آن لائن جعلی سفارتخانوں سے پاکستانیوں کو چونا لگانے والا گروہ کیسے پکڑا گیا؟

مختلف ممالک کے جعلی آن لائن سفارتخانے قائم کر کے پاکستانیوں کو چونا لگانے والا سائبر فراڈ کی تاریخ کے سب سے منظم اور پیچیدہ نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا ہے، جہاں پر ملزمان گزشتہ کئی برسوں سے اٹلی، جرمنی، سویڈن، سعودی عرب اور عمان سمیت مختلف ممالک کے جعلی آن لائن سفارت خانے چلا کر ہزاروں پاکستانیوں سے کروڑوں روپے بٹورتے ہوئے انھیں بیرون ملک ملازمت اور ویزوں کے خواب دکھاتے رہے۔ جدید ٹیکنالوجی، جعلی ویب سائٹس، اسپوف کالنگ، جعلی سفارتی دستاویزات، ویڈیو کالز اور غیر ملکی پولیس کی وردیوں کے ذریعے متاثرین کا اعتماد حاصل کیا جاتا تھا، جبکہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے بٹورے جاتے رہے۔ نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی کی تحقیقات نے اس ڈیجیٹل فراڈ کے ایسے پہلو بے نقاب کیے ہیں جنہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی حیران کر دیا ہے۔
پاکستان میں سائبر جرائم کے خلاف کارروائیوں کے دوران ایک ایسا منظم اور بین الاقوامی نوعیت کا فراڈ نیٹ ورک سامنے آیا ہے، جس نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے گزشتہ کئی برسوں تک مختلف ممالک کے جعلی آن لائن سفارت خانے چلا کر ہزاروں پاکستانی شہریوں کو دھوکہ دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس نیٹ ورک نے اٹلی، جرمنی، سویڈن، سعودی عرب اور سلطنت عمان سمیت متعدد ممالک کے ویزوں، قونصلر خدمات اور امیگریشن پراسیسنگ کے نام پر متاثرین سے کروڑوں روپے وصول کیے۔
نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی کارروائی کے دوران راولپنڈی کے بحریہ ٹاؤن فیز فور میں قائم ایک جدید کال سینٹر نما مرکز پر چھاپہ مارا گیا، جہاں سے متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ کوئی عام کال سینٹر نہیں بلکہ انتہائی جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سے لیس ایک منظم سائبر فراڈ مرکز تھا، جہاں جدید کمپیوٹر سسٹمز، کالنگ ٹیکنالوجی اور جعلی سفارتی دستاویزات کے ذریعے بیرون ملک جانے کے خواہش مند پاکستانیوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزمان نے سرچ انجن کی تکنیکی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف ممالک کے سفارت خانوں کی جعلی ویب سائٹس، گوگل بزنس پروفائلز اور ای میل سسٹمز تیار کر رکھے تھے۔ جب کوئی شہری گوگل پر متعلقہ سفارت خانے کا نمبر یا ویزا معلومات تلاش کرتا تو اصل ویب سائٹ کے بجائے ان جعل سازوں کی معلومات نمایاں ہو جاتی تھیں، جس سے متاثرہ افراد باآسانی ان کے جال میں پھنس جاتے تھے۔
ذرائع کے مطابق اس نیٹ ورک کی سب سے خطرناک خصوصیت اسپوف کالنگ ٹیکنالوجی تھی، جس کے ذریعے کال وصول کرنے والے شخص کے موبائل پر بظاہر متعلقہ سفارت خانے کا اصل نمبر ہی ظاہر ہوتا تھا۔ اس تکنیکی دھوکے کی وجہ سے متاثرین کو یقین ہو جاتا کہ وہ واقعی کسی غیر ملکی سفارتی اہلکار سے گفتگو کر رہے ہیں۔
ملزمان جعلی اپائنٹمنٹ لیٹرز، سفارتی مہریں، ویزا دستاویزات اور قونصلر خطوط استعمال کرتے ہوئے متاثرین سے ویزا فیس، دستاویزات کی تصدیق، امیگریشن پراسیسنگ، سیکیورٹی کلیئرنس اور دیگر سرکاری اخراجات کے نام پر مختلف بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والٹس میں رقوم منتقل کرواتے تھے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ بعض مواقع پر شہریوں کو مزید اعتماد میں لینے کے لیے ویڈیو کالز کی جاتی تھیں، جن میں گروہ کے ارکان غیر ملکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا روپ دھار لیتے تھے۔ حکام کے مطابق اس مقصد کے لیے سنگاپور پولیس سے مشابہ وردیاں استعمال کی جاتی تھیں تاکہ متاثرین پر نفسیاتی دباؤ ڈال کر فوری ادائیگی پر مجبور کیا جا سکے۔
مزید انکشافات کے مطابق نیٹ ورک میں مختلف زبانوں پر عبور رکھنے والے افراد بھی شامل تھے، جو عربی اور انگریزی میں متعلقہ ممالک کے لہجوں کی نقل کرتے ہوئے خود کو سفارتی یا سرکاری اہلکار ظاہر کرتے تھے۔ اس طریقہ کار نے فراڈ کو مزید مؤثر اور قابلِ یقین بنا دیا۔
این سی سی آئی اے کے مطابق کارروائی کے دوران متعدد موبائل فون، کمپیوٹرز، ڈیجیٹل آلات، جعلی سفارتی دستاویزات، جعلی گوگل بزنس پروفائلز، ای میل ریکارڈ، کالنگ سسٹمز اور دیگر اہم ڈیجیٹل شواہد قبضے میں لیے گئے ہیں، جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے تاکہ نیٹ ورک کے مکمل حجم، مالی لین دین اور ممکنہ بین الاقوامی روابط کا سراغ لگایا جا سکے۔
تحقیقاتی ادارے اب ملزمان کے مالی ریکارڈ، بینک اکاؤنٹس اور بیرون ملک موجود مبینہ سہولت کاروں کی بھی چھان بین کر رہے ہیں، جبکہ مفرور مرکزی کرداروں کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کے ذریعے قانونی کارروائی آگے بڑھائی جا رہی ہے۔
سخت بیان بازی کے بعد نون لیگ اور پیپلزپارٹی میں سیز فائر کیسے ہوا؟
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ سائبر جرائم اب صرف کمپیوٹر ہیکنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ جدید نفسیاتی حربوں، مصنوعی شناخت، سرچ انجن میں ہیرا پھیری اور جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ بیرون ملک ویزا یا امیگریشن سے متعلق تمام معلومات صرف متعلقہ ممالک کے سرکاری سفارتی ذرائع سے حاصل کریں اور کسی بھی مشکوک کال، ویب سائٹ یا ادائیگی سے قبل مکمل تصدیق ضرور کریں۔
