معاملہ محض حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی مقابلہ نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات شہریوں کی نقل و حرکت، کاروباری سرگرمیوں اور معمولات زندگی تک پہنچتے ہیں۔

اس پورے معاملے میں 9 مئی کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی اور قانونی صورتحال بھی پس منظر میں موجود ہے۔ تحریک انصاف کے لیے ایک بار پھر ایسا منظرنامہ پیدا ہونا جس میں احتجاج کے دوران تشدد، سرکاری املاک کو نقصان یا بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوں، اس کی سیاسی حکمت عملی پر مزید سوالات اٹھا سکتا ہے۔ دوسری طرف حکومت کے لیے بھی سخت کارروائی اور وسیع پیمانے پر گرفتاریوں کے سیاسی اثرات سے گریز آسان نہیں ہوگا۔ اس لیے دونوں جانب سے فیصلوں کے نتائج صرف 27 ستمبر تک محدود نہیں رہیں گے۔

آخرکار 27 ستمبر کا اصل امتحان یہی ہے کہ سیاسی طاقت کا اظہار کس حد تک سیاسی نتیجے میں تبدیل ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ مارچ کے بعد اس کا اگلا سیاسی قدم کیا ہوگا اور حکومت کو یہ طے کرنا ہوگا کہ امن و امان برقرار رکھتے ہوئے سیاسی اختلاف کے لیے کتنی گنجائش رکھی جاسکتی ہے۔ اگر احتجاج پرامن سیاسی سرگرمی تک محدود رہتا ہے تو مذاکرات کے امکانات برقرار رہ سکتے ہیں، لیکن اگر معاملہ تصادم میں تبدیل ہوتا ہے تو سیاسی رابطے مزید مشکل ہوسکتے ہیں۔

اس لیے 27 ستمبر کو صرف ایک احتجاجی دن کے طور پر دیکھنا کافی نہیں۔ یہ تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست، حکومت کی انتظامی حکمت عملی اور دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کی گنجائش، تینوں کا ایک ساتھ امتحان ہے۔ اصل سیاسی سوال یہ ہوگا کہ اس دن کے بعد فریقین کے پاس تصادم کا راستہ باقی رہتا ہے یا مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے

Back to top button