معلومات تک رسائی کے قانون پر عملدرآمد میں اصل رکاوٹ کون؟

پاکستان میں معلومات تک رسائی کے حق کو آئینی اور قانونی تحفظ حاصل ہونے کے باوجود سرکاری اداروں کی جانب سے اس پر مؤثر عمل درآمد اب بھی ایک بڑا سوال بنا ہوا ہے۔ شفافیت انٹرنیشنل پاکستان کی تازہ جائزہ رپورٹ نے سرکاری محکموں کی ویب سائٹس کا جائزہ لے کر اس حقیقت کی نشاندہی کی ہے کہ معلومات عوام تک پہنچانے کے لیے قوانین تو موجود ہیں، مگر ان قوانین کی روح کے مطابق عملی اقدامات ہر سطح پر یکساں نہیں۔ 28 ستمبر کو معلومات تک رسائی کے عالمی دن سے قبل سامنے آنے والے اس جائزے میں وفاقی اور صوبائی سطح کے 98 اہم وزارتوں اور سرکاری محکموں کی ویب سائٹس کو جانچا گیا، جس کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ معلومات کی پیشگی فراہمی سے متعلق قانونی تقاضوں پر کس حد تک عمل کیا جا رہا ہے۔

جائزے کے مطابق پنجاب میں 18 محکموں کی مجموعی شرحِ عمل درآمد 59 فیصد رہی، وفاقی حکومت کی 14 وزارتوں میں یہ شرح 47 فیصد، خیبر پختونخوا کے 22 محکموں میں 41 فیصد، سندھ کے 25 محکموں میں 31 فیصد جبکہ بلوچستان کے 19 محکموں میں صرف 28 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعداد و شمار اس بنیادی مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں معلومات تک رسائی کا قانونی حق موجود ہونے کے باوجود سرکاری معلومات کو بروقت، منظم اور آسان انداز میں عوام تک پہنچانے کا نظام ابھی مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکا۔

سب سے اہم کمزوری مالی معلومات کی فراہمی میں سامنے آتی ہے۔ بجٹ، سرکاری اخراجات اور مالی معاملات سے متعلق بنیادی معلومات عوامی ویب سائٹس پر مکمل اور آسان رسائی کے ساتھ دستیاب نہ ہونا شفاف حکمرانی کے لیے اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔ شہریوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ عوامی خزانے سے حاصل ہونے والی رقم کہاں اور کیسے خرچ ہو رہی ہے، کون سے منصوبوں پر کتنی رقم مختص کی گئی اور ان منصوبوں پر عملی طور پر کتنا خرچ ہوا۔ جب ایسی معلومات بروقت سامنے نہ آئیں تو عوامی نگرانی محدود ہوجاتی ہے اور سرکاری اداروں کی جواب دہی کا عمل بھی کمزور پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ میں پبلک انفارمیشن افسران کی معلومات کی عدم دستیابی کو بھی ایک اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ شہریوں کے لیے یہ جاننا بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ اگر کسی مطلوبہ معلومات کا ویب سائٹ پر ازخود اجرا نہیں کیا گیا تو اسے حاصل کرنے کے لیے کس افسر سے رابطہ کیا جائے۔ جائزے کے مطابق پبلک انفارمیشن افسران کے رابطے کی تفصیلات شائع کرنے کی شرح بلوچستان میں صرف 12 فیصد، سندھ میں 14 فیصد، وفاقی سطح پر 36 فیصد، خیبر پختونخوا میں 45 فیصد جبکہ پنجاب میں 72 فیصد رہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے سرکاری اداروں میں شہریوں کو معلومات کے حصول کے قانونی راستے سے آگاہ کرنے کا بنیادی انتظام بھی مکمل نہیں۔

پاکستان میں معلومات تک رسائی کے قوانین کا تصور صرف کسی شہری کی درخواست پر ایک مخصوص دستاویز فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ جدید شفاف حکمرانی میں اہم معلومات کو پہلے ہی عوام کے سامنے رکھنے کا اصول بھی اس کا بنیادی حصہ ہے۔ شفافیت انٹرنیشنل پاکستان کے سابق جائزوں میں بھی یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ قانونی فریم ورک موجود ہونے کے باوجود مختلف سطحوں پر پیشگی معلومات کی فراہمی میں نمایاں خلا موجود ہے۔

اس مسئلے کا ایک دوسرا پہلو عوام کی جانب سے ان قوانین کے محدود استعمال سے متعلق ہے۔ شفافیت انٹرنیشنل پاکستان سے متعلق ایک حکومتی تشخیصی جائزے میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2023 کے دوران ملک بھر میں 76 فیصد شہریوں نے کسی سرکاری ادارے سے معلومات حاصل کرنے کے لیے حقِ معلومات کے قانون کے تحت درخواست ہی نہیں دی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف سرکاری اداروں کی جانب سے معلومات فراہم کرنے کا نہیں بلکہ شہریوں میں اس قانونی حق کے بارے میں آگاہی اور اسے استعمال کرنے کی صلاحیت کا بھی ہے۔

بلوچستان کی صورتحال خاص طور پر توجہ طلب ہے جہاں معلومات تک رسائی کے قانون پر عمل درآمد سے متعلق مسائل پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ شفافیت انٹرنیشنل پاکستان نے 2025 میں بلوچستان انفارمیشن کمیشن کے مؤثر طور پر فعال نہ ہونے سے متعلق بھی تشویش ظاہر کی تھی، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ محض قانون منظور کر دینا کافی نہیں بلکہ اس کے نفاذ کے لیے فعال ادارے، تربیت یافتہ افسران، واضح طریقہ کار اور شہریوں کے لیے آسان رسائی بھی ضروری ہے۔

معلومات تک رسائی دراصل شفاف حکمرانی، احتساب اور عوامی اعتماد کے درمیان ایک بنیادی کڑی ہے۔ اگر بجٹ، سرکاری اخراجات، فیصلوں، منصوبوں، ٹینڈرز، ذمہ دار افسران اور پالیسی سازی سے متعلق بنیادی معلومات عوام کے لیے آسانی سے دستیاب ہوں تو شہری حکومت کی کارکردگی کو زیادہ مؤثر انداز میں جانچ سکتے ہیں۔ اس کے برعکس جب معلومات مختلف محکموں کی غیر فعال یا نامکمل ویب سائٹس، غیر واضح طریقہ کار اور غیر دستیاب افسران کے درمیان گم ہوجائیں تو قانون کی موجودگی کے باوجود شہری کا عملی حق محدود رہ جاتا ہے۔

اسی لیے شفافیت انٹرنیشنل پاکستان نے سفارش کی ہے کہ معلومات کی ازخود فراہمی کے لیے یکساں فارمیٹس متعارف کرائے جائیں، پبلک انفارمیشن افسران کی تربیت بہتر بنائی جائے، بجٹ اور اخراجات کی تفصیلات باقاعدگی سے شائع کی جائیں، متعلقہ افسران کے رابطے کی معلومات لازماً ویب سائٹس پر موجود ہوں اور ہر سرکاری ادارے کی ویب سائٹ پر حقِ معلومات کے لیے واضح اور علیحدہ حصہ قائم کیا جائے۔ اس کے ساتھ فیصلہ سازی کے طریقہ کار اور عوامی مشاورت کے مواقع سے متعلق معلومات بھی فراہم کی جانی چاہئیں۔

پاکستان میں شفافیت کا اصل امتحان نئے قوانین بنانے سے زیادہ ان قوانین کو روزمرہ حکومتی نظام کا حصہ بنانے میں ہے۔ جب تک سرکاری ادارے معلومات کو شہری کا حق سمجھتے ہوئے اسے بروقت اور قابلِ فہم انداز میں فراہم نہیں کرتے، تب تک قانون اور عملی حقیقت کے درمیان یہ خلا برقرار رہے گا۔ معلومات تک رسائی کا حق دراصل صرف کاغذ پر درج ایک قانونی شق نہیں بلکہ عوامی نگرانی، سرکاری جواب دہی اور بہتر طرز حکمرانی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اس حق پر مؤثر عمل درآمد ہی یہ طے کرے گا کہ ریاستی ادارے عوام کو محض معلومات فراہم کرتے ہیں یا واقعی حکمرانی میں شفافیت اور جواب دہی کو عملی اصول بناتے ہیں۔

Back to top button