پاکستان میں گورنر راج کب کب لگا اور ہر بار وجہ کیا بنی؟

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں گورنر راج محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات، سیاسی بحران اور آئینی کشمکش کی ایک اہم علامت رہا ہے۔ قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں سے لے کر 2013 تک مختلف صوبوں میں ایسے مواقع آتے رہے جب منتخب صوبائی حکومتیں ختم کی گئیں یا ان کے معمول کے اختیارات گورنر کو منتقل کردیئے گئے۔ کبھی وجہ سیاسی عدم استحکام بنی، کبھی مرکز اور صوبے کے درمیان شدید اختلافات، کبھی امن و امان کا بحران اور کبھی ایسا آئینی تعطل جس میں صوبائی حکومت کے معمول کے مطابق چلنے پر سوال اٹھا۔

موجودہ آئینی نظام میں اس کا بنیادی قانونی راستہ آرٹیکل 234 ہے۔ اس کے تحت اگر صدرِ مملکت، گورنر کی رپورٹ یا دستیاب دیگر معلومات کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچیں کہ کسی صوبے کی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی تو صدر اعلامیے کے ذریعے گورنر کو صوبائی حکومت کے تمام یا بعض اختیارات سنبھالنے کی ہدایت دے سکتے ہیں۔ آئین یہ بھی اجازت دیتا ہے کہ بعض حالات میں صوبائی اسمبلی کے اختیارات پارلیمنٹ کے ذریعے استعمال کیے جائیں، تاہم صوبائی ہائیکورٹ کے اختیارات اس طریقے سے صدر یا گورنر کو منتقل نہیں کیے جاسکتے۔

پاکستان میں گورنر راج کی پہلی معروف مثال پنجاب میں 25 جنوری 1949 کو سامنے آئی۔ اس وقت نواب افتخار حسین خان ممدوٹ وزیراعلیٰ پنجاب تھے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق وزیراعظم لیاقت علی خان اور ممدوٹ حکومت کے درمیان اسمبلی میں اکثریت اور صوبائی سیاسی صورت حال کے حوالے سے اختلافات پیدا ہوئے۔ بالآخر ممدوٹ کو منصب سے ہٹا کر صوبائی انتظام گورنر کے ذریعے چلایا گیا۔ یہ انتظام 5 اپریل 1951 تک جاری رہا، جس کے بعد نئی سیاسی حکومت قائم ہوئی۔

سندھ میں اس کے بعد 29 دسمبر 1951 کو گورنر راج نافذ کیا گیا، جو 22 مئی 1953 تک جاری رہا۔ اس دور میں میاں امین الدین گورنر تھے۔ سندھ کے ابتدائی سیاسی حالات میں حکومت سازی، اندرونی اختلافات اور صوبائی سیاسی عدم استحکام نمایاں تھے۔ یوں ملک کے پہلے برسوں ہی میں یہ روایت قائم ہوگئی کہ جب مرکز کسی صوبائی حکومت کو مؤثر طور پر چلنے کے قابل نہ سمجھے تو گورنر کے ذریعے براہِ راست انتظام کا راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔

1970 کی دہائی میں یہ معاملہ زیادہ حساس شکل اختیار کر گیا۔ بلوچستان میں سردار عطا اللہ مینگل کی حکومت اور وفاق کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرتے گئے اور 13 فروری 1973 کو صوبائی حکومت برطرف کرکے گورنر راج نافذ کردیا گیا۔ یہ انتظام 27 اپریل 1973 تک جاری رہا۔ بلوچستان میں مرکز اور قوم پرست سیاسی قوتوں کے درمیان کشمکش اس دور کا بنیادی پس منظر تھی اور اس کے بعد صوبے میں سیاسی و عسکری تنازعات مزید پیچیدہ ہوئے۔

بلوچستان میں 31 دسمبر 1975 کو دوبارہ صوبائی انتظام گورنر کے تحت کردیا گیا۔ یہ دور 6 دسمبر 1976 تک جاری رہا۔ اس مرتبہ بھی مرکز اور صوبائی سیاسی قوتوں کے درمیان شدید اختلافات اور صوبائی حکومت کے مستقبل سے متعلق تنازع بنیادی پس منظر میں موجود تھا۔ یوں بلوچستان ان صوبوں میں شامل ہوگیا جہاں گورنر راج ایک سے زیادہ مرتبہ سیاسی بحران کے حل کے لیے استعمال کیا گیا۔

اسی دور میں موجودہ خیبرپختونخوا، جو اس وقت شمال مغربی سرحدی صوبہ کہلاتا تھا، بھی گورنر راج کے تجربے سے گزرا۔ 16 فروری 1975 کو صوبائی حکومت ختم کی گئی اور 3 مئی 1975 تک گورنر کے ذریعے انتظام چلایا گیا۔ بعد میں نئی سیاسی صف بندی کے نتیجے میں صوبائی حکومت دوبارہ قائم ہوئی۔ اس واقعے نے بھی یہ ظاہر کیا کہ مرکز اور صوبے کے درمیان سیاسی اختلافات جب شدید ہوجائیں تو صوبائی حکومت کی مدت اور اختیارات براہِ راست متاثر ہوسکتے ہیں۔

1988 میں سندھ میں ایک بار پھر گورنر راج نافذ ہوا۔ یہ دور 24 جون سے 31 اگست تک جاری رہا۔ جنرل ریٹائرڈ رحیم الدین خان نے گورنر کی حیثیت سے صوبائی انتظام سنبھالا۔ اس وقت سندھ، خصوصاً کراچی اور حیدرآباد، شدید سیاسی اور لسانی کشیدگی کا سامنا کررہے تھے۔ امن و امان کی صورتحال اور سیاسی بحران اس اقدام کے اہم پس منظر میں شمار ہوتے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں 25 فروری 1994 کو دوسری مرتبہ گورنر راج نافذ ہوا اور 24 اپریل 1994 کو ختم کردیا گیا۔ اس وقت پیر صابر شاہ وزیراعلیٰ تھے۔ صدر نے آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے گورنر کو صوبائی حکومت کے اختیارات سنبھالنے کی ہدایت کی۔ بعد میں آفتاب احمد خان شیرپاؤ وزیراعلیٰ بنے اور گورنر راج ختم ہوگیا۔

1998 میں سندھ ایک مرتبہ پھر براہِ راست گورنر انتظام کے تحت آیا۔ اس وقت وزیراعظم نواز شریف کی حکومت تھی اور سندھ میں لیاقت علی جتوئی وزیراعلیٰ تھے۔ کراچی میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال، وفاق اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان شدید سیاسی اختلافات اور حکیم محمد سعید کے قتل کے بعد پیدا ہونے والے بحران نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا۔ 30 اکتوبر 1998 کو سندھ حکومت ختم کرکے گورنر راج نافذ کیا گیا اور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ معین الدین حیدر نے صوبائی انتظام سنبھالا۔ یہ انتظام 17 جون 1999 تک جاری رہا۔

2009 میں پنجاب میں گورنر راج پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک انتہائی اہم واقعہ بن کر سامنے آیا۔ اس وقت شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے اور سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد ان کی نااہلی سے پیدا ہونے والے آئینی بحران کو بنیاد بنایا گیا۔ 25 فروری 2009 کو صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت پنجاب میں گورنر راج نافذ کردیا۔ گورنر سلمان تاثیر نے صوبائی حکومت کے اختیارات سنبھالے۔ تاہم پنجاب اسمبلی تحلیل نہیں کی گئی تھی؛ وزیراعلیٰ اور کابینہ کو عہدوں سے ہٹا کر صوبائی انتظام گورنر کے سپرد کیا گیا۔ 30 مارچ 2009 کو گورنر راج ختم ہوا اور شہباز شریف دوبارہ وزیراعلیٰ بن گئے۔

بلوچستان میں 2013 کا گورنر راج اس روایت کی آخری نمایاں مثالوں میں شمار ہوتا ہے۔ جنوری 2013 میں کوئٹہ میں ہزارہ شیعہ برادری کے خلاف بم دھماکوں کے بعد شدید احتجاج ہوا۔ مظاہرین نے صوبائی حکومت سے امن و امان بہتر بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس بحران کے بعد وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی حکومت نے بلوچستان حکومت ختم کرکے گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ صوبائی انتظام گورنر نواب ذوالفقار مگسی کے سپرد کیا گیا اور بعد میں صوبائی حکومت بحال کردی گئی۔

یہاں ایک اہم تاریخی نکتہ بھی سامنے آتا ہے۔ بعض تاریخی جائزوں میں 1999 سے 2002 کے فوجی دور کو بھی صوبائی گورنر انتظام کے تسلسل میں شمار کیا جاتا ہے۔ دستیاب تاریخی ریکارڈ کے مطابق خیبرپختونخوا میں 12 اکتوبر 1999 سے 30 نومبر 2002 اور بلوچستان میں اسی فوجی دور کے دوران 12 اکتوبر 1999 سے یکم دسمبر 2002 تک گورنر کے ذریعے براہِ راست انتظام موجود رہا۔ تاہم اس دور کو عام طور پر آئینی آرٹیکل 234 کے تحت نافذ ہونے والے مختصر المدتی ’’گورنر راج‘‘ کے واقعات سے الگ تناظر میں دیکھا جاتا ہے، کیونکہ ملک بھر میں اس وقت فوجی اقتدار کا وسیع تر نظام موجود تھا۔

پاکستان کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ایک دلچسپ پیٹرن سامنے آتا ہے۔ گورنر راج کبھی صرف امن و امان کی خرابی کی بنیاد پر سامنے آیا، کبھی سیاسی اکثریت اور حکومت سازی کے تنازع کے نتیجے میں، کبھی مرکز اور صوبے کے درمیان شدید اختلافات کے باعث اور کبھی ایسے آئینی بحران میں جب صوبائی حکومت کے معمول کے مطابق کام کرنے پر سوال اٹھا۔ اس لیے گورنر راج کی تاریخ کو صرف ’’امن و امان‘‘ یا صرف ’’سیاسی مداخلت‘‘ کے ایک فارمولے میں محدود نہیں کیا جاسکتا؛ ہر دور کا سیاسی اور آئینی پس منظر مختلف رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج جب خیبرپختونخوا میں دوبارہ گورنر راج کی بات ہورہی ہے تو ماضی کی مثالیں خاص اہمیت اختیار کرگئی ہیں۔ موجودہ بحث میں اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں ماضی میں گورنر راج کتنی مرتبہ لگا، بلکہ یہ ہے کہ آئین کا آرٹیکل 234 کن حالات میں اس اختیار کو استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے اور کیا موجودہ حالات ان آئینی شرائط پر پورے اترتے ہیں۔ اس کا تعین سیاسی بیانات سے نہیں بلکہ آئینی طریقہ کار، متعلقہ دستاویزات اور ضرورت پڑنے پر عدالتی تشریح سے ہوگا۔

پاکستان کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ گورنر راج عموماً کسی بڑے سیاسی یا آئینی بحران کے بعد نافذ ہوا اور اس کا خاتمہ بھی کسی نئی سیاسی ترتیب، حکومت سازی یا حالات میں بہتری کے ساتھ ہوا۔ اس لیے یہ اختیار اگر کبھی استعمال ہو تو اس کے اثرات صرف چند ہفتوں یا مہینوں کی انتظامی تبدیلی تک محدود نہیں رہتے بلکہ وفاق اور صوبے کے تعلقات، سیاسی جماعتوں کے باہمی اعتماد اور مستقبل کی سیاست پر بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

موجودہ خیبرپختونخوا کے تناظر میں بھی یہی بنیادی سوال سامنے ہے کہ کیا سیاسی احتجاج، امن و امان کے خدشات اور وفاق و صوبے کے درمیان اختلافات اس سطح تک پہنچ چکے ہیں جہاں آئین کا آرٹیکل 234 زیرِ غور آنا چاہیے، یا سیاسی اور انتظامی مسائل کا حل صوبائی حکومت کو برقرار رکھتے ہوئے نکالا جاسکتا ہے۔ اس کا جواب سیاسی دعووں سے زیادہ آئینی شرائط اور زمینی حقائق طے کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں گورنر راج کی پوری تاریخ آج کے سیاسی حالات کو سمجھنے کے لیے ایک اہم آئینی اور تاریخی حوالہ فراہم کرتی ہے۔

Back to top button