کیا امریکہ اور ایران کے مابین فوری مستقل جنگ بندی ممکن ہے؟

امریکا اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری جنگ اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں جہاں جنگ بندی کا امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، لیکن دونوں فریق اب بھی بنیادی نکات پر ایک دوسرے سے خاصا مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکراتی عمل میں تعطل برقرار ہے، تاہم دونوں جانب سے ایسے مرحلہ وار فارمولے پر غور کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے براہ راست ایک بڑے معاہدے کے بجائے مختلف اقدامات کو ترتیب وار نافذ کرتے ہوئے جنگی کشیدگی کم کی جا سکے۔
اس ممکنہ فارمولے میں آبنائے ہرمز کا معاملہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ایران کی جانب سے یہ اشارہ سامنے آیا ہے کہ اگر امریکا فوجی دباؤ کم کرے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے تو تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ مطلوبہ شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے کو تقریباً ایک ہفتے کے اندر کھولا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر اقتصادی دباؤ برقرار رکھنے کی بات کی ہے، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مذاکرات کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔
یہی تضاد موجودہ ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ بنتا دکھائی دیتا ہے۔ ایران جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی کو یکطرفہ طور پر قبول کرنے کے بجائے امریکی فوجی دباؤ اور اقتصادی پابندیوں میں عملی کمی چاہتا ہے، جبکہ واشنگٹن ایران سے ایسے اقدامات کا خواہاں ہے جو امریکی مفادات اور خطے میں اس کے سکیورٹی اہداف سے مطابقت رکھتے ہوں۔ چنانچہ دونوں فریق ایک دوسرے سے رعایت چاہتے ہیں، لیکن یہ طے کرنا مشکل ہے کہ پہلا قدم کون اٹھائے اور اس کے بعد دوسرے فریق کی جانب سے ضمانت کس شکل میں حاصل ہو۔
مرحلہ وار معاہدے کا تصور اسی مشکل کا ممکنہ حل بن سکتا ہے۔ اگر ایک ہی وقت میں تمام بڑے اختلافات طے کرنا ممکن نہیں تو فریقین پہلے محدود اور قابلِ تصدیق اقدامات پر اتفاق کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر سمندری آمدورفت میں سہولت، فوجی سرگرمیوں میں کمی، انسانی بنیادوں پر اقدامات اور بعض اقتصادی پابندیوں میں محدود نرمی جیسے اقدامات کو ایک دوسرے سے مشروط کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقہ کار کا مقصد اعتماد سازی کے لیے چھوٹے لیکن قابلِ تصدیق قدم اٹھانا ہوگا، تاکہ کسی ایک فریق کو یہ خدشہ نہ رہے کہ رعایت دینے کے بعد دوسرا فریق اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ جائے گا۔
آبنائے ہرمز اس پورے تنازعے کا سب سے حساس اقتصادی پہلو ہے۔ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم سمندری راستہ ہے اور اس میں مسلسل رکاوٹ یا غیر یقینی کیفیت سے صرف امریکا اور ایران متاثر نہیں ہوتے بلکہ خلیجی ممالک، ایشیائی معیشتیں اور عالمی توانائی منڈیاں بھی دباؤ میں آتی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق موجودہ کشیدگی نے پہلے ہی خلیج کی توانائی کی ترسیل اور عالمی منڈیوں میں غیر یقینی کو بڑھایا ہے۔
اس لیے ہرمز کی بحالی محض ایران اور امریکا کے درمیان ایک سفارتی رعایت نہیں ہوگی بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی اہم پیش رفت سمجھی جائے گی۔ تیل اور گیس کی ترسیل میں رکاوٹ سے نقل و حمل، صنعت، خوراک اور دیگر شعبوں کی لاگت متاثر ہوتی ہے۔ رائٹرز کی حالیہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کی جنگ اور ہرمز میں خلل نے ایندھن خصوصاً ڈیزل کی قیمتوں اور عالمی رسد پر نمایاں دباؤ ڈالا ہے، جبکہ مکمل معمول کی بحالی میں وقت لگ سکتا ہے۔
تاہم صرف اقتصادی دباؤ میں کمی یا آبنائے ہرمز کھولنے سے پورا تنازع ختم ہونا ضروری نہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات میں فوجی سرگرمیوں، پابندیوں، علاقائی سلامتی اور باہمی اعتماد کی شدید کمی جیسے معاملات بھی شامل ہیں۔ اسی لیے مرحلہ وار فارمولے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں فریق اپنے وعدوں کو کس حد تک قابلِ تصدیق بناتے ہیں اور کیا کسی تیسرے فریق یا ثالث کے ذریعے معاہدے کی نگرانی کا مؤثر طریقہ وضع کیا جا سکتا ہے۔
دوسری طرف خلیجی ممالک بھی اس تنازعے کے براہ راست اثرات سے محفوظ نہیں۔ سعودی عرب، قطر، بحرین، کویت، عمان اور متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے ممالک کے لیے آبنائے ہرمز کی سلامتی اور توانائی کی مسلسل ترسیل بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ قطر کی جانب سے ایران اور عرب خلیجی ممالک کے درمیان ایک وسیع تر علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے، جس میں اقتصادی باہمی انحصار اور سلامتی کی ضمانتوں کو اہمیت دینے کی بات کی گئی ہے۔
اس تناظر میں امریکا ایران مذاکرات صرف دو ممالک کے درمیان جنگ بندی کا معاملہ نہیں رہے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی اور عالمی توانائی کے نظام سے جڑ چکے ہیں۔ یمن میں حوثی سرگرمیوں، بحیرہ احمر میں کشیدگی اور خلیجی ممالک کے سکیورٹی خدشات نے بھی تنازعے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ چنانچہ کسی بھی معاہدے کو صرف واشنگٹن اور تہران کے دوطرفہ وعدوں تک محدود رکھنے کے بجائے علاقائی سلامتی کے وسیع تر تناظر میں دیکھنا ہوگا۔
ایران کی جانب سے سفارتی راستہ دوبارہ فعال کرنے کے اشارے اور امریکا کی جانب سے مذاکرات کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہ کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ کے باوجود سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ تاہم واشنگٹن اور تہران کے بیانات میں موجود فرق یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ فوری اور جامع معاہدے کے بجائے مرحلہ وار پیش رفت زیادہ قابلِ غور راستہ بن سکتی ہے۔ سابق امریکی مذاکرات کار ڈینس راس کی جانب سے معاہدے کے امکانات کے بارے میں پیش کیا گیا اندازہ بھی ایک سیاسی تجزیہ ہے، حتمی پیش گوئی نہیں، اور اس کا دارومدار آنے والے ہفتوں میں مذاکرات اور میدانِ جنگ کی صورتحال پر ہوگا۔
اصل سوال اب یہ ہے کہ کیا دونوں فریق جنگ کو ختم کرنے کے لیے اتنی محدود رعایتوں سے آغاز کر سکتے ہیں جن سے اعتماد سازی کا عمل شروع ہو، مگر کوئی فریق اسے اپنی بنیادی پوزیشن سے دستبرداری نہ سمجھے۔ اگر ایران ہرمز کی بحالی، سمندری سلامتی اور دیگر عملی اقدامات پر پیش رفت کے لیے تیار ہوتا ہے اور امریکا فوجی دباؤ میں کمی اور پابندیوں میں قابلِ تصدیق نرمی کے راستے پر آتا ہے تو مرحلہ وار جنگ بندی ایک قابلِ عمل مذاکراتی راستہ بن سکتی ہے۔ لیکن اگر دونوں جانب سے پہلے مکمل رعایت کا مطالبہ برقرار رہا تو موجودہ ڈیڈلاک طویل ہو سکتا ہے۔
اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہ راست تصادم کو مزید پھیلنے سے روکا جائے اور ایسے قابلِ تصدیق اقدامات تلاش کیے جائیں جن سے جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور اقتصادی سرگرمیوں کی واپسی کا راستہ کھلے۔ مرحلہ وار معاہدہ اگر آگے بڑھتا ہے تو یہ صرف جنگ روکنے کا انتظام نہیں ہوگا بلکہ اعتماد سازی کے ایک طویل عمل کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے دونوں فریقوں کو اپنے زیادہ سے زیادہ مطالبات کے بجائے ایسے عملی نکات پر توجہ دینا ہوگی جن پر باہمی ضمانت اور نگرانی کے ساتھ پیش رفت ممکن ہو۔
