تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کا فائدہ پاکستانیوں کو کیوں نہیں پہنچتا؟

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ تعین شروع ہونے کے بعد عوام کی سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہونے کے باوجود ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فوری کمی کیوں نظر نہیں آتی۔ یہی سوال سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں بھی اٹھایا گیا، جہاں اوگرا نے نئے قیمتوں کے تعین کے نظام، سات روزہ اوسط قیمت کے فارمولے، تیل کی درآمد کے دورانیے اور پیٹرولیم لیوی سے متعلق تفصیلی وضاحت پیش کی۔ دوسری جانب ارکانِ کمیٹی نے اس نظام کو کاروبار اور عام صارفین کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا، جبکہ حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ قیمتوں کا روزانہ تعین شفافیت، مسابقت اور عوام کو بتدریج ریلیف فراہم کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے نئے نظام پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں تفصیلی غور کیا گیا، جہاں ارکان نے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود ملکی سطح پر اس کے فوری اثرات نظر نہ آنے پر سوالات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران اوگرا کے چیئرمین بیرسٹر نبیل اعوان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کا مقصد عوام کو اچانک بڑے اضافے کے جھٹکے سے بچانا اور قیمتوں میں تدریجی ردوبدل کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق پہلے ہفتہ وار قیمتوں میں بڑی تبدیلی صارفین کے لیے شدید مالی دباؤ کا باعث بنتی تھی، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر معمولی ردوبدل سے مارکیٹ زیادہ متوازن رہتی ہے۔
چیئرمین اوگرا نے واضح کیا کہ پاکستان میں روزانہ قیمتوں کا تعین گزشتہ سات دن کی عالمی اوسط قیمت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل سستا بھی ہو جائے تو اس کا اثر فوری طور پر مقامی قیمتوں میں نظر نہیں آتا بلکہ آئندہ چند دنوں میں بتدریج منتقل ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر عالمی سطح پر قیمتیں بڑھیں تو ان کا اثر بھی ایک ہی دن میں عوام پر نہیں ڈالا جاتا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بیرون ملک سے درآمد ہونے والا خام تیل اور تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات تقریباً بیس سے پچیس روز بعد ملک کے پیٹرول پمپوں تک پہنچتی ہیں، اس لیے موجودہ فروخت ہونے والا ایندھن دراصل کئی ہفتے پہلے درآمد کیا گیا ہوتا ہے۔ اس پورے عمل کی وجہ سے عالمی قیمتوں میں ہونے والی فوری تبدیلی مقامی مارکیٹ میں تاخیر سے ظاہر ہوتی ہے۔
اجلاس میں سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے روزانہ قیمتوں کے تعین کے نظام پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے "سلو پوائزن” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روزانہ قیمتوں میں ردوبدل سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے، جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے اور مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
تاہم چیئرمین اوگرا نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام سے پیٹرول پمپوں پر مصنوعی قلت اور طویل قطاروں کا خاتمہ ہوا ہے، جبکہ مارکیٹ اب قیمتوں میں معمولی تبدیلیوں کے ساتھ خود کو بہتر انداز میں ہم آہنگ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق قیمتوں، ٹیکسوں اور دیگر تمام تفصیلات روزانہ اوگرا کی ویب سائٹ پر جاری کی جاتی ہیں تاکہ شفافیت برقرار رہے۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بھی قیمتوں کے تعین کے نظام پر حکومت کا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں نمایاں کمی کی تھی، تاہم موجودہ حالات میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منظوری کے بغیر لیوی میں مزید کمی ممکن نہیں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس وقت پیٹرول پر فی لیٹر تقریباً 103 روپے مختلف ٹیکسوں اور محصولات کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ ٹیکسوں کے نفاذ کا اختیار اوگرا کے پاس نہیں بلکہ متعلقہ حکومتی اداروں کے پاس ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق حکومت اب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے براہ راست تعین سے الگ ہو چکی ہے اور یہ ذمہ داری مکمل طور پر اوگرا کے سپرد کر دی گئی ہے، جو روزانہ عالمی رجحانات، درآمدی لاگت اور مقررہ فارمولے کے مطابق نئی قیمتیں جاری کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہوتی ہے اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل نیچے آتی ہیں تو اس کا فائدہ بھی پاکستانی صارفین کو منتقل کیا جائے گا، تاہم اگر خطے میں دوبارہ جنگ یا بحران شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے۔
ایران تنازع: امریکی فوجی حکمت عملی پر اعلیٰ قیادت میں اختلافات
ماہرین کے مطابق روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام طویل مدت میں مارکیٹ کو زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں عالمی رجحانات سے ہم آہنگ کر سکتا ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار شفاف عملدرآمد، مناسب ٹیکس پالیسی اور صارفین تک عالمی قیمتوں میں کمی کا بروقت فائدہ پہنچانے پر ہوگا۔
