پولیس کی خودمختاری کی دعویدار PTIاسے تابعدار بنانے کے چکر میں کیوں؟

خیبرپختونخوا میں پولیس کی خودمختاری اور سیاسی مداخلت سے آزادی کا وہ ماڈل، جسے پاکستان تحریک انصاف اپنی اہم اصلاحات میں شمار کرتی رہی ہے، ایک بار پھر شدید سیاسی اور قانونی بحث کی زد میں ہے۔ صوبائی کابینہ نے 24 ستمبر 2026 کو خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 کی جگہ نیا پولیس قانون لانے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت پولیس کے انتظامی، آپریشنل اور مالی معاملات میں صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ کا کردار نمایاں طور پر بڑھ جائے گا، جبکہ آئی جی پولیس کے اختیارات محدود ہونے کی تجویز ہے۔

مجوزہ قانون کے مطابق پولیس کے انتظامی معاملات صوبائی پولیس افسر کے پاس رہیں گے، لیکن اس کے آپریشنل، مالی اور انتظامی اختیارات صوبائی حکومت یا وزیراعلیٰ کی جانب سے دی جانے والی پالیسی اور ہدایات سے مشروط ہوں گے۔ مجوزہ نظام میں پولیس پالیسی بورڈ قائم کرنے کی تجویز ہے جس کی سربراہی وزیراعلیٰ کریں گے، جبکہ پولیس آپریشنز بورڈ کی سربراہی صوبائی پولیس افسر کے پاس ہوگی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس تقسیم سے پالیسی اور آپریشن کے شعبوں میں واضح فرق پیدا ہوگا اور پولیس میں جواب دہی، نگرانی اور ادارہ جاتی نظم بہتر ہوگا۔

لیکن اصل بحث اس وقت شروع ہوتی ہے جب پولیس کے اعلیٰ افسران کی تعیناتی اور تبادلوں کا معاملہ سامنے آتا ہے۔ مجوزہ قانون میں گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے پولیس افسران کے تبادلوں کے لیے وزیراعلیٰ کی منظوری کو ضروری بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ آئی جی پولیس کے اختیارات بھی اس طرح محدود کرنے کی بات کی گئی ہے کہ صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ کی ہدایات پولیس کے اہم انتظامی اور آپریشنل فیصلوں پر اثرانداز ہوسکیں۔ اس کے علاوہ آئی جی پولیس کی تعیناتی کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے 3 افسران کا پینل بھیجے جانے اور صوبائی حکومت کو اس میں سے کسی ایک کا انتخاب یا پورے پینل کو مسترد کرنے کا اختیار دینے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔

یہ تبدیلی اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ 2017 میں خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ کا بنیادی تصور ہی یہ تھا کہ پولیس کے روزمرہ انتظامی اور آپریشنل معاملات کو سیاسی اثرورسوخ سے نسبتاً محفوظ رکھا جائے۔ اس وقت تحریک انصاف کی حکومت نے پولیس اصلاحات کو اپنی حکمرانی کے اہم ماڈل کے طور پر پیش کیا تھا اور آئی جی پولیس کو افسران کی تعیناتی، تبادلوں اور انتظامی امور میں وسیع اختیارات دیے گئے تھے۔ مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ پولیس افسران کو سیاسی دباؤ سے آزاد ماحول میں کام کرنے کا موقع ملے اور پولیس کا کمانڈ اسٹرکچر واضح رہے۔

مگر چند سال بعد یہی قانون خود تبدیلیوں کی زد میں آگیا۔ 2024 میں بھی خیبرپختونخوا کابینہ نے پولیس ایکٹ میں ایسی ترامیم کی منظوری دی تھی جن کے ذریعے بعض اختیارات آئی جی پولیس سے واپس وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت کو منتقل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے بعد قانونی تنازع پیدا ہوا اور عدالت میں ان ترامیم کو چیلنج کیا گیا۔ اب 2026 میں صوبائی حکومت نے اس سے بھی زیادہ وسیع دائرہ کار رکھنے والا نیا قانون متعارف کرانے کی منظوری دی ہے۔

یہاں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے سیاسی حکومت کو زیادہ انتظامی اختیار دینا ضروری ہے یا پولیس کے روزمرہ کمانڈ معاملات کو ایک پیشہ ورانہ اور نسبتاً خودمختار نظام کے تحت رہنا چاہیے؟ صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ نظام میں جواب دہی اور انتظامی خلا موجود ہیں جنہیں دور کرنے کے لیے نئی قانون سازی ضروری ہے۔ حکومت نے پولیس پالیسی اور آپریشنز کو الگ کرنے، پولیس پلان کی منظوری، شکایات کے ازالے اور ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسلز کے نظام کو قانون کے تحت منظم کرنے جیسے اقدامات کو بھی اصلاحات کا حصہ قرار دیا ہے۔

دوسری طرف ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر اعلیٰ پولیس افسران کی تعیناتی اور تبادلے سیاسی منظوری سے مشروط ہوجائیں تو پولیس کی عملی خودمختاری متاثر ہوسکتی ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی مجوزہ قانون پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے میں ایسی تبدیلیاں نہیں ہونی چاہئیں جو قانون نافذ کرنے والے ادارے کی کارکردگی کو متاثر کریں۔ ان کے مطابق وفاقی قوانین اور پاکستان پولیس سروس کے قواعد بھی اس معاملے میں اہم حیثیت رکھتے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر ایمل ولی خان نے بھی مجوزہ ترامیم کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ بعض تجاویز وفاقی پولیس قوانین اور متعلقہ قواعد سے متصادم ہوسکتی ہیں۔ یہ ان کا سیاسی و قانونی مؤقف ہے، جس کی حتمی حیثیت کا تعین قانون بننے اور ممکنہ عدالتی جانچ کے بعد ہی ہوسکے گا۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں پولیس کے اختیار کا سوال محض انتظامی معاملہ نہیں رہا۔ خیبرپختونخوا میں ایک طرف دہشتگردی اور امن و امان کے مسائل موجود ہیں اور دوسری طرف صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان سیاسی اختلافات بھی شدت اختیار کرچکے ہیں۔ ایسے ماحول میں پولیس کی تعیناتی، تبادلے، کمانڈ اور حکومتی ہدایات کا معاملہ براہِ راست سیاسی تنازع سے جڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ ترامیم کو محض ایک انتظامی قانون سمجھنے کے بجائے اس کے وسیع تر ادارہ جاتی اثرات پر بھی بحث ہورہی ہے۔

خود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 25 ستمبر کو پولیس سے متعلق ایک اجلاس میں ہدایت کی کہ اہلکار غیر قانونی احکامات کی مزاحمت کریں اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو کسی سیاسی مقصد کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے اور صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف پولیس کی صلاحیت کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ اسی اجلاس میں انہوں نے مجوزہ پولیس ایکٹ میں اسمبلی کے مرحلے پر مزید ترامیم کا امکان بھی ظاہر کیا۔

یہ بیان اس بحث کو مزید اہم بنا دیتا ہے کہ ایک طرف صوبائی حکومت پولیس کو سیاسی استعمال سے بچانے کی بات کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف اسی حکومت کے منظور کردہ مجوزہ قانون میں پولیس کے اعلیٰ انتظامی فیصلوں میں وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت کے اختیارات بڑھانے کی تجاویز شامل ہیں۔ اس تضاد کی قانونی اور انتظامی وضاحت آنے والے دنوں میں خاصی اہم ہوگی۔

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ مجوزہ قانون ابھی حتمی قانون نہیں بنا۔ کابینہ کی منظوری کے بعد مسودہ صوبائی اسمبلی کے سامنے جائے گا اور وہاں اس میں تبدیلیاں بھی ہوسکتی ہیں۔ اگر اسمبلی اسے منظور کرتی ہے تو آئینی اور قانونی اعتراضات کی بنیاد پر عدالتوں میں اس کے مختلف پہلوؤں کو چیلنج کیے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔ یوں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ خیبرپختونخوا حکومت پولیس کو کتنا اختیار دینا چاہتی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ صوبائی حکومت، پولیس کمانڈ اور وفاقی قانونی ڈھانچے کے درمیان آئینی حدود کہاں قائم ہوتی ہیں۔

خیبرپختونخوا پولیس پہلے ہی دہشتگردی کے خلاف طویل جنگ، اہلکاروں کی شہادتوں اور محدود وسائل جیسے مسائل کا سامنا کرتی رہی ہے۔ ایسے میں پولیس کے انتظامی ڈھانچے میں بار بار تبدیلیاں اس ادارے کے لیے ایک اہم انتظامی چیلنج بن سکتی ہیں۔ حکومت اگر ان ترامیم کو اصلاحات قرار دیتی ہے تو اسے یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ نئے نظام میں سیاسی مداخلت کو روکنے، افسران کے تبادلوں میں میرٹ برقرار رکھنے اور آپریشنل کمانڈ کو مؤثر رکھنے کے لیے کون سی ضمانتیں موجود ہوں گی۔

2017 میں جس تصور کے تحت پولیس کو سیاسی مداخلت سے نسبتاً آزاد بنانے کی کوشش کی گئی تھی، 2026 کی مجوزہ قانون سازی اسی تصور کے کئی بنیادی پہلوؤں کو دوبارہ تبدیل کرنے جارہی ہے۔ اس لیے خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ کی یہ بحث دراصل صرف ایک قانون کی تبدیلی نہیں بلکہ اس بنیادی سوال سے جڑی ہوئی ہے کہ جمہوری حکومت اور ایک پیشہ ور پولیس فورس کے درمیان اختیارات کی حد کہاں تک ہونی چاہیے۔ اس سوال کا جواب سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ واضح قانونی حدود، شفاف احتساب، میرٹ پر مبنی تعیناتیوں اور مؤثر کمانڈ اسٹرکچر سے ہی سامنے آسکتا ہے۔

Back to top button