سخت بیان بازی کے بعد نون لیگ اور پیپلزپارٹی میں سیز فائر کیسے ہوا؟

آزاد کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے وفاقی سطح پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت کے مابین اسلام آباد میں ہونے والی مشاورت کے بعد مظفرآباد میں دونوں اتحادی جماعتوں کے سینئر رہنماؤں کا اہم مفاہمتی اجلاس ہوا، جس میں انتخابی دھاندلی کے الزامات، باہمی تحفظات، باقی ماندہ انتخابی مراحل اور سیکیورٹی انتظامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سیاسی محاذ آرائی کو مزید بڑھنے سے روکا جائے، آزاد کشمیر کے باقی مراحل میں شفاف اور پرامن انتخابات یقینی بنائے جائیں اور وفاقی حکومت میں جاری تعاون کو متاثر ہونے سے بچایا جائے۔
سینئر صحافی انصار عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق آزاد کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان بڑھنے والی سیاسی تلخی کو کم کرنے کے لیے اسلام آباد کی سطح پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی قیادت کے پیغام اور مشاورت کے بعد مظفرآباد میں دونوں اتحادی جماعتوں کے اعلیٰ رہنماؤں کا ایک اہم مفاہمتی اجلاس منعقد ہوا، جس کا بنیادی مقصد انتخابی تنازع کو وفاقی اتحاد تک پھیلنے سے روکنا اور باقی ماندہ انتخابی مراحل کو پرامن ماحول میں مکمل کرانا تھا۔
ذرائع کے مطابق یہ اجلاس وفاقی سطح پر ہونے والی مشاورت کے نتیجے میں منعقد کیا گیا، جبکہ اطلاعات کے مطابق اس اقدام کو ایوانِ صدر اور وزیراعظم آفس کی حمایت بھی حاصل تھی، تاہم اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی نمائندگی قمر زمان کائرہ، ندیم افضل چن، آزاد کشمیر کے وزیراعظم فیصل راٹھور اور نیئر بخاری نے کی، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے رانا ثناء اللہ اور امیر مقام شریک ہوئے۔
ملاقات کے دوران دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے انتخابی مہم، میرپور ڈویژن کے نتائج اور حالیہ سخت بیانات کے حوالے سے ایک دوسرے کے سامنے اپنے تحفظات اور شکایات کھل کر پیش کیں۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے پیپلز پارٹی سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ منظم انتخابی دھاندلی کا الزام عائد کر رہی ہے تو اس کے قابلِ اعتماد شواہد بھی پیش کیے جائیں۔ اس پر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے اعتراضات پورے انتخابی عمل پر نہیں بلکہ صرف چار مخصوص حلقوں، ایل اے 5، ایل اے 9، ایل اے 11 اور ایل اے 12 تک محدود ہیں، جہاں ان کے مطابق سنگین بے ضابطگیاں اور انتخابی عمل میں مداخلت ہوئی۔
اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ جب پیپلز پارٹی نے اپنے اعتراضات صرف چار حلقوں تک محدود رکھے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ باقی نشستوں کے نتائج کو عملاً تسلیم کر چکی ہے، جہاں مسلم لیگ (ن) کو واضح برتری حاصل ہوئی۔ دونوں فریقوں کے درمیان اس نکتے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا کہ سیاسی اختلافات کو اس حد تک نہ بڑھنے دیا جائے کہ وہ وفاقی حکومت میں جاری اتحاد یا آزاد کشمیر کے باقی انتخابی مراحل کو متاثر کریں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ موجودہ سیاسی محاذ آرائی کو مزید ہوا نہیں دی جائے گی اور انتخابی تنازع کو سیاسی تصادم کے بجائے قانونی اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ دونوں جماعتوں نے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ باقی ماندہ انتخابی مراحل، خصوصاً مظفرآباد میں ہونے والی پولنگ، مکمل طور پر پرامن، شفاف اور منظم ماحول میں کرائی جائے۔
اجلاس میں سیکیورٹی انتظامات بھی زیرِ بحث آئے، جہاں دونوں جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پولنگ اسٹیشنوں کے اندر یا اطراف میں کسی بھی فرد کو اسلحہ لے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی تاکہ ووٹرز آزادانہ ماحول میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں اور کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
پاسداران انقلاب کا اردن میں 3 امریکی لڑاکا طیارے تباہ کرنےکا دعویٰ
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اجلاس دونوں اتحادی جماعتوں کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی پہلی سنجیدہ کوشش ہے۔ اگرچہ آزاد کشمیر کے انتخابات نے دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی رقابت کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے، تاہم وفاق میں مشترکہ حکومت اور باہمی سیاسی مفادات کے پیش نظر دونوں قیادتیں تصادم کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اختلافات برقرار رہنے کے باوجود دونوں جماعتوں نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ سیاسی بیان بازی کو محدود رکھا جائے اور انتخابی عمل کو مزید تنازعات کی نذر نہ ہونے دیا جائے۔
