27ستمبر احتجاج، حکومتPTIکے ساتھ کیا کرنے والی ہے؟

27 ستمبر کے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے پہلے اسلام آباد اور پنجاب میں سکیورٹی انتظامات غیر معمولی سطح تک پہنچ گئے ہیں۔ اہم شاہراہوں، داخلی و خارجی راستوں اور بعض بڑے چوراہوں پر کنٹینرز کی تعیناتی، مختلف علاقوں میں رینجرز کی آمد، پولیس کی اضافی نفری اور کارکنوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات نے ملک میں سیاسی کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ دوسری طرف حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات امن و امان برقرار رکھنے اور ممکنہ پرتشدد صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے جا رہے ہیں، جبکہ تحریک انصاف ان اقدامات کو اپنے کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کی کوشش قرار دے رہی ہے۔
تازہ سفری ہدایات کے مطابق اسلام آباد کی جانب آنے والے کئی اہم راستوں پر پابندیاں یا بندشیں عائد کی گئی ہیں۔ موٹروے ایم ون کے مختلف حصوں، ہزارہ موٹروے، ایم چودہ اور ایم ٹو کے بعض حصوں کے علاوہ جی ٹی روڈ پر بھی ٹریفک کے لیے رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، ہری پور، حسن ابدال اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں کے درمیان مسافر اور مال بردار ٹریفک متاثر ہوئی ہے۔
پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان زمینی رابطوں پر پابندی کا معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس کا اثر صرف سیاسی کارکنوں کی نقل و حرکت تک محدود نہیں رہتا بلکہ عام شہری، بین الصوبائی مسافر اور تجارتی سرگرمیاں بھی اس سے متاثر ہوتی ہیں۔ اگر طویل عرصے تک بڑے راستے بند رہیں تو سبزیوں، ادویات، خوراک، پٹرول اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ مال بردار گاڑیوں اور ضروری اشیا کی ترسیل کے لیے متبادل انتظامات بھی اہم ہو جاتے ہیں۔
صورتحال کا ایک اہم پہلو رینجرز کی تعیناتی ہے۔ وفاقی وزارت داخلہ نے اسلام آباد اور پنجاب کے بعض اضلاع میں پاکستان رینجرز کی تعیناتی کی منظوری دی ہے، جس کی مدت 5 اکتوبر تک بتائی گئی ہے۔ اس تعیناتی کا مقصد پولیس اور انتظامیہ کی معاونت، امن و امان برقرار رکھنا اور ممکنہ سکیورٹی خطرات سے نمٹنا بتایا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کی ہدایات میں پرتشدد یا مسلح حملے کی صورت میں قانون کے مطابق ضروری کارروائی اور اپنے دفاع کا اختیار بھی شامل ہے۔
پنجاب حکومت پہلے ہی راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی معاونت طلب کر چکی تھی، جبکہ صوبے میں دفعہ 144 بھی نافذ ہے۔ حکومت نے ان اقدامات کے لیے امن و امان اور ممکنہ سکیورٹی خطرات کو بنیاد بنایا ہے۔ اسی سلسلے میں راولپنڈی اور اٹک کے بعض علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس کو محدود کرنے کی درخواست بھی سامنے آ چکی ہے۔
دوسری طرف حکومت نے واضح کیا ہے کہ احتجاج سے نمٹنے کے لیے فوج کو تعینات کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا اور پولیس، رینجرز اور فرنٹیئر کور کے ذریعے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے مطابق حکومت کا مقصد قانون و امن برقرار رکھنا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر قانون کے مطابق طاقت استعمال کی جا سکتی ہے۔
اس کے برعکس تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کے لیے انتظامی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ پارٹی کی قیادت نے حکومت پر زور دیا ہے کہ سیاسی کارکنوں کا سامنا طاقت کے ذریعے کرنے کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی حکومت سے مذاکرات کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آمنے سامنے آنے سے بچانا ضروری ہے۔
اس پورے معاملے میں عدالتی ہدایات بھی اہم حیثیت رکھتی ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 27 ستمبر کے احتجاج سے متعلق مقدمے میں قرار دیا تھا کہ کسی سیاسی جماعت یا عوامی عہدہ رکھنے والے شخص کو اسلام آباد میں سڑکیں بند کرنے کا اختیار نہیں، جبکہ متعلقہ حکام کو قانون کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔ اس لیے موجودہ صورتحال میں حکومت اور احتجاج کرنے والی جماعت دونوں کے لیے قانونی حدود اور شہریوں کی معمول کی نقل و حرکت کا تحفظ ایک بنیادی سوال بن جاتا ہے۔
سکیورٹی تیاریوں کا حجم بھی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ راولپنڈی ڈویژن میں ہزاروں اہلکاروں کی تعیناتی، انسدادِ ہنگامہ آرائی کا سامان، آنسو گیس، نگرانی کے آلات اور دیگر وسائل تیار رکھنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ اسلام آباد میں بھی پولیس نے بڑے پیمانے پر سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
یہ صورتحال اس سوال کو بھی اہم بنا رہی ہے کہ سیاسی احتجاج کو روکنے کے لیے اختیار کیے جانے والے سکیورٹی اقدامات کی قیمت عام شہری کو کس حد تک ادا کرنا پڑے گی۔ ایک طرف ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کی جان و مال، سرکاری تنصیبات اور اہم عمارتوں کا تحفظ یقینی بنائے اور کسی بھی پرتشدد کارروائی کو روکے، دوسری طرف شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت، کاروباری سرگرمیوں، مریضوں، مسافروں اور ضروری اشیا کی ترسیل متاثر ہونا بھی ایک سنجیدہ انتظامی مسئلہ ہے۔
27 ستمبر کے لانگ مارچ سے پہلے اصل چیلنج صرف یہ نہیں کہ احتجاج اسلام آباد تک پہنچتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی اختلاف کس حد تک پُرامن اور قانونی دائرے میں رہتا ہے۔ اگر حکومت سکیورٹی اقدامات کو محدود، قانونی اور ضرورت کے مطابق رکھتی ہے اور احتجاج کرنے والی جماعت بھی اپنے کارکنوں کو پرامن رہنے کی پابند بناتی ہے تو بڑے پیمانے پر شہری نقصان کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں۔ بصورت دیگر سڑکوں کی بندش، گرفتاریوں، سیاسی کشیدگی اور ممکنہ تصادم کا اثر صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عام شہری اور ملکی معیشت بھی اس کی قیمت ادا کر سکتی ہے۔
