ایران جنگ کے خاتمے کےلیے معاہدے پر تیار ہے: ایرانی صدر

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ جنگ جاری رکھنا نہیں چاہتا اور تنازع ختم کرنے کا فیصلہ اب امریکا کو کرنا ہوگا، ایران جنگ کے خاتمے کےلیے کسی معاہدے تک پہنچنے کےلیے تیار ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے نیویارک میں میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے کہاکہ ایران نے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا بلکہ اپنے دفاع میں کارروائیاں کیں،امریکا جسے تباہ کرنا چاہتا ہے اس پر دہشت گردی کا الزام لگادیتا ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے کہاکہ ایران خطے میں سلامتی کےلیے شراکت چاہتا ہے اور ہمسایوں کو بھی مضبوط دیکھنا چاہتا ہے ۔
ایرانی صدر نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی آمیز تقریر سُننے کے بعد انہوں نے جواب دینےکا فیصلہ کیا،اقوام متحدہ میں اپنی تیار تقریر سے ہٹ کر تقریر کی۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ اگر اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کیےجاسکتے ہیں تو ایک دوسرے کو قتل کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ایران جنگ کا خواہاں نہیں تھا، تاہم اسرائیل کی کارروائیوں اور اشتعال انگیزی کے نتیجے میں یہ جنگ ایران پر مسلط ہوئی۔
ایرانی صدر نے واضح کیاکہ ہم جنگ جاری نہیں رکھناچاہتے،امریکا کو فیصلہ کرنا ہوگاکہ وہ اسے ختم کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔تہران امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کےلیے کسی معاہدے تک پہنچنے کےلیے تیار ہے۔
کیا امریکہ اور ایران کے مابین فوری مستقل جنگ بندی ممکن ہے؟
انہوں نے کہاکہ اگر موجودہ امریکی حکومت بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتےہوئے معاہدہ کرنا چاہتی ہےتو ایران اس کےلیے تیار ہے، جب کہ امریکا کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا بعد میں معاہدہ ہونےسے ایران کےلیے کوئی بنیادی فرق نہیں پڑتا۔
