مصطفیٰ عامرکیس کا فیصلہ مزید 2 برس لٹکنے کا خدشہ کیوں؟

کراچی کے نوجوان مصطفیٰ عامر کے قتل کا مقدمہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر اور عدالتی نظام کی پیچیدگیوں کی ایک اہم مثال بنتا جا رہا ہے۔ ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود مقدمے کا باقاعدہ ٹرائل شروع نہیں ہو سکا، جبکہ مرکزی ملزم ارمغان، اس کے والد کامران اور شریک ملزم شیراز کے خلاف مجموعی طور پر 5 مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ ملزم کی جانب سے مختلف درخواستوں، متعلقہ عدالت پر عدم اعتماد اور وکیل کے معاملے پر اختلافات کے باعث کارروائی بار بار متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اب ٹرائل کورٹ کے جج کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئی تعیناتی نہ ہونے سے بھی مقدمہ تعطل کا شکار ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق موجودہ صورتِ حال برقرار رہی تو فیصلے میں مزید 2 سال لگنے کا خدشہ ہے، جبکہ مقتول کی والدہ وجیہہ عامر کا کہنا ہے کہ انہیں نظام سے کوئی امید نہیں، لیکن انصاف کے حصول کے لیے ان کے پاس دوسرا راستہ بھی نہیں۔

مصطفیٰ عامر کو 6 جنوری 2025 کو کراچی کے علاقے ڈیفنس سے اغوا کیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر ان کی والدہ نے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرایا۔ 13 جنوری کو انہیں ایک بین الاقوامی موبائل نمبر سے تاوان کی کال موصول ہوئی، جس میں 2 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا گیا۔ بعد ازاں مقدمہ انسدادِ تشدد جرائم سے متعلق پولیس یونٹ کو منتقل کیا گیا۔ 8 فروری 2025 کو پولیس نے ڈیفنس کے ایک بنگلے میں ملزم ارمغان کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی، جس کے دوران پولیس کے مطابق ملزم کی جانب سے فائرنگ کی گئی اور اسے گرفتار کر لیا گیا۔ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ مصطفیٰ عامر کو اغوا کرنے کے بعد گاڑی میں بلوچستان لے جا کر قتل کیا گیا۔

اس واقعے کے بعد ارمغان کے خلاف قتل، اغوا برائے تاوان، اقدامِ قتل، پولیس مقابلے، غیر قانونی اسلحے، منی لانڈرنگ اور غیر قانونی کال سینٹر چلانے سمیت مختلف نوعیت کے مقدمات درج کیے گئے۔ مرکزی ملزم کے والد کامران اور شریک ملزم شیراز بھی مقدمات میں نامزد ہیں۔ ان کے خلاف مصطفیٰ عامر قتل کیس سمیت 5 مقدمات انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں زیرِ سماعت ہیں، لیکن اب تک ملزمان پر فردِ جرم عائد نہیں ہو سکی۔ فردِ جرم عائد ہونا باقاعدہ ٹرائل کے آغاز کے لیے بنیادی مرحلہ ہے، جس کے بعد استغاثہ کے گواہوں کے بیانات، جرح، ملزمان کے بیانات اور وکلا کے حتمی دلائل کا مرحلہ آتا ہے۔

مقدمے میں تاخیر کی وجوہات میں مرکزی ملزم ارمغان کی جانب سے متعلقہ عدالت پر عدم اعتماد کا اظہار، مقدمہ دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواستیں، ضمانت سے متعلق کارروائی اور دیگر قانونی درخواستیں شامل بتائی جاتی ہیں۔ ملزم اور اس کے والدین کے درمیان وکیل کے معاملے پر اختلافات بھی کارروائی متاثر ہونے کی وجوہات میں شمار کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ملزم شیراز اور کامران کی ضمانت کی درخواستیں اور وکیلِ صفائی کی جانب سے کال ڈیٹا ریکارڈ، یو ایس بی اور دیگر شواہد کی فراہمی سے متعلق درخواستیں بھی زیرِ سماعت ہیں۔ ایک مفرور ملزم فرحت اللہ کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی مکمل کرنے میں بھی وقت لگا، جس کے باعث مقدمے کی پیش رفت متاثر ہوئی۔

مقتول کی والدہ وجیہہ عامر نے مقدمے کی سست رفتار سماعت کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ بیٹے کے قتل کو ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع نہیں ہو سکی اور ملزم کی جانب سے مسلسل تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پولیس کی تفتیش سے مطمئن ہیں اور ان کے مطابق قتل کے شواہد موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود مقدمہ آگے نہیں بڑھ رہا۔ ان کا یہ کہنا کہ انہیں نظام سے کوئی امید نہیں، ایک ایسے خاندان کی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے جو طویل عرصے سے اپنے عزیز کے قتل کے مقدمے میں عدالتی کارروائی شروع ہونے کا منتظر ہے۔

وجیہہ عامر کے وکیل افتخار شاہ ایڈووکیٹ نے بھی مقدمے کی کارروائی میں تاخیر پر تشویش ظاہر کی تھی۔ ان کے مطابق کبھی ملزم اور اس کے والدین کے درمیان اختلافات سامنے آتے ہیں، کبھی وکیل کی عدم موجودگی کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے اور کبھی ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدمہ سنگین نوعیت کا ہے، لیکن مسلسل تاریخیں ملنے سے کارروائی آگے نہیں بڑھ رہی۔ مقتول کے خاندان کی استدعا ہے کہ مقدمے کا باقاعدہ ٹرائل جلد شروع کیا جائے تاکہ شواہد کی بنیاد پر فیصلہ ہو سکے۔

سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیے جانے کے بعد ٹرائل کورٹ نے التوا کا سبب بننے والی بعض درخواستوں پر کارروائی کی۔ انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ارمغان اور دیگر ملزمان کے خلاف مصطفیٰ عامر قتل کیس سمیت 5 مقدمات یکجا کرنے کا حکم دیا، جبکہ قتل کا مقدمہ سیشن عدالت منتقل کرنے کی ملزم کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ ارمغان کی درخواستِ ضمانت بھی مسترد ہوئی۔ تاہم دیگر ملزمان کی ضمانت اور شواہد کی فراہمی سے متعلق بعض درخواستیں زیرِ سماعت رہیں، جس کے باعث مقدمے کی کارروائی مکمل طور پر آگے نہ بڑھ سکی۔

تاخیر کا ایک اور اہم سبب گزشتہ ماہ ٹرائل کورٹ کے جج کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئی تعیناتی نہ ہونا ہے۔ عدالت خالی ہونے کے باعث مقدمے کی کارروائی آگے نہیں بڑھ پا رہی۔ نئے جج کی تعیناتی کے بعد ہی فردِ جرم عائد کرنے اور باقاعدہ ٹرائل شروع کرنے کا مرحلہ آگے بڑھ سکے گا۔ اس کے بعد استغاثہ کے گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہوں گے، ان پر جرح کی جائے گی، ملزمان کے بیانات لیے جائیں گے اور دونوں جانب کے وکلا حتمی دلائل دیں گے۔ ان تمام مراحل کی تکمیل کے بعد ہی عدالت فیصلہ سنانے کی پوزیشن میں آئے گی۔

فوجداری مقدمات کے ماہر وکیل حسنین علی چوہان ایڈووکیٹ کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت ٹرائل مکمل ہونے کے بعد مقدمے کا فیصلہ ایک ماہ میں کرنے کی قانونی مدت مقرر ہے، لیکن مصطفیٰ عامر قتل کیس میں ابھی تک فردِ جرم بھی عائد نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم کی جانب سے بار بار درخواستیں دائر کیے جانے سے مقدمہ طویل ہو سکتا ہے اور موجودہ صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے فیصلہ آنے میں مزید 2 سال لگنے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق پولیس کے پاس دستاویزی اور دیگر شواہد موجود ہیں، تاہم انصاف کی فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ مقدمے کی کارروائی باقاعدگی اور مؤثر انداز میں آگے بڑھے۔

یہ مقدمہ ایک بنیادی سوال بھی سامنے لاتا ہے کہ سنگین جرائم کے مقدمات میں قانونی حقوق اور بروقت انصاف کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے۔ ہر ملزم کو قانون کے مطابق دفاع، درخواستیں دائر کرنے اور منصفانہ ٹرائل کا حق حاصل ہے، لیکن مسلسل التوا کی صورت میں متاثرہ خاندان کو بھی غیر ضروری انتظار سے بچانا عدالتی نظام کی ذمہ داری ہے۔ قانونی درخواستوں پر فیصلہ کرنا، عدالتوں میں خالی آسامیوں کو پُر کرنا اور مقدمات کی مسلسل سماعت یقینی بنانا اس عمل کے اہم تقاضے ہیں۔

مصطفیٰ عامر قتل کیس میں اب تک فردِ جرم عائد نہ ہونا، جج کی عدم تعیناتی اور متعدد زیرِ سماعت درخواستیں اس مقدمے کے فوری آغاز میں بڑی رکاوٹیں بنی ہوئی ہیں۔ مقتول کی والدہ کے لیے ہر گزرتا دن انصاف کی امید کو مزید مشکل بنا رہا ہے، جبکہ مقدمے کے فیصلے میں مزید 2 سال کی تاخیر کا خدشہ عدالتی نظام کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتا ہے۔ اب اصل ضرورت یہ ہے کہ قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے مقدمے کا باقاعدہ ٹرائل شروع کیا جائے اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سنانے کے لیے غیر ضروری تاخیر کا راستہ روکا جائے۔

Back to top button