سومنات: تاریخی سیاسی نعرہ اور دھمکی کیسے بن گیا؟

تاریخ میں کچھ نام صرف نام نہیں رہتے، وہ استعارے بن جاتے ہیں۔ کچھ مقامات صرف مقامات نہیں رہتے، بلکہ صدیوں کے واقعات، مذہبی تصورات، جنگوں، فتوحات اور سیاسی یادداشتوں کی علامت بن جاتے ہیں۔ سومنات بھی ایسا ہی ایک نام ہے۔ لیکن جب 11ویں صدی کے ایک تاریخی واقعے کو 21ویں صدی کی سیاسی کشمکش میں نعرے کے طور پر استعمال کیا جائے اور کہا جائے کہ ’’ہم اسلام آباد کو سومنات بنا دیں گے‘‘ تو سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ یہ جملہ کس سیاسی جذبے کے تحت بولا گیا، بلکہ یہ بھی اہم ہوجاتا ہے کہ سومنات تھا کیا، محمود غزنوی کون تھا، اس مہم کا اصل تاریخی پس منظر کیا تھا اور آج کے پاکستان میں اس استعارے کا سیاسی مفہوم کیا بنتا ہے۔

سومنات موجودہ بھارتی ریاست گجرات کے ساحل پر واقع ایک قدیم مذہبی مقام ہے، جسے ہندو مذہبی روایت میں شیو کے مقدس جیوترلنگوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس مقام کی تاریخ تعمیر، انہدام اور تعمیرِ نو کے مختلف ادوار سے گزری ہے۔ تاہم سومنات کا سب سے معروف تاریخی باب 11ویں صدی میں اس وقت سامنے آیا جب سلطان محمود غزنوی نے 1025-26 میں گجرات کی طرف مہم کی اور سومنات کے مندر پر حملہ کیا۔ تاریخی ماخذ اس مہم، شدید مزاحمت، مندر کی لوٹ مار اور بڑی مقدار میں مالِ غنیمت حاصل ہونے کا ذکر کرتے ہیں۔ انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا کے مطابق محمود غزنوی کی ہندوستانی مہمات میں دولت، غلاموں اور جنگی غنیمت کا حصول ایک نمایاں محرک تھا، جبکہ ان مہمات کو مذہبی کامیابی اور مخالف مذہب کے خلاف جنگ کے طور پر بھی بڑے پیمانے پر پیش کیا گیا۔

یہاں تاریخ کی پیچیدگی کو سمجھنا ضروری ہے۔ محمود غزنوی کو صرف مذہبی فاتح، بت شکن یا صرف دولت کا متلاشی قرار دینا، دونوں صورتوں میں اس دور کی سیاسی اور عسکری حقیقت کو سادہ بنا دیتا ہے۔ وہ ایک طاقتور حکمران اور وسیع فوجی سلطنت کا سربراہ تھا، جس کی ہندوستانی مہمات مسلسل عسکری کارروائیوں کا حصہ تھیں۔ سومنات ان مہمات میں ایک اہم پڑاؤ ضرور تھا، مگر اس کی پوری سیاسی زندگی کو صرف اسی ایک واقعے کے ذریعے سمجھنا تاریخ کو محدود کرنا ہوگا۔ ایرانیکا کے مطابق اس کی ہندوستانی مہمات کا ایک بنیادی پہلو مالِ غنیمت کا حصول تھا، جبکہ مذہبی فتح کی تشہیر نے اس کامیابی کو اس دور کی سیاسی و مذہبی دنیا میں ایک خاص معنویت دی۔

سومنات کی اصل تاریخی اہمیت شاید اس بات میں ہے کہ محمود غزنوی کے حملے کے بعد بھی اس مقام کی کہانی ختم نہیں ہوئی۔ مختلف ادوار میں اس کی تعمیر اور انہدام کا سلسلہ جاری رہا اور بعد میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ یوں سومنات محض ایک تاریخی حملے کا نام نہیں رہا بلکہ ہندوستانی اجتماعی حافظے میں ایک طویل تاریخی تسلسل کی علامت بھی بن گیا۔ یہی وجہ ہے کہ سومنات کو صرف ’’محمود غزنوی نے حملہ کیا‘‘ کے ایک جملے میں سمیٹ دینا اس کی پوری تاریخ کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔

اب سوال اسلام آباد کا ہے۔

20 ستمبر 2026 کو پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے 27 ستمبر کے احتجاج کے تناظر میں مختلف راستوں سے اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ موٹر وے اور جی ٹی روڈ کے علاوہ مارگلہ کے پہاڑوں سے بھی دارالحکومت پہنچیں گے اور اسلام آباد کو ’’سومنات‘‘ بنانے کی بات کی۔ اس بیان کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے ردعمل سامنے آیا کہ اسلام آباد نہ سومنات ہے اور نہ جنید اکبر محمود غزنوی، کیونکہ اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت اور وفاق کی علامت ہے۔

یہاں اصل مسئلہ سیاسی اختلاف سے زیادہ سیاسی زبان کا ہے۔

اسلام آباد کوئی قدیم مندر، قلعہ یا کسی متحارب سلطنت کا شہر نہیں۔ یہ پاکستان کا وفاقی دارالحکومت ہے جہاں پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، سفارت خانے، سرکاری ادارے، تعلیمی مراکز، اسپتال، کاروباری ادارے اور شہری آبادی موجود ہے۔ اس لیے دارالحکومت کو کسی تاریخی جنگی مہم یا فتح کے استعارے میں تبدیل کرنا سیاسی احتجاج کی زبان کو ایک مختلف مفہوم دے سکتا ہے۔

جمہوری معاشرے میں احتجاج بنیادی سیاسی عمل ہے۔ حکومت سے اختلاف کرنا، اپنے مطالبات کے لیے جلسہ کرنا، ریلی نکالنا اور پرامن طور پر آواز بلند کرنا سیاسی حقوق کا حصہ ہیں۔ لیکن احتجاج کی زبان جب ’’فتح‘‘، ’’حملے‘‘ یا تاریخی جنگی مہمات کے استعاروں میں تبدیل ہونے لگے تو اس کے اثرات محض الفاظ تک محدود نہیں رہتے۔ سیاسی رہنماؤں کے الفاظ کارکنوں اور عام شہریوں کے لیے ایک خاص ماحول پیدا کرتے ہیں، اس لیے ان سے معمول سے زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ حکومت پر سیاسی دباؤ ڈالنا اور ریاستی دارالحکومت کو فتح کرنے کی زبان استعمال کرنا ایک ہی چیز نہیں۔ اپوزیشن کا حق ہے کہ وہ حکومت کے خلاف احتجاج کرے، اپنے سیاسی مطالبات پیش کرے اور عوام کو متحرک کرے، لیکن احتجاج کا پرامن رہنا، شہریوں کی روزمرہ زندگی متاثر نہ کرنا اور قانون کی حدود میں رہنا اسی سیاسی عمل کو جمہوری دائرے میں برقرار رکھتا ہے۔ اسی طرح حکومت کی ذمہ داری بھی صرف امن و امان برقرار رکھنا نہیں بلکہ پرامن سیاسی سرگرمی اور شہری آزادیوں کے قانونی حق کو بھی ملحوظ رکھنا ہے۔

سومنات کا استعارہ استعمال کرنے والوں کے لیے بھی تاریخ ایک دلچسپ سوال چھوڑتی ہے۔ اگر سومنات کی مثال محمود غزنوی کی مہم کے حوالے سے دی جارہی ہے تو پھر تاریخ کا دوسرا حصہ بھی سامنے رکھنا ہوگا۔ محمود آیا، حملہ کیا، مالِ غنیمت حاصل کیا اور واپس چلا گیا، لیکن سومنات کی تاریخی شناخت ختم نہیں ہوئی۔ صدیوں بعد بھی وہ موجود رہا اور مختلف ادوار میں تعمیرِ نو کے مراحل سے گزرتا رہا۔ اس لحاظ سے سومنات صرف حملے کی علامت نہیں بلکہ تاریخی تسلسل کی علامت بھی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ کو سیاسی نعرے سے الگ کرکے دیکھنے کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔ تاریخ میں فاتح بھی رہتے ہیں اور شکست خوردہ بھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ واقعات کے معنی بدلتے رہتے ہیں۔ ایک دور میں جو واقعہ مذہبی فتح کے طور پر بیان کیا گیا، دوسرے دور میں اسے عسکری مہم، سیاسی اقتدار، مالی مفادات اور ثقافتی تصادم کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ جدید تاریخی تحقیق اسی لیے کسی ایک واقعے کو صرف ایک نعرے یا ایک کردار کے ذریعے سمجھنے کے بجائے اس کے متعدد محرکات اور نتائج کا جائزہ لیتی ہے۔

محمود غزنوی کی مثال بھی یہی سبق دیتی ہے۔ اس کی ہندوستانی مہمات میں مذہبی پہلو کی تشہیر موجود تھی، لیکن تاریخی شواہد مالی اور عسکری مفادات کی اہمیت بھی واضح کرتے ہیں۔ اس لیے اسے مکمل طور پر صرف ایک مذہبی فاتح یا صرف ایک لٹیرا قرار دینا دونوں ہی تاریخ کو سادہ بنانے کے مترادف ہوگا۔

آج کا پاکستان 11ویں صدی کا ہندوستان نہیں، اسلام آباد سومنات نہیں اور موجودہ سیاسی قیادت قرون وسطیٰ کے کسی سلطان کی جگہ نہیں لے سکتی۔ آج ایک آئینی ریاست موجود ہے، پارلیمانی ادارے موجود ہیں، سیاسی جماعتیں موجود ہیں اور اختلاف کے اظہار کے لیے آئینی و قانونی راستے موجود ہیں۔ اس لیے قرون وسطیٰ کی جنگی علامتوں کو موجودہ سیاسی کشمکش پر منطبق کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس سے سیاسی اختلاف کی نوعیت واضح ہوتی ہے یا مزید اشتعال پیدا ہوتا ہے۔

سیاست میں سخت زبان کوئی نئی چیز نہیں۔ سیاسی رہنما اپنے مخالفین کو للکارتے رہے ہیں، بڑے دعوے بھی کرتے رہے ہیں اور اپنے کارکنوں کو متحرک کرنے کے لیے تاریخی مثالیں بھی دیتے رہے ہیں۔ لیکن جب تاریخ کے ایسے واقعات جن میں جنگ، حملہ، تباہی اور فتح کا تصور موجود ہو، موجودہ سیاسی احتجاج کے لیے استعمال کیے جائیں تو الفاظ کے ممکنہ اثرات پر غور کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔

سومنات کی تاریخ کا شاید سب سے اہم سبق یہی ہے کہ تاریخ صرف فاتح کے نام سے نہیں بنتی۔ عمارتیں گرتی ہیں، دوبارہ بنتی ہیں، سلطنتیں ختم ہوجاتی ہیں، حکمران بدل جاتے ہیں، مگر تاریخی یادداشت باقی رہتی ہے۔ اسی لیے کسی موجودہ سیاسی تنازع کو ماضی کی جنگ سے تشبیہ دینے کے بجائے اسے آئین، قانون، سیاسی مذاکرات، عوامی مینڈیٹ اور پرامن احتجاج کے اصولوں کے اندر سمجھنا زیادہ معنی خیز ہے۔

27 ستمبر کے احتجاج کے تناظر میں اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اسلام آباد کو سومنات کون بنائے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ سیاسی اختلاف کو کس طرح ایسے راستے پر رکھا جائے جہاں حکومت کو جواب دینا پڑے، اپوزیشن کو احتجاج کا حق حاصل رہے، شہریوں کی زندگی متاثر نہ ہو، ریاستی ادارے سیاسی کشمکش کا میدان نہ بنیں اور کسی بھی فریق کے کارکن تصادم کی طرف نہ دھکیلے جائیں۔

کیونکہ تاریخ کو نعرہ بنانا آسان ہے، تاریخ سے سبق لینا مشکل۔ سومنات کی ایک ہزار سالہ کہانی میں سب سے نمایاں چیز صرف ایک حملہ نہیں بلکہ اس کے بعد کا تاریخی تسلسل ہے۔ اسی طرح آج کے پاکستان میں بھی سیاسی کامیابی کا پیمانہ صرف یہ نہیں کہ کون کس شہر میں پہنچا یا کس نے کس کو پسپا کیا؛ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ سیاسی اختلاف کے باوجود آئینی نظام، شہری امن اور اختلاف کا حق کس طرح برقرار رہتا ہے۔

اسلام آباد کو سومنات کہنا ایک سیاسی استعارہ ہوسکتا ہے، لیکن اگر تاریخ واقعی اس استعارے کے پیچھے کھڑی ہے تو پھر اس تاریخ کو مکمل طور پر پڑھنا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ تاریخ کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ شہر فتح کرنے سے زیادہ مشکل معاشروں کو ٹوٹنے سے بچانا ہے، اور سیاسی مخالف کو شکست دینے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود ریاست اور معاشرہ قائم رہیں۔

Back to top button