پی ٹی آئی کا احتجاج، خیبرپختونخوا کیلئے عذاب کیسے بنا؟

27 ستمبر کے اعلان کردہ پی ٹی آئی لانگ مارچ میں ابھی 2 دن باقی ہیں، لیکن اس کے اثرات سڑکوں پر نکلنے سے پہلے ہی خیبر پختونخوا کے عوام تک پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ اسلام آباد جانے والے اہم زمینی راستوں کی بندش نے نہ صرف پشاور اور خیبر پختونخوا کو پنجاب اور وفاقی دارالحکومت سے ملانے والی آمدورفت متاثر کی ہے بلکہ تجارت، کارگو، مریضوں کی نقل و حرکت اور بیرونِ ملک سفر کرنے والے شہریوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کردی ہیں۔ اسلام آباد، پشاور اور دیگر شہروں کو ملانے والے ایم-1، ایم-14 اور جی ٹی روڈ کے مختلف حصے بند کیے جانے کی تصدیق نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے اعلانات اور متعدد رپورٹس سے بھی ہوتی ہے۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایک سیاسی احتجاج کو روکنے کے لیے کیے جانے والے حفاظتی اقدامات کا بوجھ آخر عام شہری کیوں اٹھائے؟ ایم-1 کو اسلام آباد ٹول پلازہ سے چچ انٹرچینج تک، ایم-14 کو ہکلہ سے کنڈل تک اور جی ٹی روڈ کو اٹک خورد کے مقام پر بند کیے جانے کے باعث خیبر پختونخوا اور پنجاب کے درمیان زمینی رابطہ شدید متاثر ہوا ہے۔ ہزارہ موٹروے اور بعض دیگر رابطہ سڑکوں پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس صورتحال کا براہ راست اثر گڈز ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ خیبر پختونخوا کی بڑی منڈیاں پنجاب سے آنے والی سبزیوں، پھلوں، آٹے اور دیگر اشیائے خورونوش کی سپلائی پر انحصار کرتی ہیں۔ اگر راستوں کی بندش طویل ہوتی ہے تو ترسیل میں تاخیر کے نتیجے میں مارکیٹ میں قلت اور قیمتوں میں اضافے کا دباؤ پیدا ہوسکتا ہے۔ بعض تاجروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کا سامنا کرنے والے صوبے میں مسلسل رکاوٹیں سپلائی کے مسئلے کو مزید سنگین کرسکتی ہیں۔ تاہم کسی مخصوص شے کی قیمت میں کتنا اضافہ ہوگا، اس کا حتمی اندازہ صورتحال معمول پر آنے اور مارکیٹ کے ردعمل کے بعد ہی لگایا جاسکے گا۔
مسئلہ صرف تجارت اور مہنگائی تک محدود نہیں۔ ان مریضوں کے لیے صورتحال کہیں زیادہ حساس ہے جنہیں پشاور یا خیبر پختونخوا سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے بڑے اسپتالوں میں علاج کے لیے منتقل کیا جاتا ہے۔ سڑکوں کی بندش اور متبادل راستوں پر بڑھتی ہوئی رکاوٹیں ایسی صورت میں براہ راست سفری وقت بڑھا سکتی ہیں۔ ہنگامی طبی منتقلی میں چند گھنٹوں کی تاخیر بھی خاندانوں کے لیے شدید تشویش کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے احتجاج اور سکیورٹی کے درمیان عام شہریوں، خصوصاً مریضوں کے لیے قابلِ عمل گزرگاہیں برقرار رکھنا ایک اہم انتظامی ضرورت بن جاتا ہے۔
اسی طرح اسلام آباد ایئرپورٹ جانے والے مسافروں کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔ بیرونِ ملک سفر کرنے والوں، خصوصاً عمرہ زائرین، کے لیے مقررہ وقت پر ایئرپورٹ پہنچنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر اہم شاہراہیں اچانک بند ہوں اور متبادل راستوں پر بھی ٹریفک کا دباؤ بڑھ جائے تو مسافروں کو نہ صرف اضافی وقت بلکہ غیر یقینی صورتحال کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ حالات میں شہریوں کی نقل و حرکت کا مسئلہ محض سیاسی جماعت اور حکومت کے درمیان تنازع نہیں رہا بلکہ عام لوگوں کی روزمرہ زندگی سے بھی جڑ گیا ہے۔
دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ راستوں کی بندش اور سکیورٹی انتظامات کا مقصد پی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاجی قافلوں کو اسلام آباد پہنچنے سے روکنا اور امن و امان برقرار رکھنا ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے مختلف داخلی راستوں پر کنٹینرز اور سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ پولیس اور انتظامیہ نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: اگر احتجاج کا مقصد سیاسی مطالبات منوانا ہے تو کیا اس کا جواب ایسے اقدامات ہونے چاہئیں جن سے صوبے کی عام معاشی اور سماجی سرگرمیاں متاثر ہوں؟ حکومت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ خوراک، ادویات، مریضوں، مسافروں اور تجارتی سامان کی نقل و حرکت کے لیے مناسب راستے بھی یقینی بنائے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کی ذمہ داری بھی کم نہیں کہ احتجاج کو اس انداز میں منظم کرے کہ عام شہریوں کی زندگی اور بنیادی ضروریات غیر ضروری طور پر متاثر نہ ہوں۔
اس دوران خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال میں ایک اور بحث نے بھی جنم لیا ہے اور وہ ہے گورنر راج کا امکان۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پہلے ہی یہ کہا تھا کہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے حکومت وزارت قانون سے قانونی آپشنز پر مشاورت کر رہی ہے، جن میں گورنر راج بھی شامل ہے۔ تاہم یہ کہنا کہ گورنر راج کا فیصلہ ہوچکا ہے، دستیاب معلومات کی بنیاد پر درست نہیں ہوگا۔
ادھر پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کی تیاریاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے کارکنوں کو متحرک کیا جا رہا ہے اور مختلف مقامات پر ممکنہ پڑاؤ اور احتجاجی سرگرمیوں کے لیے انتظامات کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ 27 ستمبر کا احتجاج اپنے مطالبات کے لیے سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جبکہ حکومتی حلقے اسے امن و امان کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے بھی 27 ستمبر کی تاریخ برقرار رکھنے کا مؤقف سامنے آچکا ہے۔
یوں 27 ستمبر کا لانگ مارچ اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی خیبر پختونخوا کی سڑکوں، تجارت، رسد، علاج اور شہری سفر کو متاثر کرنے لگا ہے۔ اصل امتحان اب دونوں فریقوں کا ہے۔ پی ٹی آئی کے لیے سوال یہ ہے کہ وہ اپنے سیاسی احتجاج کو کس حد تک منظم اور پرامن رکھ سکتی ہے، جبکہ حکومت کے لیے سوال یہ ہے کہ سکیورٹی اقدامات کے باوجود عام شہریوں کے بنیادی سفری اور معاشی حقوق کس طرح محفوظ رکھے جاتے ہیں۔ اگر راستوں کی بندش طویل ہوتی ہے تو سیاسی کشمکش کا اصل بوجھ احتجاج میں شریک افراد سے زیادہ وہ شہری اٹھائیں گے جن کا اس سیاسی تنازع سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔
27 ستمبر کا احتجاج صرف یہ طے نہیں کرے گا کہ پی ٹی آئی کا قافلہ اسلام آباد تک پہنچتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی سامنے لائے گا کہ سیاسی احتجاج، ریاستی سکیورٹی اقدامات اور عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کے درمیان توازن کس حد تک قائم رکھا جاسکتا ہے۔ فی الحال خیبر پختونخوا کے شہریوں کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ سیاسی محاذ آرائی کب ختم ہوگی اور ان کے راستے، کاروبار، علاج اور سفر کب معمول پر آئیں گے۔
