کیا پاکستان میں مزید صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام ممکن ہے؟

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے نئے صوبوں کے قیام کے لیے عوام سے رجوع کرنے اور ریفرنڈم کے آئینی آپشن کے بیان نے ملکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ دوسری جانب صدر آصف علی زرداری کا طویل عرصے سے کراچی میں قیام، پیپلز پارٹی کی حکومت پر بڑھتی ہوئی تنقید، آزاد کشمیر کے انتخابات پر پیدا ہونے والی کشیدگی اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال نے حکمران اتحاد کے مستقبل سے متعلق کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

سینئر تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ کہنا کہ موجودہ نظام تباہ حال ہو چکا ہے اور تمام سیاسی قوتوں کو ایک میز پر بیٹھ کر اصلاحات پر اتفاق کرنا ہوگا، دراصل ملک میں گورننس کے بحران کی نشاندہی ہے۔ انہوں نے نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر عوام سے رجوع کرنے اور ریفرنڈم کے آئینی آپشن کا ذکر کیا، جسے سیاسی حلقے غیر معمولی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر پارلیمنٹ میں نئے صوبوں کے قیام پر اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکا تو آئین کے تحت ریفرنڈم کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے بقول محسن نقوی کے اس بیان کو صدر آصف علی زرداری سے کراچی میں ہونے والی ملاقات کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی حلقوں کا تاثر ہے کہ صدر زرداری کا 5 جولائی سے مسلسل کراچی میں قیام حکومتی معاملات پر ان کی ناراضی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی حکومت پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں، فارم 47 کا معاملہ اٹھا رہے ہیں اور آزاد کشمیر کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات لگا کر حکومتی ساکھ کو چیلنج کر رہے ہیں۔مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں امن و امان کی خراب صورتحال، آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والا سیاسی تناؤ اور بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اس بات کا اشارہ دے رہی ہے کہ ملک میں کئی اہم معاملات پس پردہ چل رہے ہیں جن کے اثرات قومی سیاست پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔

 

اردن : عوام کا حکومت سے امریکی فوج کے انخلا کا مطالبہ

سیاسی تجزیہ کاروں کا مانناہے کہ نئے صوبوں کا قیام کوئی غیر معمولی یا منفی عمل نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک، خصوصاً چین اور بھارت، بہتر انتظامی نظام اور مؤثر گورننس کے لیے نئے صوبے یا ریاستیں تشکیل دے چکے ہیں۔ تاہم پاکستان میں اس کی سب سے بڑی رکاوٹ بڑی سیاسی جماعتیں ہیں، جو نئے صوبوں کو اپنی سیاسی طاقت اور اقتدار کے لیے خطرہ تصور کرتی ہیں، اسی لیے اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہو پا رہا۔ماہرین کے بقول نئے صوبوں کے قیام کے لیے بنیادی راستہ آئینی ترمیم ہے، جس کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔ اگر اس مقصد کے لیے مطلوبہ سیاسی حمایت حاصل نہ ہو سکی، خصوصاً اگر پیپلز پارٹی نے اس کی مخالفت کی، تو حکومت آئین میں موجود ریفرنڈم کے آپشن پر غور کر سکتی ہے، تاہم اس کے لیے بھی آئینی اور سیاسی پیچیدگیاں موجود ہیں۔حکومتی مستقبل بارے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سیاسی اور حکومتی حلقوں میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ اگر وزیراعظم شہباز شریف بھی سیاسی اور حکومتی معاملات مؤثر انداز میں آگے نہیں بڑھا پا رہے تو پھر ان کا متبادل کون ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق شہباز شریف پر یہ تاثر غالب ہے کہ وہ سیاسی مفادات کے بجائے ریاستی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، اور اگر ان کی قیادت پر بھی اعتراضات برقرار رہتے ہیں تو مستقبل میں قابلِ قبول متبادل تلاش کرنا حکمران اتحاد کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

Back to top button