پاکستان سے قربت،انڈیا ناراض، اردوغان بار بار کشمیر کا ذکر کیوں کرتے ہیں؟

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم سے مسئلہ کشمیر کا ذکر کرکے یہ واضح کیا ہے کہ کشمیر اب بھی ان کی خارجہ پالیسی میں ایک نمایاں موضوع ہے۔ اردوغان نے جنوبی ایشیا کے تنازعات کو اقوام متحدہ کے منشور اور متعلقہ قراردادوں کے دائرے میں رہتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی موجودگی میں دیے گئے ان ریمارکس نے ایک بار پھر نئی دہلی اور انقرہ کے درمیان کشمیر کے معاملے پر موجود بنیادی اختلاف کو نمایاں کر دیا ہے۔

انڈیا کا مؤقف اس کے برعکس ہے۔ نئی دہلی جموں و کشمیر کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور پاکستان کے ساتھ تمام معاملات کو دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتا ہے، جبکہ وہ کسی تیسرے ملک کی مداخلت کو قبول نہیں کرتا۔ اسی وجہ سے اردوغان کی جانب سے عالمی فورمز پر کشمیر کا ذکر نئی دہلی کے لیے ایک حساس معاملہ رہا ہے اور ماضی میں بھی انقرہ کے بیانات پر بھارتی حکومت کی جانب سے اعتراض کیا جاتا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اردوغان ان مسلسل اعتراضات کے باوجود کشمیر کو اپنی عالمی سفارت کاری میں کیوں شامل رکھتے ہیں؟

اس سوال کا ایک اہم جواب پاکستان اور ترکی کے درمیان بڑھتے ہوئے تزویراتی تعلقات میں ملتا ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں ان میں دفاع، سفارت کاری اور علاقائی تعاون کے پہلو زیادہ نمایاں ہوئے ہیں۔ ترکی نے کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی ہے، جبکہ پاکستان قبرص کے معاملے پر ترکی کے مؤقف کے قریب رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں بھی اضافہ ہوا ہے اور مکہ دفاعی معاہدے کے تناظر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان قربت نے اس تعلق کو مزید اہم بنا دیا ہے۔

مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست بھی اس معاملے کو سمجھنے میں اہم ہے۔ ترکی ایک طرف مسلم دنیا میں اپنی سفارتی آواز کو مؤثر رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو دوسری طرف وہ یورپ، مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں اپنے مفادات کو متوازن کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ کشمیر کے معاملے پر مسلسل اظہار خیال اسی وسیع تر خارجہ پالیسی کا ایک حصہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ کشمیر ترکی کی خارجہ پالیسی کا موضوع ضرور ہے، مگر اسے ترکی کے داخلی سیاسی معاملات کا حصہ نہیں سمجھا جاتا۔

سنہ 2019 میں انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی کے بعد انڈیا اور ترکی کے تعلقات میں مزید حساسیت پیدا ہوئی۔ اردوغان نے اس عرصے میں متعدد مرتبہ کشمیر کا مسئلہ اٹھایا، جس پر نئی دہلی نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ دستیاب تجزیوں کے مطابق سنہ 2024 ایک ایسا سال تھا جب اردوغان نے کشمیر کے معاملے پر نسبتاً خاموشی اختیار کی، جسے بعض بھارتی مبصرین نے ترکی کی برکس میں شمولیت کی خواہش اور نئی دہلی کے ساتھ تعلقات کو بہتر رکھنے کی کوشش سے جوڑا۔ اس کے باوجود بعد کے عرصے میں کشمیر ایک بار پھر اردوغان کی عالمی تقاریر کا حصہ بنتا رہا۔

یہاں ترکی اور انڈیا کے درمیان تعلقات کا ایک دوسرا پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ سیاسی اور سفارتی اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تجارت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ دونوں ملک اقتصادی روابط کو برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور دوطرفہ تجارت کا حجم کئی ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ حالیہ عرصے میں انڈیا کی ترکی کو پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ رپورٹ ہوا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود اقتصادی مفادات دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک الگ راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

تاہم دفاعی تعاون اور علاقائی صف بندی نے نئی دہلی کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ پاکستان کو ترکی کی جانب سے ڈرونز اور دیگر دفاعی سازوسامان کی فراہمی، دونوں ملکوں کے بڑھتے ہوئے دفاعی روابط اور سعودی عرب کے ساتھ انقرہ کے قریبی تعلقات کو انڈیا اپنے علاقائی سلامتی کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ دوسری جانب ترکی یہ مؤقف پیش کرتا رہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اس کا اتحاد لازماً انڈیا مخالف پالیسی نہیں ہے اور اقتصادی تعلقات کو علاقائی رقابت سے الگ رکھا جانا چاہیے۔

انڈیا اور ترکی کے تعلقات میں تبدیلی یک طرفہ نہیں رہی۔ جب ترکی نے شمالی شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف فوجی کارروائیاں کیں تو انڈیا نے بھی ترکی کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے خودمختاری کے احترام پر زور دیا۔ بعد ازاں انڈیا نے ترکی کے ایک بحری جہاز سازی کے ادارے کے ساتھ بحری معاون جہاز کی تعمیر سے متعلق معاہدہ بھی منسوخ کیا۔ اسی طرح نریندر مودی کے ترکی کے دورے کا نہ ہونا بھی دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی سفارتی سرد مہری کی ایک علامت کے طور پر دیکھا گیا۔

اس کے باوجود ترکی اور انڈیا کے درمیان تعلقات کو مکمل طور پر دشمنی یا براہ راست محاذ آرائی کے تناظر میں دیکھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، کاروباری مفادات اور اقتصادی روابط موجود ہیں اور ترکی کی قیادت نے بھی متعدد مواقع پر یہ اشارہ دیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات کو انڈیا کے خلاف اتحاد کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اصل صورت حال یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور تزویراتی اختلافات کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات بھی بیک وقت موجود ہیں۔

اردوغان کے کشمیر پر مسلسل مؤقف کو اسی توازن کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ انقرہ ایک طرف پاکستان کے ساتھ اپنے تاریخی اور تزویراتی تعلقات کو مضبوط رکھنا چاہتا ہے، دوسری طرف مسلم دنیا میں فلسطین اور کشمیر جیسے معاملات پر اپنی سفارتی شناخت برقرار رکھتا ہے، جبکہ انڈیا کے ساتھ اقتصادی روابط کو بھی مکمل طور پر نظرانداز نہیں کرتا۔ اس پالیسی میں کشمیر ایک ایسا موضوع بن چکا ہے جس پر ترکی کا مؤقف پاکستان کے لیے اہم سفارتی حمایت سمجھا جاتا ہے، لیکن نئی دہلی اسے اپنے داخلی اور علاقائی معاملات میں بیرونی مداخلت کے طور پر دیکھتا ہے۔

چنانچہ اردوغان کے مسلسل کشمیر ذکر کو صرف پاکستان سے قربت یا صرف انڈیا کی مخالفت کے ایک پہلو سے سمجھنا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ اس کے پیچھے ترکی کی وسیع تر خارجہ پالیسی، پاکستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے تزویراتی روابط، مسلم دنیا میں اس کی سفارتی حیثیت، مشرق وسطیٰ کی نئی صف بندی اور انڈیا کے ساتھ اس کے بیک وقت موجود اقتصادی مفادات شامل ہیں۔ یہی تضاد موجودہ عالمی سیاست کی ایک اہم حقیقت بھی ہے کہ ممالک سیاسی معاملات میں اختلاف کے باوجود معاشی روابط برقرار رکھتے ہیں، جبکہ تزویراتی مفادات انہیں مختلف علاقائی صف بندیوں کے قریب لے آتے ہیں۔

آج کشمیر کے معاملے پر اردوغان کی آواز دراصل پاکستان اور ترکی کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت کے ساتھ ساتھ انڈیا اور ترکی کے تعلقات میں آنے والی تبدیلی کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ آنے والے برسوں میں اس تعلق کی سمت اس بات سے زیادہ واضح ہوگی کہ انقرہ پاکستان کے ساتھ اپنے دفاعی اور تزویراتی تعاون کو کس حد تک آگے بڑھاتا ہے، نئی دہلی کے ساتھ اقتصادی روابط کو کس طرح برقرار رکھتا ہے اور عالمی فورمز پر کشمیر سمیت علاقائی تنازعات کے بارے میں اپنی موجودہ سفارتی زبان کو کس حد تک جاری رکھتا ہے۔

Back to top button