27 ستمبر کو وفاق اور KP حکومت کے ٹکراؤ کا خطرہ

تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی کال کے بعد وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کی حکومت آمنے سامنے آگئی ہیں اور دونوں جانب سے سخت بیانات، انتظامی اقدامات اور پولیس اختیارات کے تنازع نے صورت حال کو مزید کشیدہ کردیا ہے، ایسے میں احتجاج کے روز دونوں فریقین کے مابین ایک بڑے سیاسی تصادم کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
ایک جانب وفاقی حکومت اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ روکنے کے لیے سخت ترین سکیورٹی اقدامات کر رہی ہے تو دوسری طرف خیبر پختونخوا کی حکومت تحریک انصاف کے احتجاجی پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے سرکاری مشینری اور وسائل استعمال کر رہی ہے۔
گرفتاریوں، راستوں کی بندش، سخت سیاسی بیانات اور پولیس کے انتظامی اختیارات پر نئے تنازع نے وفاق اور صوبے کے درمیان پہلے سے موجود اختلافات کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی واضح کرچکے ہیں کہ حکومت 27 ستمبر کو کسی گروہ کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی، جبکہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ وہ اپنا احتجاجی پروگرام ترک نہیں کرے گی۔
تحریک انصاف نے 27 ستمبر کے احتجاج کا بنیادی مقصد عمران خان کی رہائی قرار دیا ہے اور خیبر پختونخوا سے ایک بڑے قافلے کی صورت میں اسلام آباد پہنچنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 پہلے ہی نافذ ہے اور انتظامیہ نے شہریوں کو غیر قانونی اجتماعات اور جلوسوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام آباد آنے والے متعدد اہم راستوں پر پابندیوں اور بندشوں کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جس کے باعث احتجاج سے قبل ہی معمول کی آمدورفت متاثر ہونے لگی ہے۔
وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان کشیدگی میں ایک نیا اور انتہائی اہم موڑ صوبائی پولیس کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کی منظوری ہے۔ خیبر پختونخوا کابینہ نے 23 ستمبر کو خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026 کے مجوزہ مسودے کی منظوری دی جس کے تحت موجودہ پولیس ایکٹ 2017 کو تبدیل کرنے اور انسپکٹر جنرل پولیس کے عملی، انتظامی اور مالی اختیارات کو صوبائی حکومت یا وزیراعلیٰ کی ہدایات اور منظوری سے مشروط کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ قانون کے تحت پولیس چیف کے اختیارات پولیس پالیسی بورڈ کی پالیسی اور صوبائی حکومت یا وزیراعلیٰ کی ہدایات کے تابع ہوں گے، جبکہ ریجنل پولیس افسران اور ضلعی پولیس افسران کے تبادلوں اور تعیناتیوں سمیت بعض اہم معاملات میں وزیراعلیٰ اور محکمہ داخلہ کا کردار بڑھ جائے گا۔
وفاقی حکومت نے ان تبدیلیوں پر اعتراض کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پولیس کمانڈ کے موجودہ ڈھانچے میں تبدیلی سے امن و امان اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودری نے اعلان کیا ہے کہ خیبر پختون خواہ حکومت کے اس نئے قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔
یہ قانون سازی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور وفاقی حکومت کے درمیان 27 ستمبر کے احتجاج کے معاملے پر پہلے ہی شدید اختلاف موجود ہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں احتجاج کو دبانے کی کوشش ہیں، جبکہ وفاقی حکومت انہیں امن و امان اور قانون کی عمل داری سے جوڑ رہی ہے۔ اسلام آباد اور خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریوں کی اطلاعات نے بھی دونوں حکومتوں کے درمیان اعتماد کے بحران کو مزید گہرا کردیا ہے۔
اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ نے 27 ستمبر کے احتجاج سے متعلق مقدمے میں واضح ہدایات جاری کی تھیں کہ کسی بھی صوبائی حکومت کے سرکاری وسائل، سرکاری گاڑیاں یا مشینری کو سیاسی احتجاج یا لانگ مارچ کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ کسی سیاسی جماعت یا سرکاری عہدے دار کو اسلام آباد میں شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت متاثر کرنے، سڑکیں اور شاہراہیں بند کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں۔
تاہم موجودہ صورتحال میں یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت عملی طور پر اس عدالتی پابندی پر کس حد تک عمل کرتی ہے۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور اس کی قیادت مسلسل اپنے کارکنوں کو احتجاج کے لیے متحرک کررہی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی پارٹی کے احتجاجی حق پر زور دیا ہے۔ اگر صوبائی حکومت کے عہدیدار، سرکاری گاڑیاں، پولیس یا دیگر ریاستی وسائل مارچ کی معاونت کرتے ہوئے نظر آئے تو یہ معاملہ محض وفاق اور صوبے کے سیاسی اختلاف تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عدالتی حکم کی ممکنہ خلاف ورزی کا معاملہ بھی بن سکتا ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے اسلام آباد کو محفوظ رکھنے کے لیے سکیورٹی اقدامات سخت کردیئے ہیں۔ دارالحکومت کے داخلی راستوں، اہم شاہراہوں اور ریڈ زون کے اطراف سکیورٹی بڑھائی جارہی ہے جبکہ بعض اہم راستوں پر ٹریفک پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ احتجاج کے نام پر شہریوں کی معمول کی زندگی، سرکاری عمارتوں اور اہم تنصیبات کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، جبکہ تحریک انصاف اسے اپنے سیاسی احتجاج کے حق پر قدغن قرار دے رہی ہے۔
سومنات: تاریخی سیاسی نعرہ اور دھمکی کیسے بن گیا؟
اس سیاسی کشمکش میں گرفتاریوں کا معاملہ بھی مرکزی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ اس کے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی جارہی ہیں، جبکہ وفاقی حکام امن و امان برقرار رکھنے اور قانون کی خلاف ورزی روکنے کو ان اقدامات کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں سمیت بعض اہم شخصیات کی گرفتاریوں نے بھی احتجاج سے پہلے سیاسی درجہ حرارت بڑھایا ہے، تاہم ان کارروائیوں کی قانونی حیثیت اور ہر مقدمے کی نوعیت الگ الگ عدالتی عمل کے ذریعے طے ہوگی۔
خیبرپختونخوا کے لیے اس پوری صورتحال کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ صوبہ پہلے ہی دہشت گردی، امن و امان، مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں وفاق اور صوبے کے درمیان مسلسل محاذ آرائی سے انتظامی مشینری کی توجہ ان بنیادی مسائل سے ہٹنے کا خدشہ موجود ہے۔
27 ستمبر کا احتجاج اگر پرامن سیاسی سرگرمی تک محدود رہتا ہے تو کشیدگی کو سیاسی و آئینی دائرے میں رکھنے کی گنجائش موجود رہے گی، لیکن اگر سرکاری مشینری کے استعمال، سڑکوں کی بندش، گرفتاریوں یا پولیس اختیارات کے معاملے پر فریقین براہ راست ٹکرا گئے تو تنازع مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اصل امتحان وفاقی اور صوبائی حکومت دونوں کا ہوگا کہ وہ عدالتی احکامات، شہریوں کے بنیادی حقوق اور اپنے اپنے آئینی اختیارات کی حدود میں رہتے ہوئے 27 ستمبر کی صورتحال کو کس طرح سنبھالتی ہیں۔
