پاکستان اچانک عالمی سائبر حملوں کی زد میں کیوں آ گیا؟

دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے، لیکن اسی رفتار سے سائبر جرائم بھی پیچیدہ اور خطرناک ہوتے جا رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی ترقی نے جہاں جدید سہولیات فراہم کی ہیں، وہیں ہیکرز کو بھی نئے اور زیادہ مؤثر طریقے مہیا کر دیے ہیں۔ عالمی سائبر سکیورٹی کمپنی کیسپرسکی کی تازہ رپورٹ کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستان سمیت مشرق وسطیٰ، ترکیہ اور افریقہ میں لاکھوں صارفین مختلف نوعیت کے سائبر حملوں کا نشانہ بنے۔ رپورٹ نہ صرف عام صارفین بلکہ حساس اور دفاعی اداروں کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے، کیونکہ حملہ آور اب روایتی طریقوں کے بجائے مصنوعی ذہانت، جائز کلاؤڈ سروسز اور جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کو مزید خفیہ اور مؤثر بنا رہے ہیں۔

عالمی سائبر سکیورٹی کمپنی کیسپرسکی کی گلوبل ریسرچ اینڈ اینالیسس ٹیم نے سال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران سائبر خطرات سے متعلق اپنی تازہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں پاکستان سمیت مشرق وسطیٰ، ترکیہ اور افریقہ کے مختلف ممالک میں بڑھتے ہوئے آن لائن حملوں کی سنگینی کو اجاگر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 2026 کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران آن لائن حملوں نے لاکھوں صارفین کو متاثر کیا۔ اس عرصے میں ترکیہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک رہا، جہاں 22.8 فیصد صارفین سائبر حملوں کی زد میں آئے۔ اس کے بعد کینیا 21.2 فیصد اور قطر 19.3 فیصد کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔

پاکستان میں بھی صورتحال تشویشناک رہی، جہاں 12.2 فیصد صارفین کو مختلف نوعیت کے آن لائن خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم رپورٹ کے مطابق کیسپرسکی کے حفاظتی نظام نے ان حملوں کی بڑی تعداد کو کامیابی سے ناکام بنایا، جس کے باعث صارفین کو بڑے پیمانے پر نقصان سے بچایا جا سکا۔

کیسپرسکی کی گلوبل ریسرچ اینڈ اینالیسس ٹیم کے سربراہ سرگئی لوژکن کے مطابق مصنوعی ذہانت نے سائبر جرائم کی نوعیت کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2026 کے دوران بھی مصنوعی ذہانت سائبر حملوں کی حکمت عملی پر گہرے اثرات مرتب کرتی رہے گی، اس لیے نہ صرف نجی اداروں بلکہ حساس اور دفاعی اداروں کو بھی تیزی سے بدلتے ہوئے خطرات کے مطابق اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانا ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر مجرم اب چوری شدہ معلومات کی منتقلی کے لیے ایسے طریقے استعمال کر رہے ہیں جنہیں روایتی سکیورٹی نظام آسانی سے شناخت نہیں کر پاتے۔ حملہ آور جائز کلاؤڈ سروسز، فائل شیئرنگ پلیٹ فارمز اور عام نیٹ ورک ٹریفک میں اپنی سرگرمیوں کو اس انداز سے چھپا دیتے ہیں کہ ان کا سراغ لگانا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ادارے بروقت حفاظتی اقدامات نہ کریں تو مستقبل میں سائبر حملوں کی شدت اور پیچیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ اسی لیے کیسپرسکی نے اداروں کو سفارش کی ہے کہ وہ اپنے سسٹمز میں موجود کمزوریوں کی مسلسل جانچ کریں، سافٹ ویئر کو بروقت اپ ڈیٹ رکھیں، ملازمین کی سائبر سکیورٹی سے متعلق باقاعدہ تربیت کا اہتمام کریں، جدید تھریٹ انٹیلیجنس سے فائدہ اٹھائیں اور جدید حفاظتی حل اختیار کریں تاکہ بدلتے ہوئے سائبر خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

 

جاپان میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی

ڈیجیٹل دور میں جہاں حکومتی اداروں، مالیاتی نظام، کاروباری شعبے اور عام صارفین کا انحصار آن لائن نظام پر بڑھ رہا ہے، وہاں سائبر سکیورٹی اب محض ایک تکنیکی ضرورت نہیں بلکہ قومی سلامتی، معاشی استحکام اور عوامی اعتماد کا بنیادی تقاضا بن چکی ہے۔

Back to top button