پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام میں اصل رکاوٹ کیا؟

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کےنئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام بارےبیان نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے، وزیر داخلہ کی تجویز پر مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے مختلف آرا سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، تاہم محسن نقوی کے مطابق بڑھتی آبادی، معاشی دباؤ اور گورننس کے مسائل کا حل صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام سیاسی جماعتیں ایک میز پر بیٹھ کر نظام کی ازسرِ نو تشکیل پر اتفاق کریں۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبے بنانا واقعی مسائل کا حل ہے، اس کا آئینی طریقہ کار کیا ہے، اور اس اہم فیصلے کا اختیار آخر کس کے پاس ہے؟
خیال رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا اسلام آباد میں منعقدہ ایک معاشی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان کا موجودہ نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا اور ملک کو انتظامی اصلاحات کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی، مسلسل بڑھتے قرضوں اور گورننس کے مسائل کے پیش نظر پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔
محسن نقوی کے مطابق وفاقی حکومت ہر سال خسارے کا بجٹ پیش کرتی ہے اور قرضوں کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے، اس لیے صرف معاشی پالیسیاں تبدیل کرنا کافی نہیں بلکہ پورے انتظامی ڈھانچے کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر بیٹھ کر ملک کے بنیادی مسائل، خصوصاً انتظامی تقسیم، پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا، کیونکہ موجودہ حالات میں روایتی طریقہ کار سے مسائل کا حل ممکن نظر نہیں آتا۔
محسن نقوی کے اس بیان نے سیاسی اور آئینی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دیا۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اگرچہ نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت سے اتفاق کیا، تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ریاستی نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق مسئلہ نظام کے خاتمے کا نہیں بلکہ اختیارات کے غیر متوازن ارتکاز کا ہے۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات وفاق سے صوبوں کو منتقل تو ہوئے، لیکن صوبوں نے انہیں مقامی حکومتوں تک منتقل نہیں کیا، جس کے نتیجے میں صوبائی دارالحکومتوں میں اختیارات کا ارتکاز بڑھ گیا۔ ان کے مطابق اگر مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام قائم کر دیا جائے تو بہت سے انتظامی مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں، بصورت دیگر مستقبل میں مزید صوبے یا انتظامی یونٹس ناگزیر ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ ملک میں یا تو تمام اضلاع میں بااختیار مقامی حکومتیں قائم کی جائیں یا پھر آبادی اور انتظامی ضروریات کے مطابق مزید صوبے تشکیل دیے جائیں تاکہ عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنائی جا سکے۔
دوسری جانب حکومتی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی نئے صوبوں کی مخالفت نہیں کی، تاہم واضح کیا کہ ایسا کوئی بھی فیصلہ آئین کے مطابق ہی کیا جا سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کے مطابق نئے صوبوں کا فیصلہ وفاقی حکومت اکیلے نہیں کر سکتی بلکہ متعلقہ صوبے کی اسمبلی کی منظوری بنیادی شرط ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 239(4) کے مطابق اگر کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی یا نئے صوبے کا قیام مقصود ہو تو متعلقہ صوبائی اسمبلی کو اپنے کل ارکان کی کم از کم دو تہائی اکثریت سے اس کی منظوری دینا ہوگی۔ اس کے بعد پارلیمنٹ آئینی ترمیم منظور کرے گی، جس کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں میں بھی دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔ یوں نئے صوبے بنانا صرف ایک سیاسی اعلان نہیں بلکہ ایک پیچیدہ آئینی اور پارلیمانی عمل ہے۔
سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق اگر پاکستان میں بااختیار ضلعی حکومتوں کا نظام مؤثر انداز میں نافذ کیا جاتا تو شاید نئے صوبوں کی ضرورت اس شدت سے محسوس نہ ہوتی۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑے رقبے اور آبادی والے صوبوں میں بہتر طرز حکمرانی کے لیے انتظامی اصلاحات ناگزیر ہیں، تاہم ان اصلاحات کی نوعیت پر وسیع سیاسی اتفاق رائے ضروری ہوگا۔
ادھر بعض مبصرین نے محسن نقوی کے "نظام ڈھے چکا ہے” جیسے الفاظ کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے اسے حکومتی کارکردگی پر ایک اہم تبصرہ قرار دیا ہے، جبکہ بعض حلقوں کے نزدیک یہ بیان انتظامی اصلاحات پر قومی مکالمے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث نئی نہیں۔ ماضی میں بھی جنوبی پنجاب، ہزارہ اور دیگر علاقوں کے حوالے سے نئے صوبوں کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں، تاہم آئینی پیچیدگیوں، سیاسی اختلافات اور مطلوبہ پارلیمانی اکثریت نہ ہونے کے باعث اب تک کوئی نیا صوبہ قائم نہیں ہو سکا۔
کیا پاکستان میں مزید صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام ممکن ہے؟
اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا محسن نقوی کی تجویز محض ایک سیاسی بحث تک محدود رہتی ہے یا مستقبل میں اسے عملی اور آئینی شکل دینے کے لیے سیاسی جماعتیں واقعی کسی مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہو پاتی ہیں۔
