کیا 27ستمبر سے پہلے PTIاور حکومت میں بریک تھرو ممکن ہے؟

پاکستان میں 27 ستمبر کے متوقع احتجاج سے قبل سیاسی کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کے خاندان کے متعدد افراد کی گرفتاریوں، ان کی صحت اور طبی سہولیات سے متعلق اہل خانہ کے دعوؤں، جبکہ حکومت کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت انتظامات نے ملک کے پہلے سے کشیدہ سیاسی ماحول میں ایک نیا پہلو پیدا کر دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ احتجاجی مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، خاندان کے افراد کی گرفتاریوں نے سیاسی بحث کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

عمران خان کے بیٹوں سلیمان خان اور قاسم خان نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ انہیں اپنے والد کی صحت کے بارے میں بہت کم یا تقریباً کوئی معلومات مل رہی ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان نے آخری مرتبہ مارچ میں فون پر گفتگو کے دوران اپنی دائیں آنکھ کی بینائی میں 85 فیصد کمی کی شکایت کی تھی، جبکہ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں مناسب طبی سہولیات، اپنے ذاتی معالج اور خاندان سے باقاعدہ رابطے تک مکمل رسائی حاصل نہیں۔ یہ دعوے عمران خان کے خاندان کی جانب سے سامنے آئے ہیں، جبکہ حکومتی مؤقف اس معاملے میں مختلف ہے۔

عمران خان کے بیٹوں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ان کے والد کو ذاتی معالج تک رسائی دی جائے اور انہیں شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرکے آزادانہ طبی معائنہ کرانے کی سہولت فراہم کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ خاندان کے افراد اور وکلا سے رابطے میں پابندیوں نے ان کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ اس معاملے میں اصل صورت حال جاننے کے لیے طبی ریکارڈ، عدالتی احکامات اور متعلقہ حکام کے مؤقف کو بھی سامنے رکھنا اہم ہوگا۔

دوسری جانب 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل عمران خان کی تین بہنوں کی لاہور میں گرفتاری نے بھی سیاسی ماحول کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ سرکاری احکامات کے مطابق انہیں عوامی سلامتی اور امن و امان کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے 30 روز کے لیے حراست میں رکھنے کا حکم دیا گیا۔ عمران خان کے بیٹوں اور تحریک انصاف سے وابستہ افراد نے ان گرفتاریوں کو سیاسی دباؤ اور خاندان کو خوفزدہ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے، جبکہ حکومتی مؤقف یہ ہے کہ ریاست کی ترجیح احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنا اور کسی بھی ایسی سرگرمی کو روکنا ہے جس سے شہریوں کی جان و مال کو خطرہ لاحق ہو۔

حکومت نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں سکیورٹی انتظامات بھی سخت کر دیے ہیں۔ اہم داخلی راستوں پر کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں قائم کی گئی ہیں، پولیس کی بڑی نفری تعینات کی جا رہی ہے اور حساس مقامات کے تحفظ کے لیے اضافی انتظامات کیے گئے ہیں۔ حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج کی اجازت کے قانونی حق اور امن و امان برقرار رکھنے کی ریاستی ذمہ داری کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ اس کے سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں سے احتجاج کو روکنے کے بجائے سیاسی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

اس صورتحال کی حساسیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ پاکستان میں ماضی کے سیاسی احتجاج کئی مرتبہ پرتشدد واقعات میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ مئی 2023 میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاج کے دوران سرکاری اور فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا اور جانی نقصان بھی ہوا۔ اسی طرح 2024 کے احتجاج کے دوران اسلام آباد میں مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ حکومت انہی سابقہ واقعات کو بنیاد بنا کر سکیورٹی خدشات کا حوالہ دے رہی ہے، جبکہ تحریک انصاف ان واقعات کے تناظر میں ریاستی اقدامات اور کارکنوں کے خلاف کارروائیوں پر سوالات اٹھاتی رہی ہے۔

موجودہ صورتحال میں عمران خان کے خاندان کی گرفتاریوں کا سیاسی اثر بھی زیر بحث ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق خاندان کے افراد کی گرفتاری تحریک انصاف کے حامیوں میں مزید غم و غصہ پیدا کر سکتی ہے، جبکہ حکومت کے نزدیک قانون اور امن و امان کی پابندی احتجاج کے دوران بنیادی ضرورت ہے۔ امریکی تھنک ٹینک سے وابستہ جنوبی ایشیا کے تجزیہ کار مائیکل کوگل مین نے بھی گرفتاریوں کے ممکنہ سیاسی اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں عمران خان کے حامیوں کو مزید متحرک کر سکتی ہیں۔ یہ ان کی تجزیاتی رائے ہے، حتمی سیاسی نتیجہ نہیں۔

اس تمام معاملے میں ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ احتجاج کے حق، سیاسی سرگرمی، خاندان کے افراد کی آزادی، زیر حراست شخص کے طبی حقوق اور ریاستی سلامتی کے تقاضوں کے درمیان توازن کس طرح قائم کیا جائے۔ اگر ریاست کسی فرد کو عوامی نظم و ضبط کے قوانین کے تحت حراست میں لیتی ہے تو اس اقدام کی قانونی بنیاد، مدت، شواہد اور عدالتی نگرانی اہم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح احتجاج کرنے والی جماعتوں کے لیے بھی پرامن اجتماع، شہریوں کی سلامتی اور قانون کی پابندی بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔

عمران خان کی طویل قید کے باعث ان کی صحت اور خاندان سے رابطے کا معاملہ بھی سیاسی بحث کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ اہل خانہ کی جانب سے طبی سہولیات اور رابطے کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کا شفاف جواب طبی معائنے اور مستند معلومات کے ذریعے ہی دیا جا سکتا ہے۔ اگر آزادانہ طبی معائنہ ہوتا ہے تو اس سے صحت سے متعلق مختلف دعوؤں کی حقیقت واضح کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور سیاسی تنازع کو طبی حقائق سے الگ رکھنے میں بھی آسانی ہوگی۔

27 ستمبر کا احتجاج اس لیے بھی اہم ہے کہ اس کے گرد پہلے ہی سکیورٹی، گرفتاریوں، راستوں کی بندش اور سیاسی دباؤ کے کئی معاملات جمع ہو چکے ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی بھی فریق کی جانب سے اشتعال انگیز اقدام یا طاقت کے غیر ضروری استعمال سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ اسی لیے احتجاج کے دوران انتظامیہ، پولیس، سیاسی جماعتوں اور کارکنوں کے اقدامات کا قانونی دائرے میں رہنا نہ صرف امن و امان بلکہ سیاسی کشیدگی کم رکھنے کے لیے بھی اہم ہوگا۔

موجودہ بحران کا مرکز صرف ایک احتجاج یا چند گرفتاریوں تک محدود نہیں بلکہ پاکستان میں جاری وسیع تر سیاسی کشمکش ہے۔ عمران خان کی گرفتاری، تحریک انصاف کی سیاسی سرگرمیاں، حکومت کی سکیورٹی پالیسی اور ریاستی اداروں کے کردار پر اختلافات کئی برس سے ملکی سیاست پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ ایسے میں خاندان کے افراد کی گرفتاریاں اور عمران خان کی صحت سے متعلق سوالات اس کشمکش کو مزید حساس بنا رہے ہیں۔

آنے والے دنوں میں اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ 27 ستمبر کے احتجاج کے دوران ریاست اور احتجاجی جماعت دونوں اپنے اپنے قانونی دائرے میں کس حد تک رہتے ہیں، گرفتار افراد کے حوالے سے قانونی طریقۂ کار کس طرح آگے بڑھتا ہے اور عمران خان کی صحت سے متعلق دعوؤں کی تصدیق کے لیے کیا شفاف طبی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن شہریوں کے پرامن اجتماع کے حق، قانون کی بالادستی، زیر حراست افراد کے قانونی حقوق اور عوامی جان و مال کے تحفظ کے اصول بیک وقت اہم رہتے ہیں۔ یہی وہ عوامل ہیں جو موجودہ کشیدگی کو مزید بڑھنے یا کسی حد تک کم ہونے کی سمت متعین کر سکتے ہیں۔

Back to top button