کیا مولانا حکومت اور PTIمیں مفاہمت کروا پائیں گے؟

پاکستان کی سیاست ایک بار پھر ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں لانگ مارچ، حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات میں تعطل اور خیبر پختونخوا میں ممکنہ آئینی اقدامات کے خدشات نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔ ایسے حالات میں مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے ثالثی کی پیشکش اس بات کا اشارہ ہے کہ سیاسی کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے کم کرنے کی کوششیں پس پردہ جاری ہیں۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اور تحریک انصاف اپنے مؤقف میں لچک پیدا کرنے کے لیے تیار ہیں یا ثالثی کی یہ کوشش بھی سیاسی اختلافات اور باہمی بداعتمادی کی نذر ہو جائے گی؟

ذرائع کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت اور تحریک انصاف، دونوں کو الگ الگ ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے حکومت کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کے بجائے سیاسی طریقے سے صورت حال حل کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ ان کی تجویز اس تناظر میں اہم ہے کہ لانگ مارچ کے باعث وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔ ایسے میں کسی بھی غیر معمولی آئینی اقدام سے سیاسی تنازع شدت اختیار کر سکتا ہے اور وفاق و صوبے کے تعلقات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی قیادت میں حکومتی وفد سے ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمٰن اور تحریک انصاف کی قیادت کے درمیان ٹیلی فونک رابطوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاہم تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر ان رابطوں کی تردید کر رہے ہیں۔ اس تضاد نے سیاسی حلقوں میں مزید سوالات پیدا کیے ہیں کہ آیا دونوں جانب مذاکرات کی بحالی کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں یا ابھی تک کسی باقاعدہ رابطے اور مشترکہ لائحۂ عمل پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بھی لانگ مارچ اور حکومت و تحریک انصاف کے درمیان مذاکراتی تعطل ختم کرنے کے امکانات پر اپنے قریبی رفقا سے مشاورت کی ہے۔ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں امیر مقام اور طلحہ برکی نے لانگ مارچ کی صورت حال پر بریفنگ دی، جبکہ مذاکرات کی بحالی اور سیاسی بحران سے نکلنے کے مختلف امکانات پر غور کیا گیا۔ اس مشاورت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت بھی موجودہ صورت حال کے سیاسی اثرات اور آئندہ حکمت عملی کا جائزہ لے رہی ہے، تاہم ابھی تک کسی حتمی فیصلے یا مذاکرات کی بحالی کا واضح اعلان سامنے نہیں آیا۔

مذاکرات میں تعطل کی ایک اہم وجہ ایجنڈے پر اختلاف بھی بتایا جا رہا ہے۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کے مطابق تحریک انصاف بانی چیئرمین سے ملاقات اور ان کے مسائل کے حل کے معاملے پر بات چیت کے لیے گئی تھی، لیکن حکومت نے دورانِ مذاکرات دہشت گردی کا معاملہ اچانک سامنے رکھ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس موضوع پر پہلے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا، جس پر بیرسٹر گوہر نے ناراضی کا اظہار کیا۔ راجہ ناصر عباس کے مطابق اختلاف ایک لفظ ’’متفقہ‘‘ پر بھی سامنے آیا۔ ان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ مذاکرات میں صرف سیاسی مطالبات ہی نہیں بلکہ ایجنڈے کی ترتیب، الفاظ کے انتخاب اور باہمی اعتماد کا مسئلہ بھی اہم رکاوٹ بن رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی ثالثی کی پیشکش اس لیے بھی اہم ہے کہ سیاسی مذاکرات میں کسی تیسرے فریق کا کردار اس وقت مددگار ثابت ہو سکتا ہے جب براہِ راست بات چیت تعطل کا شکار ہو جائے۔ تاہم ثالثی کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف دونوں اسے محض سیاسی دباؤ بڑھانے کا ذریعہ بنانے کے بجائے سنجیدہ حل کی کوشش سمجھیں۔ حکومت کو اپوزیشن کے بنیادی تحفظات سننے ہوں گے، جبکہ تحریک انصاف کو بھی اپنے مطالبات اور احتجاجی حکمت عملی کے ساتھ مذاکرات کے لیے واضح اور قابلِ عمل راستہ پیش کرنا ہوگا۔

موجودہ بحران کا حل صرف لانگ مارچ کے راستے یا احتجاجی سرگرمیوں کو محدود کرنے میں نہیں، بلکہ ان سیاسی اور آئینی اختلافات کو دور کرنے میں ہے جو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد کے فقدان کو بڑھا رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے اقدامات کی بحث، اگر آگے بڑھتی ہے، تو سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ تمام فریق تصادم کے بجائے مکالمے کو ترجیح دیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم کی مشاورت اور مولانا فضل الرحمٰن کی ثالثی کی کوششیں مذاکرات کی بحالی کا راستہ ہموار کرتی ہیں یا سیاسی ڈیڈ لاک مزید طول پکڑتا ہے۔ اگر دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر سختی سے قائم رہے تو لانگ مارچ ایک بڑے سیاسی تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے؛ لیکن اگر ایجنڈے پر اتفاق، باہمی اعتماد اور عملی لچک پیدا کر لی جائے تو یہی بحران سیاسی مفاہمت کا موقع بھی بن سکتا ہے۔

Back to top button