حکومتPTIڈیڈ لاک، مولانا فضل الرحمٰن کے پاس درمیانی راستہ کیا؟

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان سیاسی ڈیڈ لاک ختم کرانے کے لیے مولانا فضل الرحمٰن کی سرگرمیاں ایک نئی پیش رفت کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ لانگ مارچ، خیبر پختونخوا میں ممکنہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی بحث، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اور عمران خان سے ملاقات کے معاملے نے سیاسی صورت حال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے میں مولانا کی ثالثی کی پیشکش سے مذاکرات کی بحالی کی امید تو پیدا ہوئی ہے، لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ کیا حکومت اور تحریک انصاف اپنے اپنے مؤقف میں لچک پیدا کرنے اور اختلافات کو سیاسی مکالمے کے ذریعے حل کرنے پر آمادہ ہوں گے؟

اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے عمرے سے واپسی کے بعد خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے سیاسی مفاہمت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا تھا۔ بعد ازاں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ پر مشتمل حکومتی شخصیات نے ان سے ملاقات کی اور سیاسی بحران کم کرنے میں کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ حکومتی حلقوں کے مطابق دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحۂ عمل اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے، تاکہ کسی بڑے آئینی اقدام کی نوبت نہ آئے۔

حکومتی وفد سے ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمٰن کے تحریک انصاف سے رابطوں کی اطلاعات نے مذاکرات کی بحالی کے امکانات کو موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔ تاہم ثالثی کا کردار ادا کرنے سے پہلے مولانا یہ جانچنا چاہتے ہیں کہ آیا دونوں فریق واقعی مسئلے کا حل چاہتے ہیں اور اپنے مؤقف میں مناسب گنجائش پیدا کرنے پر آمادہ ہیں۔ ان سے منسوب مؤقف کے مطابق اگر فریقین ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو سمجھنے اور قابلِ قبول درمیانی راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار ہوں تو تعطل ختم کرنے کی راہ نکل سکتی ہے، لیکن اگر لانگ مارچ کے خلاف طاقت استعمال کی گئی تو صورت حال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی اہمیت اس حقیقت سے بھی جڑی ہے کہ وہ حکومت کا حصہ نہ ہونے کے باوجود اپوزیشن کی سیاست اور حکومتی حلقوں سے رابطوں کا طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ خیبر پختونخوا کی سیاست میں تحریک انصاف کے حریف بھی ہیں، اس لیے ان کی ثالثی کے لیے دونوں جانب اعتماد پیدا کرنا ایک اہم چیلنج ہوگا۔ سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق مولانا صوبے کی صورت حال سے واقف ہیں اور پہلے بھی خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں حکومتی عمل داری اور طالبان کی سرگرمیوں سے متعلق تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔ ان کے نزدیک صوبے میں طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی حل کی کوشش ضروری ہے۔

اس معاملے کا ایک اہم پہلو دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی ہے۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ مذاکرات کے دوران دہشت گردی کا معاملہ اچانک ایجنڈے میں شامل کیا گیا، جبکہ ان کی ترجیح عمران خان سے ملاقات اور ان سے متعلق مسائل کا حل تھا۔ اگر مذاکرات کے فریقین کے درمیان ایجنڈے پر ہی اتفاق نہیں ہوگا تو بات چیت آگے بڑھانا مشکل ہو جائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ سیاسی مطالبات اور قومی سلامتی کے معاملات کو واضح طریقۂ کار کے تحت زیرِ بحث لایا جائے اور کسی بھی فریق کو یہ احساس نہ ہو کہ اس کے بنیادی مؤقف کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن قیادت میں بھی حکمت عملی پر مشاورت کی اطلاعات ہیں۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کے درمیان آل پارٹیز کانفرنس اور حکومت سے مذاکرات کے معاملے پر رابطہ ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اپوزیشن قائدین نے حکومت سے بات چیت کو عمران خان سے ملاقات کے معاملے سے جوڑنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کی بحالی صرف حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان رابطوں کا معاملہ نہیں رہی، بلکہ اپوزیشن کے وسیع تر مؤقف اور مشترکہ حکمت عملی سے بھی جڑی ہوئی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس کی تجویز بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں دہشت گردی، خیبر پختونخوا کی صورت حال، احتجاج کے حق، آئینی حدود اور سیاسی اختلافات کے حل پر مشترکہ مکالمہ شروع کریں تو کشیدگی کم کرنے کے لیے وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہوگا کہ کانفرنس محض بیانات اور سیاسی مطالبات تک محدود نہ رہے بلکہ قابلِ عمل تجاویز اور واضح لائحۂ عمل سامنے لائے۔

بالآخر مذاکرات کی بحالی کا دارومدار کسی ایک سیاسی رہنما کی کوشش سے زیادہ حکومت اور تحریک انصاف کی آمادگی پر ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن رابطوں کا ذریعہ بن سکتے ہیں، لیکن پائیدار پیش رفت اسی وقت ممکن ہوگی جب دونوں فریق اپنے اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے قابلِ قبول حل کی طرف بڑھیں۔ اگر سیاسی قیادت نے لچک، اعتماد اور سنجیدہ مکالمے کا راستہ اختیار کیا تو موجودہ تعطل کم کرنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے؛ بصورتِ دیگر لانگ مارچ اور جوابی اقدامات سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

Back to top button