نئے صوبوں کی مخالفت کیوں ہو رہی ہے؟

تحریر: عامر خاکوانی

بشکریہ: وی نیوز

میری رائے میں نئے صوبوں والی بحث کو خاصا الجھا دیا گیا ہے۔ اس میں کئی سازشی تھیوریز اور مفروضے بھی شامل ہوگئے ہیں۔ یوں ایک سیدھا سادا سا معاملہ جسے انتظامی حوالوں سے یا ٹیکنیکل بنیادوں پر دیکھنا چاہیے تھا، وہ ٹریک سے ہٹ گیا ہے۔

یہ بحث ابھی چھوڑ دیجیے کہ کس وزیر نے کیا کہا اور کس جماعت کی نیت کیا ہے؟ پہلے یہ طے کریں کہ اگر صوبے چھوٹے ہوں تو فائدہ کس کا ہوگا؟ عام آدمی کا یا ان لوگوں کا جو آج چند خاندانوں کے ذریعے پورے صوبوں کے فیصلے کرتے ہیں؟

میری رائے میں فائدہ عام آدمی کا ہوگا۔ مقتدر قوتوں کے لیے چار بڑے صوبوں کو مینیج کرنا زیادہ آسان ہے، نو دس صوبوں کی نسبت۔

پنجاب قریباً تیرہ کروڑ آبادی کا صوبہ ہے۔ اس کے اقتدار کی سیاست پچھلی چار دہائیوں میں بار بار ایک ہی خاندان کے گرد گھومی ہے۔ سندھ کی کہانی اور بھی سمپل ہے۔ دو ہزار آٹھ سے وہاں ایک ہی جماعت حکومت کر رہی ہے، جس کی قیادت بھی ایک ہی خاندان کے پاس ہے۔

بلوچستان میں چند بااثر سرداروں اور گھرانوں کا وزن سب جانتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں اس وقت تحریک انصاف کی مقبولیت نے پرانا حساب بدل رکھا ہے، لیکن وہاں بھی ماضی میں چند بڑے سیاسی ناموں سے معاملہ طے ہو جاتا تھا۔

گویا چار دروازے ہیں اور ان کی چابیاں گنتی کے ہاتھوں میں۔ ان ہاتھوں سے معاملات طے کرنا آسان ہوگا یا مشکل؟

اب تصور کریں کہ پنجاب کے تین یا چار صوبے ہوں، پختونخوا میں ہزارہ اور جنوبی اضلاع پر مشتمل الگ نئے صوبے بھی ہوں۔ سندھ میں بھی اختیارات مختلف خطوں تک پہنچیں۔ ہر جگہ نئی مقامی قیادت، نئے اتحاد اور نئی ترجیحات سامنے آئیں گی۔ جاگیردار اور سیاسی خانوادے غائب نہیں ہو جائیں گے، مگر ان کے سوا دوسروں کے لیے بھی جگہ بنے گی۔ بہاولپور کا نمائندہ اپنی نہروں اور صحرا کی بات کرے گا، ڈیرہ اسماعیل خان کا نمائندہ اپنی سڑکوں اور امن و امان کی۔ لاہور کے کسی ایک ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان کا فیصلہ کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ عین ممکن ہے کہ ان نئے صوبوں میں پاپولسٹ سیاست کرکے جیتا ہوا کوئی اتھرا سیاستدان اپنے علاقے کے لیے ڈٹ جائے۔ موجودہ بندوبست سے فائدہ اٹھانے والوں کو یہ سینیاریو کیوں پسند آئے گا؟

مخالفت میں سیاسی اشرافیہ کا دوہرا معیار بھی دیکھ لیجیے۔ ہر جماعت دوسرے کے صوبے میں نئی اکائی کی حامی دکھائی دیتی ہے، اپنے صوبے میں نہیں۔ پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کی علمبردار رہی، مگر سندھ میں یہی سوال اٹھے تو سخت مخالفت کرتی ہے۔ تحریک انصاف نے دو ہزار اٹھارہ میں جنوبی پنجاب صوبے کا وعدہ کیا، پھر سیکریٹریٹ پر بات رک گئی۔ مسلم لیگ ن نے بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے الگ صوبوں کی بات کی، لیکن اقتدار ملنے پر چپ سادھ لیتی ہے۔ قومی اسمبلی دو ہزار بارہ میں جنوبی پنجاب کے حق میں قرارداد بھی منظور کر چکی ہے۔ تینوں بڑی جماعتیں مختلف وقتوں میں حمایت کر چکیں، صوبہ پھر بھی نہیں بنا۔ نعرہ ووٹ کے کام آتا رہا، اختیار بانٹنے کی نوبت نہیں آئی۔

خاکسار کا تعلق احمد پور شرقیہ سے ہے، اس لیے بہاولپور کی کہانی میرے لیے گھر کی کہانی ہے۔ قیام پاکستان کے وقت بہاولپور ایک خوشحال ریاست تھی۔ ون یونٹ ٹوٹا تو انیس سو ستر میں اسے الگ صوبہ بنانے کے بجائے پنجاب کا حصہ بنا دیا گیا۔ بحالیٔ صوبہ بہاولپور کی تحریک چلی، جانیں گئیں، ووٹ بھی اس نعرے پر لیے گئے، مگر صوبہ نہ بن سکا۔

اس خطے سے لاہور کا فاصلہ نقشے پر ایک لکیر ہے، وہاں رہنے والے کے لیے پورا دن اور اکثر اس سے زیادہ۔ صادق آباد یا راجن پور کا شہری اپنے سرکاری کام اور اپنے علاقے کے فیصلوں کے لیے لاہور کی طرف دیکھتا ہے تو اسے حکومت کتنی اپنی محسوس ہوتی ہوگی؟

تبادلے کا معاملہ ہو، کسی اسپتال کی منظوری یا سڑک کی تعمیر، فائل کا رخ آخر لاہور کی طرف کیوں ہو؟ اسی فاصلے اور محرومی نے الگ صوبے کے مطالبے کو زندہ رکھا۔ سرائیکی صوبے کی تحریک بھی اس تاریخ کا حصہ ہے۔ تاہم جس جنوبی پنجاب صوبے کی آج بات ہو رہی ہے، اس میں بہاولپور، ملتان اور ڈیرہ غازی خان، تینوں ڈویژن شامل ہیں۔ اس خطے میں سرائیکی کے ساتھ پنجابی بولنے والے علاقے بھی ہیں۔ اسے کسی ایک زبان کا صوبہ قرار دینا درست نہیں۔ اصل دلیل فاصلے، پسماندگی اور انتظامی ضرورت کی ہے۔

خیبر پختونخوا میں ہزارہ صوبے کا مطالبہ بھی پرانا ہے۔ اسے پختون قوم پرستی کے مقابل کھڑا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہزارہ الگ صوبہ بنے تو وہاں رہنے والی پختون آبادی کو بھی فائدہ ہوگا۔ ایبٹ آباد، مانسہرہ اور دور کے پہاڑی علاقوں کی ضروریات پشاور کی ترجیحات سے ہمیشہ یکساں تو نہیں ہو سکتیں۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ وہاں کے لوگوں کو اپنے فیصلوں میں زیادہ اختیار ملے گا یا نہیں؟

پختونخوا کے جنوبی حصے کے کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژنوں کی طرف تو اس بحث میں توجہ ہی کم جاتی ہے۔ لکی مروت، ٹانک، بنوں اور وزیرستان کے مسائل پشاور کی ترجیحات سے مختلف ہیں۔ دہشتگردی، روزگار، سڑکیں اور مقامی وسائل؛ ان سب پر فیصلے انہی لوگوں کی دسترس میں ہونے چاہئیں جو ان مسائل کے بیچ رہتے ہیں۔ الگ سیکریٹریٹ کی بات کی جا رہی ہے مگر سیکریٹریٹ کی نہ اپنی اسمبلی ہوتی ہے، نہ اپنا وزیراعلیٰ جو ووٹر کو جواب دے۔ جنوبی پنجاب میں سیکریٹریٹ کے باوجود صوبے کا مطالبہ ختم نہیں ہوا۔ پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں بھی محض سیکریٹریٹ لوگوں کو مطلوبہ اختیار نہیں دے سکے گا۔

سندھ کا معاملہ نازک ہے اور اسے نرمی سے چھیڑنا چاہیے۔ سندھی عوام  کا اپنی دھرتی، زبان اور تہذیب سے لگاؤ پوری طرح قابل احترام ہے۔ کوئی نیا یونٹ ان کی مرضی کے خلاف مسلط نہیں کیا جا سکتا، مگر کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ انتظامی نقشے پر بات بھی نہ ہو؟ سیاستدان اگر ہر سوال کو فوراً دھرتی ماں کی تقسیم کا نعرہ بنا دیں تو اندرون سندھ کے لوگوں سے کون پوچھے گا کہ ان کے حصے میں کیا آیا؟

لاڑکانہ نے ملک کو دو وزرائے اعظم دیے، وہاں کے سکولوں اور اسپتالوں کی حالت مگر کسی سے پوشیدہ نہیں۔ تھر کا کوئلہ ملک کی بجلی کے کام آتا ہے، تھر کے اپنے مسائل اپنی جگہ ہیں۔ بدین اور ٹھٹھہ کے ساحلی علاقوں کو سمندری کٹاؤ اور نقل مکانی کا سامنا ہے۔ سندھ میں پچھلے اٹھارہ برسوں سے ایک ہی جماعت کی حکومت ہے۔ پھر بھی ان خطوں کی محرومی کو محض اگلے انتخاب تک کیوں ٹال دیا جائے؟

میرے خیال میں زیریں سندھ کے لیے حیدرآباد یا میرپورخاص کے مرکز کے ساتھ ایک یونٹ، بالائی سندھ کے لیے سکھر یا لاڑکانہ کے مرکز کے ساتھ دوسرا، اور کراچی کے لیے الگ اکائی پر کھلے ذہن سے بات ہونی چاہیے۔

یہ کوئی حتمی نقشہ نہیں؛ سوال یہ ہے کہ تھر، ساحلی پٹی اور بالائی سندھ کے مسائل کو اپنی اپنی منتخب حکومت کی پہلی ترجیح کیسے بنایا جائے۔ ساحلی پٹی کو ماہی گیری، سمندری کٹاؤ اور پانی کے مسائل دیکھنے ہیں؛ تھر کی ضرورت کچھ اور ہے، سکھر اور لاڑکانہ کی زرعی ترجیحات اور۔ ہر جگہ ایک ہی نسخہ کیسے چلے گا؟ سندھ کا نام اور شناخت اس بحث سے مٹ نہیں جاتے۔ بالائی سندھ بھی سندھ ہوگا، زیریں سندھ بھی۔ انتظامی لکیر سے دلوں کی لکیر نہیں کھنچتی۔

  ایک اعتراض یہ ہو رہا ہے کہ نئے صوبے مہنگے پڑیں گے۔ یقیناً نئی اسمبلی اور حکومت کا خرچ ہوگا، مگر موجودہ ڈویژن، دفاتر اور افسر بھی تو ہیں؛ سب کچھ صفر سے تعمیر نہیں کرنا پڑے گا۔ ملتان اور بہاولپور میں ہائیکورٹ کے بینچ بھی موجود ہیں۔ اخراجات کا حساب ضرور سامنے آئے، ساتھ وہ رقم بھی دیکھیے جو بڑے شہروں کے نمائشی منصوبوں پر لگ جاتی ہے جبکہ دور کے اضلاع میں اسپتال کو ڈاکٹر تک نہیں ملتا۔ سوال صرف یہ نہیں کہ نئی حکومت پر کتنا خرچ ہوگا، یہ بھی ہے کہ دور بیٹھے فیصلوں اور بیڈ گورننس کی قیمت لوگ کب سے ادا کر رہے ہیں؟

دوسرا اعتراض کہ چھوٹے صوبوں میں بھی وہی پرانے چہرے آ جائیں گے۔

سچا جواب تو یہ ہے کہ وہ واقعی آ سکتے ہیں۔ نئے صوبے کوئی جادو کی چھڑی نہیں، مگر تین چار کروڑ کے صوبے کا وزیراعلیٰ اپنے علاقے کے سوالات سے اتنی آسانی سے نہیں بچ سکے گا جتنا تیرہ کروڑ کے صوبے میں بچ جاتا ہے۔ آج جنوبی پنجاب کے کسی سیاستدان سے ووٹر محاسبہ کرے تو وہ تخت لاہور سے کچھ نہ ملنے کا بہانہ کر کے بچ جاتا ہے۔ نئے صوبے میں وہ یہ عذر تو نہیں کر پائے گا۔ یہی پختونخوا کے جنوبی اضلاع کا معاملہ ہوگا یا ہزارہ کا۔ نئے سیٹ اپ میں نئی مقامی قیادت کے لیے جگہ بھی نکلے گی۔ ساتھ مضبوط بلدیاتی نظام ہو تو اختیار اور نیچے پہنچ سکتا ہے۔

کچھ لوگ نئے صوبوں کو مقتدرہ کا منصوبہ کہتے ہیں۔

یہ درست ہے کہ اس بار بات ایسے وزرا کے بیانات سے شروع ہوئی جو مقتدرہ کے قریب سمجھے جاتے ہیں، مگر جنوبی پنجاب اور ہزارہ کے مطالبے عشروں پرانے ہیں، کسی ایک حکومت نے انہیں ایجاد نہیں کیا۔

یہ بھی سوچیں کہ نئے صوبے بننے سے مقتدر قوتوں کے لیے مشکلات بڑھیں گی، آسانی نہیں ہوگی۔ چار بڑے صوبوں کے چند طاقتور دروازوں تک پہنچنا آسان ہے یا بہت سے مختلف خطوں اور قیادتوں سے معاملہ کرنا؟

ایک دلچسپ اعتراض لسانی تقسیم کے خدشہ کا بھی ہے۔

انتظامی بنیاد پر نئے یونٹ بنیں تو لسانی اور قومیتی کارڈ کی کشش کم ہوسکتی ہے۔ نئے صوبے بننے کا معیار وہاں کی آبادی، رقبہ، پسماندگی، صوبائی دارالحکومت سے فاصلہ اور مقامی ضرورت ہونا چاہیے۔

زبان کسی خطے کی حقیقت ہے؛ اسے جھٹلانے کی ضرورت نہیں، سب زبانیں محبت سے لبریز ہیں، پلیز ان کے ذریعے نفرت نہ گھولیں۔ زبان کو صوبے کے حق یا مخالفت کی واحد کسوٹی بھی کیوں بنایا جائے؟ بھارت نے آزادی کے بعد بار بار اپنی ریاستوں کا نقشہ بدلا۔ جرمنی میں بھی سولہ ریاستیں ہیں۔ ریاستوں کی نئی لکیروں سے یہ ملک ٹوٹے، نہ ہر صوبے کی الگ شناخت سے قومی شناخت مٹی۔ ہم نے اپنے چار صوبوں کو آخر ایسی مقدس لکیر کیوں بنا رکھا ہے جس پر سوال اٹھانا بھی جرم لگے؟

بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایک قومی کمیشن تمام مطالبات کو ایک ساتھ دیکھے، واضح معیار رکھے اور عوام کے سامنے اپنی سفارشات لائے۔ پھر جو مطالبہ وزن رکھتا ہو اسے محض انتخابی نعرے میں ضائع نہ کیا جائے۔

آخر میں وہی سوال جس سے بات شروع ہوئی تھی۔ کون کیا چاہتا ہے، اسے چھوڑ دیجیے۔ صرف یہ دیکھیے کہ نئے صوبوں سے خوفزدہ کون ہے؟

اگر خوف ان خاندانوں کو ہے جو کئی دہائیوں سے کروڑوں لوگوں کی قسمت کے فیصلے اپنے ڈرائنگ روم میں کرتے آئے ہیں، تو اسی خوف میں عام آدمی کی امید چھپی ہے۔

سوال صرف اتنا ہے کہ کیا ہم اس امید کو ایک اور انتخابی نعرہ بنا کر پھر دفن کر دیں گے، یا اس بار کوئی واقعی ہمت کرے گا؟

Check Also
Close
Back to top button