سوشل میڈیا انفلوئنسرزFBRکے نشانے پر کیسے آ گئے؟

پاکستان میں سوشل میڈیا اب صرف اظہارِ خیال، تفریح یا شہرت کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ لاکھوں افراد کے لیے آمدن کا باقاعدہ وسیلہ بن چکا ہے۔ یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی رقوم نے ایک نئی ڈیجیٹل معیشت کو جنم دیا ہے، لیکن اب اس آمدن پر ٹیکس کا دائرہ بھی واضح طور پر وسیع کیا جا رہا ہے۔ وفاقی بورڈ برائے محصولات نے سوشل میڈیا سے آمدن حاصل کرنے والے افراد کے لیے خصوصی طریقۂ کار متعارف کرایا ہے جس کے تحت آمدن کا ایک کم از کم تخمینہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ سہ ماہی بنیادوں پر پیشگی انکم ٹیکس کی ادائیگی بھی اس نظام کا حصہ بنائی گئی ہے۔

نئے طریقۂ کار کا سب سے زیادہ زیرِ بحث پہلو یوٹیوب کے لیے مقرر کیا گیا 195 روپے فی 1,000 ویوز کا ریونیو پر مائل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی مواد پر 1,000 ویوز ہوں تو مقررہ فارمولے کے تحت 195 روپے کی آمدن کا تخمینہ سامنے آتا ہے۔ 10,000 ویوز پر یہ رقم 1,950 روپے، 100,000 ویوز پر 19,500 روپے جبکہ 1,000,000 ویوز پر 195,000 روپے بنتی ہے۔ تاہم اسے ہر صورت میں تخلیق کار کو حقیقتاً موصول ہونے والی رقم قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ قواعد کے مطابق مقررہ ریونیو پر مائل اور حقیقی طور پر موصول ہونے والے معاوضے میں سے جو رقم زیادہ ہو، اسے آمدن کے تعین کے لیے بنیاد بنایا جائے گا۔

مثلاً اگر کسی تخلیق کار کی ویڈیو کو 1,000,000 ویوز ملتے ہیں تو مقررہ شرح کے مطابق تخمینی معاوضہ 195,000 روپے بنتا ہے۔ اگر تخلیق کار کا مؤقف ہو کہ اسے حقیقت میں اس سے کم رقم ملی ہے تو اسے اپنے دعوے کے حق میں متعلقہ ٹیکس حکام کو ثبوت فراہم کرنا ہوگا۔ یوں اصل مسئلہ صرف ویوز کی تعداد نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ ان ویوز سے حقیقت میں کتنی آمدن حاصل ہوئی اور اس کا قابلِ قبول ریکارڈ موجود ہے یا نہیں۔

ایف بی آر کے مقرر کردہ طریقۂ کار میں اخراجات کے لیے بھی محدود گنجائش رکھی گئی ہے۔ سوشل میڈیا مواد سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدن میں سے زیادہ سے زیادہ 30 فیصد اخراجات منہا کیے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص کی قابلِ حساب مجموعی آمدن 1,000,000 روپے بنتی ہے تو زیادہ سے زیادہ 300,000 روپے تک اخراجات منہا کیے جا سکتے ہیں، جس کے بعد 700,000 روپے کو خصوصی طریقۂ کار کے تحت آمدن کے حساب میں شامل کیا جائے گا۔

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے کہ 195 روپے فی 1,000 ویوز خود ٹیکس کی شرح نہیں بلکہ آمدن کا تخمینہ لگانے کے لیے مقرر کردہ ریونیو پر مائل ہے۔ اصل قابلِ ٹیکس آمدن کا تعین خصوصی طریقۂ کار کے تحت آمدن اور قابلِ قبول اخراجات کو سامنے رکھ کر ہوگا، جبکہ ٹیکس کی وصولی انکم ٹیکس قوانین کے مطابق کی جائے گی۔ اسی طرح سہ ماہی پیشگی ٹیکس کی ادائیگی بھی اس نظام کا حصہ بنائی گئی ہے۔

اس نئے نظام کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ڈیجیٹل آمدن کی نگرانی روایتی کاروبار کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہے۔ بہت سے تخلیق کاروں کی آمدن براہ راست کسی پاکستانی بینک اکاؤنٹ میں نہیں آتی، بعض کو غیر ملکی کرنسی میں ادائیگی ہوتی ہے، بعض کو اشتہارات اور برانڈ معاہدوں سے رقم ملتی ہے جبکہ کچھ کو نقد یا غیر نقد معاوضہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ ایف بی آر کے قواعد میں نقد کے ساتھ غیر نقد معاوضے کو بھی حساب کا حصہ بنایا گیا ہے۔

اسی لیے نئے قواعد میں صرف پلیٹ فارم سے آنے والی رقم پر انحصار کرنے کے بجائے ویوز، صارفین کی تعداد اور حقیقی معاوضے کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ ایف بی آر نے غیر مقیم افراد کے لیے بھی الگ طریقۂ کار متعارف کرایا ہے۔ اگر کوئی غیر مقیم شخص پاکستان میں موجود صارفین کے ساتھ ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے باقاعدہ کاروباری تعامل سے آمدن حاصل کرتا ہے اور مقررہ شرائط پوری کرتا ہے تو وہ بھی اس نظام کے دائرے میں آ سکتا ہے۔ اس کے لیے سالانہ 50,000 سے زیادہ صارفین یا کسی ایک سہ ماہی میں 12,250 سے زیادہ صارفین کی حد مقرر کی گئی ہے۔

اس نظام کے نفاذ کا ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ مختلف پلیٹ فارمز پر آمدن کے طریقے ایک جیسے نہیں۔ یوٹیوب پر ویوز، اشتہارات اور ناظرین کے جغرافیائی محلِ وقوع کے لحاظ سے آمدن بدل سکتی ہے، جبکہ فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز کے مالیاتی نظام مختلف ہو سکتے ہیں۔ ڈیجیٹل شعبے سے وابستہ افراد نے بھی یہ سوال اٹھایا ہے کہ ایک مقررہ ریونیو پر مائل کو ہر قسم کے مواد اور ہر تخلیق کار پر لاگو کرنا عملی طور پر کس حد تک درست ہوگا۔

یہ اعتراض بھی سامنے آیا ہے کہ ہر 1,000 ویوز کی آمدن ایک جیسی نہیں ہوتی۔ تعلیم، ٹیکنالوجی، کاروبار اور بین الاقوامی ناظرین پر مبنی مواد کی اشتہاری قدر بعض اوقات مقامی تفریحی یا عمومی مواد سے مختلف ہوتی ہے۔ ڈیجیٹل صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ویوز کی تعداد کو آمدن کا واحد پیمانہ سمجھنا حقیقی مالی تصویر کو مکمل طور پر ظاہر نہیں کرتا۔ دوسری طرف ایف بی آر کی جانب سے مقرر کردہ طریقۂ کار کا مقصد ڈیجیٹل آمدن کے لیے ایک قابلِ حساب معیار فراہم کرنا ہے تاکہ اس شعبے کو بھی رسمی ٹیکس نظام میں شامل کیا جا سکے۔

پاکستان میں ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ بڑی تعداد میں پاکستانی یوٹیوب چینلز کے سبسکرائبرز لاکھوں تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ ہزاروں دیگر چینلز بھی قابلِ ذکر ناظرین رکھتے ہیں۔ پاکستانی تخلیق کاروں کا مواد بیرون ملک بھی دیکھا جاتا ہے، جس سے ڈیجیٹل معیشت کے لیے غیر ملکی آمدن کے امکانات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں کا شعبہ اب محض تفریحی سرگرمی نہیں بلکہ ایک باقاعدہ معاشی سرگرمی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

نئے نظام میں ٹیکس گوشوارے کی درستگی کی ذمہ داری بھی اہم ہو جاتی ہے۔ اگر کسی شخص کی جانب سے ظاہر کی گئی آمدن خصوصی طریقۂ کار کے تحت مقررہ حساب سے کم پائی جاتی ہے تو متعلقہ ٹیکس کمشنر کو گوشوارے میں موجود کمی یا غلطی کی اصلاح اور واجب الادا رقم کی وصولی کا اختیار حاصل ہوگا۔ اس لیے سوشل میڈیا سے آمدن حاصل کرنے والوں کے لیے بینک ریکارڈ، پلیٹ فارم کی ادائیگیوں، اشتہاری معاہدوں، اسپانسرشپ اور دیگر معاوضوں کا مکمل حساب رکھنا پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔

اس پوری پالیسی کا بنیادی مقصد ڈیجیٹل معیشت کو رسمی ٹیکس نظام کا حصہ بنانا ہے۔ روایتی کاروبار اور ملازمت پیشہ افراد سے آمدن کا ریکارڈ طلب کیا جاتا ہے تو سوشل میڈیا سے نمایاں آمدن حاصل کرنے والے افراد کے لیے بھی ٹیکس نظام میں شمولیت ایک الگ اصول نہیں ہو سکتی۔ تاہم اس نظام کی عملی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آمدن کے تعین کا طریقۂ کار حقیقی ڈیجیٹل مارکیٹ، مختلف پلیٹ فارمز کے فرق اور تخلیق کاروں کی اصل وصولیوں کو کس حد تک درست طور پر ظاہر کرتا ہے۔

یوں 195 روپے فی 1,000 ویوز کی شرح کو صرف یہ سمجھنا کہ حکومت ہر 1,000 ویوز پر 195 روپے ٹیکس وصول کرے گی، درست تصویر نہیں۔ اصل معاملہ آمدن کے تخمینے، حقیقی معاوضے، زیادہ سے زیادہ 30 فیصد قابلِ قبول اخراجات، سہ ماہی پیشگی ٹیکس اور سالانہ گوشوارے کے مجموعی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ ڈیجیٹل تخلیق کاروں کے لیے اب ویوز اور فالوورز کے ساتھ ساتھ مالی ریکارڈ، ادائیگیوں کے ثبوت اور ٹیکس قوانین کو سمجھنا بھی ان کے پیشہ ورانہ کام کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے۔

Back to top button