پاکستان نے افغان طالبان کی دھلائی اور ٹھکائی کا فیصلہ کیوں کیا؟

افغانستان سے ہونے والی مبینہ دراندازی، ڈرون حملوں اور پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے تناظر میں پاک افغان تعلقات ایک بار پھر انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین پر عسکری اہداف کے خلاف فضائی کارروائیوں اور افغان طالبان کی جانب سے اس کے ردعمل کی دھمکی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سکیورٹی کا مسئلہ اب محض سرحدی جھڑپوں یا سفارتی احتجاج تک محدود نہیں رہا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانے اس کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی اس کی قومی سلامتی کی ضرورت ہے، جبکہ کابل پاکستانی کارروائیوں کو افغان خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔
24 ستمبر کو پاکستان نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں دس اہداف کے خلاف فضائی اور ڈرون کارروائیوں کی اطلاع دی۔ پاکستانی حکام کے مطابق کارروائیاں ان مقامات کو نشانہ بنا کر کی گئیں جو پاکستان کے خلاف حملوں سے منسلک تھے۔ دوسری طرف افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ قندھار، پکتیا اور خوست میں ہونے والے حملوں میں چار شہری جاں بحق ہوئے اور اسے افغان سرزمین پر جارحیت قرار دیتے ہوئے مناسب جواب دینے کا عندیہ دیا۔ یوں ایک ہی واقعے کے بارے میں دونوں جانب سے بنیادی مؤقف مختلف ہے، جس سے موجودہ صورتحال کی حساسیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
یہ تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ستمبر کے دوران پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ 18 ستمبر کو کوہاٹ میں پولیس کمپاؤنڈ کے قریب خودکش حملے میں ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ اس سے ایک روز قبل ہنگو میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے میں اہلکار جاں بحق ہوئے۔ پاکستان مسلسل یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ بعض مسلح گروہوں کو افغان سرزمین پر پناہ اور سہولت حاصل ہے، جبکہ افغان طالبان اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہی ہے کہ اگر پاکستان کے اندر ہونے والے حملوں کے منصوبہ ساز یا سہولت کار واقعی سرحد پار موجود ہیں تو صرف سرحد پر سکیورٹی بڑھانے یا ہر حملے کے بعد فضائی کارروائی کرنے سے مسئلہ مستقل طور پر حل نہیں ہوگا۔ دوسری جانب اگر کابل پاکستان کے الزامات کو مسترد کرتا ہے تو اس کے لیے بھی مؤثر طریقہ یہی ہے کہ وہ قابلِ تصدیق اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کرے کہ افغان سرزمین کسی ایسے گروہ کو پاکستان کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جا رہی۔ اس بنیادی تنازع کا حل محض بیانات یا ایک دوسرے پر الزام تراشی سے نہیں نکل سکتا۔
پاکستان نے ماضی میں مذاکرات، سفارتی رابطوں اور مختلف ثالثی کوششوں کے ذریعے افغانستان کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ سرحد پار عسکریت پسندی دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں۔ تاہم مختلف ادوار میں ہونے والی بات چیت کے باوجود مستقل سکیورٹی انتظام پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ اس دوران قطر، ترکی اور چین سمیت مختلف فریقوں کی سفارتی کوششیں بھی سامنے آتی رہی ہیں، مگر کشیدگی کے بنیادی مسئلے یعنی عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی اور سرحد پار حملوں پر دونوں جانب کا اختلاف برقرار ہے۔
یہاں پاکستان کے لیے اصل چیلنج دو سطحوں پر ہے۔ ایک طرف ریاست کی بنیادی ذمہ داری اپنے شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو دہشت گرد حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے، دوسری طرف ایسی کارروائیوں سے گریز بھی ضروری ہے جو پورے پاک افغان تنازع کو وسیع تر فوجی محاذ آرائی میں تبدیل کر دیں۔ افغانستان کے اندر کارروائی اگر پاکستان کے نزدیک مخصوص عسکری اہداف کے خلاف دفاعی اقدام ہے تو کابل اسے اپنی خودمختاری پر حملہ سمجھتا ہے۔ یہی باہمی تصور کشیدگی کو مزید بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔
حالیہ واقعات یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ فضائی طاقت اپنی جگہ اہم ہو سکتی ہے لیکن سرحد پار دہشت گردی کے مسئلے کا مستقل حل صرف فضائی کارروائیوں میں نہیں۔ سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس تعاون، دہشت گرد نیٹ ورکس کی مالی معاونت کا سدباب، داخلی سکیورٹی اقدامات، سفارتی دباؤ اور مسلسل مذاکرات کو ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ بنانا زیادہ اہم ہے۔ ماہرین کی جانب سے بھی یہ سوال اٹھایا جاتا رہا ہے کہ صرف فوجی دباؤ عسکریت پسندی کے اس پیچیدہ مسئلے کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتا۔
افغانستان کے لیے بھی یہ صورتحال ایک مشکل انتخاب سامنے لاتی ہے۔ اگر کابل پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھاتا ہے تو اس کے اثرات صرف عسکری سطح تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ سرحدی تجارت، آمدورفت اور دونوں ملکوں کے درمیان پہلے ہی مشکلات کا شکار تعلقات مزید متاثر ہو سکتے ہیں۔ افغانستان کی انسانی اور معاشی صورتحال کے تناظر میں طویل سرحدی کشیدگی عام افغان شہریوں کے لیے بھی مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ اسی طرح پاکستان کے لیے بھی افغانستان کے ساتھ مستقل محاذ آرائی معاشی اور داخلی سلامتی کے مسائل کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
اس پورے معاملے میں دہشت گردی اور علاقائی سیاست کو الگ الگ دیکھنا بھی ضروری ہے۔ پاکستان بعض عسکریت پسند گروہوں کے خلاف افغانستان میں موجود ٹھکانوں کا الزام عائد کرتا ہے اور بعض اوقات بیرونی پشت پناہی کے الزامات بھی سامنے لاتا ہے، لیکن ایسے دعووں کو مؤثر بنانے کے لیے قابلِ تصدیق شواہد اور سفارتی سطح پر ٹھوس پیش رفت اہم ہے۔ افغان طالبان بھی پاکستان پر مختلف گروہوں کی معاونت کے الزامات عائد کرتے ہیں۔ دونوں جانب کے ان دعوؤں کے درمیان اصل ضرورت ایسی قابلِ اعتماد نگرانی اور مذاکراتی نظام کی ہے جو الزامات کے بجائے قابلِ تصدیق حقائق کی بنیاد پر سکیورٹی تنازعات کو حل کرنے میں مدد دے۔
پاکستان کی موجودہ زیرو ٹالرنس پالیسی کا اصل امتحان بھی یہی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی مؤثر ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی حکمت عملی خطے کو ایک بڑے اور طویل تصادم میں دھکیلنے سے محفوظ رہے۔ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، لیکن پائیدار امن کے لیے فوجی دباؤ کے ساتھ سفارتی راستہ بھی کھلا رکھنا ضروری ہے۔ افغانستان کی طرف سے کسی جوابی کارروائی کی دھمکی کی صورت میں بھی بنیادی ہدف دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کار ہونے چاہئیں، نہ کہ پورے خطے کو ایک نئے تصادم کی طرف لے جانا۔
پاک افغان مسئلے کا مستقل حل اسی وقت ممکن ہوگا جب دونوں حکومتیں ایک دوسرے کے خلاف الزامات سے آگے بڑھ کر قابلِ عمل سکیورٹی ضمانتوں، سرحدی نگرانی، دہشت گرد گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی اور مسلسل سفارتی رابطے کے کسی مؤثر نظام پر اتفاق کریں۔ پاکستان کے لیے اپنی قومی سلامتی کا تحفظ ناگزیر ہے، لیکن افغانستان کے ساتھ ایسا انتظام قائم کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے جس میں دہشت گردی کے خلاف کارروائی، سرحدی سلامتی اور سفارت کاری ایک دوسرے کا متبادل نہیں بلکہ ایک ہی مربوط حکمت عملی کے حصے ہوں۔
