نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

تحریر: عامر خاکوانی

اپنی پوزیشن پہلے واضح کر دوں۔ خاکسار برسوں سے نئے صوبوں کا حامی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پنجاب تقسیم ہونا چاہیے، 2 یا 3 صوبے بنیں۔ اسی طرح سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھی نئے یونٹ بننے چاہئیں۔

ذرا سوچیں، 12، 13 کروڑ آبادی کا صوبہ ایک وزیراعلیٰ اور ایک کابینہ لاہور میں بیٹھ کر چلا رہی ہے۔ راجن پور کے کسی گاؤں کے آدمی کا کام سیکریٹریٹ میں پھنس جائے تو 500، 600 کلومیٹر کا سفر، کرایہ، 2 دن کی دیہاڑی کا نقصان، اور اس کے بعد بھی کوئی ضمانت نہیں کہ کام ہوگا۔ یہ آدمی سسٹم سے مایوس نہ ہو تو اور کیا ہو؟

مخالفت کرنے والوں کے پاس ایک ہی گھسا پٹا جواب ہے کہ اس سے ملک ٹوٹے گا، لسانی تعصب بڑھے گا، دھرتی ماں کی تقسیم ہوگی۔ حالانکہ سرحد کے اُس پار انڈین پنجاب کے 3 صوبے بن چکے، جو ایک پنجاب تھا، اب وہ پنجاب، ہریانہ اور ہماچل پردیش بن گیا۔ کوئی قیامت آئی وہاں؟ الٹا تینوں یونٹ بہتر چلے۔ جب وہاں ہو سکتا ہے تو یہاں کیوں نہیں؟ ہمارے ہاں مگر جس دن نئے صوبے کی بات ہو، اسی دن ملک کی سالمیت خطرے میں پڑجاتی ہے۔

خاکسار کے نزدیک سب سے قابلِ عمل تجویز یہ ہے کہ باقی صوبے ابھی کچھ عرصے کے لیے رہنے بھی دیں تو کم از کم پہلے فیز میں پائلٹ پراجیکٹ یا ٹیسٹ کیس کے طور پر جنوبی پنجاب صوبہ بنا لیا جائے۔ بہاولپور، ملتان اور ڈی جی خان ڈویژنز پر مشتمل۔ باقی جھگڑے بعد میں نمٹا لیں گے۔

اس تجویز کی خوبی یہ ہے کہ اس پر اتفاق برسوں سے موجود ہے۔ پنجاب کی 3 بڑی جماعتیں، ن لیگ، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، اس پر متفق ہیں۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ تو ملتان اور بہاولپور میں کئی برسوں سے کام کر ہی رہا ہے، افسر تعینات ہیں، بجٹ کا الگ حصہ مختص ہوتا ہے۔ یہ تجویز لسانی بنیاد پر بھی نہیں۔ یہ سرائیکی صوبہ نہیں، جنوبی پنجاب صوبہ ہے، جس کے بننے سے وہاں کی مقامی آبادی، جن میں سرائیکی، پنجابی، روہتکی، آبادکار، اردو اسپیکنگ وغیرہ شامل ہیں، ان سب کو یکساں فائدہ ہوگا۔

ڈھانچہ آدھا پہلے ہی کھڑا ہے۔ لسانی جھگڑا، نہ کسی جماعت کی کھلی مخالفت۔ رکاوٹ پھر کہاں ہے؟ رکاوٹ نیت کی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ اعلان کرنے سے ووٹ ملتے ہیں اور صوبہ بنانے سے اختیار جاتا ہے۔ اس لیے اعلان ہر الیکشن میں ہوتا ہے، کام کبھی نہیں ہوتا۔

ہمارے سیاست دان 18ویں ترمیم کے بعد سے این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ برقرار رکھنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں۔ یہ ان کا حق بھی ہے، مگر جونہی بات پروونشل فنانس کمیشن کی آئے، یعنی صوبے سے نیچے اضلاع اور بلدیاتی اداروں تک وسائل کی منتقلی کی، تو سب کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ جو دلیل صوبے مرکز کو دیتے ہیں، وہی دلیل اضلاع کی ہے کہ فنڈز نیچے تک پہنچنے چاہئیں۔ لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ وغیرہ سے پورے صوبے کے فیصلے کرنا کیسے درست ہو گیا؟

حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں ڈی سنٹرلائزیشن کا نعرہ صرف اپنے اوپر والے کے خلاف لگتا ہے، اپنے نیچے والے کے حق میں کبھی نہیں۔ اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ نئے صوبے اکیلا حل نہیں، ساتھ ڈیولیوشن آف پاورز بھی ہونی چاہیے، ورنہ ہم ایک نیا سیکرٹریٹ، ایک نیا وزیراعلیٰ ہاؤس اور افسروں کی نئی کھیپ پیدا کر لیں گے، عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی صفر رہے گی۔

ایک بات بار بار سننے کو ملتی ہے کہ جمہوریت چلنے دیں، سسٹم خود بخود درست ہو جائے گا۔ اس خوش فہمی کی تردید کے لیے دور جانے کی ضرورت نہیں، سندھ کو دیکھ لیں۔ پیپلز پارٹی وہاں 2008 سے مسلسل حکومت کر رہی ہے، 18 برس ہو گئے۔ نہ مارشل لا لگا، نہ کسی نے حکومت گرائی۔ پورا اختیار، پورا وقت، پورا مینڈیٹ۔ نتیجہ؟ کراچی جیسا شہر بارش کے 2 گھنٹے میں تالاب بن جاتا ہے۔ اندرون سندھ کے سکولوں اور ہسپتالوں کی رپورٹیں پڑھ کر دل بیٹھ جاتا ہے۔ 18 برس میں وہ ایک ڈھنگ کا بلدیاتی نظام تک نہ لا سکے۔ میئر کے پاس اختیار، نہ فنڈز، نہ عملہ۔

تو یارو، 18 برس کی مسلسل حکمرانی سے سسٹم خود ٹھیک ہونا ہوتا تو اب تک ہو چکا ہوتا۔ نہیں ہوا، کیونکہ سسٹم اپنے فائدے کے خلاف خود کو کبھی درست نہیں کرتا۔

اب اصل مشکل، جہاں ہر خوبصورت تجویز آ کر رکاوٹ سے دوچار ہو جاتی ہے۔ نیا صوبہ بنانے کے لیے آئینی ترمیم درکار ہے۔ صوبے کی حدود بدلنے والا بل پارلیمنٹ سے 2 تہائی اکثریت سے پاس ہونا ہے اور متعلقہ صوبائی اسمبلی سے بھی 2 تہائی اکثریت درکار ہے۔ گنتی کر لیجیے، پیپلز پارٹی کے تعاون کے بغیر 2 تہائی کا خواب بھی نہیں دیکھا جاسکتا۔

پیپلز پارٹی کا رویہ؟ جنوبی پنجاب پر وہ جوش سے تقریریں کرتی ہے، بل بھی پیش کرچکی۔ سندھ کا ذکر آتے ہی مگر لہجہ بدل جاتا ہے۔ معاملہ جذباتی بنا دیا جاتا ہے، دھرتی ماں کی تقسیم کا نعرہ لگتا ہے، سندھ کارڈ نکل آتا ہے۔

ویسے تو یہی کھیل پنجاب میں بھی ہے، یہاں بھی ایک حلقہ تقسیم کا نام سنتے ہی چوڑا ہو کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ حالانکہ تقسیم سے پنجاب کمزور نہیں، جنوبی پنجاب کا عام آدمی مضبوط ہوتا ہے۔

نتیجہ یہ کہ صوبے کی ضرورت سب کو ہے، حق میں تقریر سب کرتے ہیں، اور جس دن ووٹ کا وقت آئے، اس دن بہت سوں کے پیٹ میں درد شروع ہوجاتا ہے۔ یہ ٹنگا ٹولی برسوں سے چل رہی ہے۔

محسن نقوی نے یہ بھی کہا کہ جب تک سسٹم ری سیٹ نہیں ہوگا، بہتری نہیں آئے گی۔ ساتھ وہ بات کہہ دی جو حکومتی صف میں بیٹھا شخص عام طور پر نہیں کہتا۔ کہا کہ صرف ن لیگ یا پیپلز پارٹی نہیں، تحریک انصاف کو بھی ساتھ بیٹھنا پڑے گا، اور یہ بھی کہ اس وقت ہر جماعت صرف اپنے بارے میں سوچ رہی ہے۔

یہ اعتراف اہم ہے، اسے ہوا میں اڑا دینا نہیں چاہیے۔ آئینی ترامیم کے لیے اچھا ہے کہ سب مل بیٹھ کر فیصلے کریں۔ اپوزیشن کو ان اہم فیصلوں میں شامل ہونا چاہیے۔

بلاول بھٹو زرداری نے حال ہی میں آزاد کشمیر کے بحران پر ایک آزاد ٹرتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن کی تجویز دی ہے جو حقائق کا تعین کرے، سب فریقوں کی شکایات سنے اور آگے کا راستہ بتائے۔ 2024 کی انتخابی مہم میں وہ لاہور کے جلسے میں تحریک انصاف کے کارکنوں سے کہہ چکے ہیں کہ ہماری حکومت آئی تو انتقام کی سیاست دفن کر دیں گے اور ایسا ہی کمیشن بنائیں گے۔

خیال برا نہیں۔ جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خاتمے کے بعد ایسا کمیشن بنا اور معاشرہ بڑے خونی تصادم سے بچ گیا۔ شمالی آئرلینڈ میں برطانیہ نے گوریلوں کو عام معافی دے کر امن قائم کیا۔ ہمارے ہاں مشکل یہ ہے کہ ایسی تجاویز تب آتی ہیں جب تجویز دینے والے کو ووٹ درکار ہوں، ووٹ ملتے ہی تجویز فائلوں میں چلی جاتی ہے۔ پھر بھی نیت ہو تو راستہ یہی ہے۔

تحریک انصاف کو آن بورڈ لیں، زیادتیوں کا کھلے دل سے جائزہ لیں، اور اسی ایک بیٹھک میں نئے صوبے، بااختیار بلدیاتی نظام اور پروونشل فنانس کمیشن پر عمل درآمد، تینوں معاملات طے کر لیں۔ ماہرین کہہ رہے ہیں کہ ایسے بڑے ڈھانچہ جاتی فیصلے ٹکڑوں میں نہیں، ایک بڑے سیاسی سمجھوتے ہی سے ممکن ہوتے ہیں۔

محسن نقوی صاحب کی بیشتر باتیں درست ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کہنے والا اپوزیشن میں نہیں، حکومت میں ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ ہے، اور اسی حکومت کا حصہ ہے جو پچھلے 2 برسوں میں 2 بڑی آئینی ترامیم منظور کرا چکی ہے۔ انہوں نے سمٹ میں بیٹھے لوگوں سے کہا کہ جس دن آپ لوگوں نے ٹھیک کرنے کا فیصلہ کر لیا، نظام ٹھیک ہو جائے گا۔

محترم قارئین، یہ جملہ الٹا کر کے دیکھیں۔ صنعت کار قانون نہیں بناتے، اسمبلیوں میں نہیں بیٹھتے، آئینی ترمیم پر ووٹ ان کا نہیں ہوتا۔ فیصلہ انہی کو کرنا ہے جو ایوان میں بیٹھے ہیں۔

جو حکومت 27ویں ترمیم کے لیے 2 تہائی اکثریت جمع کر سکتی ہے، وہ جنوبی پنجاب صوبے کے لیے وہی اکثریت کیوں جمع نہیں کر سکتی؟ اصل امتحان یہ ہے کہ اگلے اجلاس میں یہ بل ایوان میں پیش ہوتا ہے یا نہیں؟ ہو گیا تو ہم مان لیں گے کہ بات دل سے کہی گئی تھی۔ نہ ہوا تو 10 برس بعد کوئی اور وزیر، کسی اور سمٹ میں، یہی تقریر دہرا رہا ہوگا۔ فرق صرف اتنا ہوگا کہ سننے والوں کے بالوں میں چاندی اتر چکی ہوگی اور داڑھی مزید سفید۔

Back to top button