خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کیوں سکڑنے لگا؟

تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے حوالے سے 40 لاکھ افراد کو جمع کرنے کے دعوے اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ سفر کرنے والے کارکنوں کی محدود تعداد کے درمیان نمایاں فرق دکھائی دے رہا ہے۔ پولیس حکام کی رپورٹس کے مطابق قافلے میں تقریباً 1500 گاڑیاں اور 5 سے 6 ہزار افراد سفر کر رہے ہیں، جبکہ مختلف مقامات پر وزیراعلیٰ کے استقبال کے لیے ہزاروں افراد جمع ہونے کے باوجود ان میں سے بڑی تعداد قافلے کے ساتھ آگے روانہ نہیں ہوتی۔ دوسری جانب تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ مختلف اضلاع کے کارکن الگ الگ قافلوں کی صورت میں صوابی پہنچیں گے، جہاں مارچ کی اصل قوت سامنے آئے گی۔ اس صورت حال نے کئی اہم سوالات پیدا کر دیے ہیں: کیا لانگ مارچ کی عوامی حمایت دعوؤں کے مطابق ہے؟ کیا پارٹی کے اندر اختلافات کارکنوں کو متحرک کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہیں، یا قیادت نے اپنی حکمت عملی کے تحت بڑے اجتماع کے لیے کارکنوں کو صوابی میں جمع کرنے کا فیصلہ کیا ہے؟
پولیس کے ایک انٹیلی جنس افسر کے مطابق خیبر پختونخوا، جہاں تحریک انصاف کو مضبوط سیاسی حمایت حاصل ہے، وہاں بھی مارچ کے قافلے میں تقریباً 1500 گاڑیاں اور 5 سے 6 ہزار افراد سفر کر رہے تھے۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مبینہ ڈائری رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ لکی مروت سے روانگی کے بعد کرک، کوہاٹ، پشاور اور ضلع خیبر کی جانب پیش قدمی کے دوران قافلے میں شامل کارکنوں کی تعداد مسلسل کم ہوتی رہی۔ پشاور میں تعینات ایک اعلیٰ پولیس افسر کے مطابق حکام قافلے کی نقل و حرکت اور شرکا کی تعداد پر نظر رکھتے ہوئے اعلیٰ حکام کو رپورٹس بھیج رہے ہیں۔ تاہم یہ اعداد و شمار حکام سے منسوب ہیں اور انہیں تحریک انصاف کے دعووں کے مقابلے میں ایک رپورٹ شدہ تخمینہ سمجھنا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق جب سہیل آفریدی اتوار کو لکی مروت پہنچے تو گنڈی چوک پر کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ پولیس حکام نے اس اجتماع میں شرکا کی تعداد 8 سے 15 ہزار کے درمیان بتائی، جن میں ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور دیگر علاقوں سے آنے والے افراد شامل تھے۔ کوئٹہ سے آئے کارکنوں کی موجودگی کا بھی ذکر کیا گیا۔ لیکن جب قافلہ لکی مروت سے کرک کی جانب روانہ ہوا تو استقبال کے لیے جمع ہونے والے بہت سے لوگ واپس چلے گئے۔ پولیس حکام کے مطابق کرک پہنچنے پر ہزاروں کا اجتماع سیکڑوں تک محدود ہو گیا اور رات کے وقت کیمپ میں تقریباً 200 سے 300 کارکن باقی رہ گئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مختلف علاقوں میں وزیراعلیٰ کے استقبال کے لیے لوگ جمع ہوتے ہیں، لیکن ان میں سے زیادہ تر قافلے کے ساتھ سفر نہیں کرتے۔ ان کے مطابق پشاور میں رات کے وقت کیمپ کی صورت حال بھی ایسی تھی کہ مارچ کے شرکا کے مقابلے میں سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کی تعداد زیادہ دکھائی دے رہی تھی۔ یہ صورت حال لانگ مارچ کے حجم کے تعین میں ایک بنیادی فرق واضح کرتی ہے: کسی رہنما کے استقبال کے لیے جمع ہونے والے افراد کی تعداد اور اس کے ساتھ مسلسل سفر کرنے والے کارکنوں کی تعداد ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اسی لیے مارچ کی حقیقی وسعت کا اندازہ صرف استقبالی اجتماعات سے نہیں بلکہ مختلف مراحل میں شریک رہنے والوں کی تعداد سے بھی لگایا جاتا ہے۔
تحریک انصاف کے ایک مرکزی رہنما نے بھی اس فرق کو تسلیم کیا کہ استقبال کے لیے جمع ہونے والوں اور قافلے کے ساتھ سفر کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں تفاوت ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی اصل حکمت عملی صوابی میں بڑے اجتماع کے انعقاد پر مرکوز ہے۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے صوابی پہنچیں گے، جہاں اراکین اسمبلی کی قیادت میں مختلف قافلے جمع ہوں گے اور اس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل سامنے لایا جائے گا۔ پارٹی رہنما نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ کا مالاکنڈ جانے کا منصوبہ ہے تاکہ وہاں کے کارکنوں کو متحرک کرکے زیادہ تعداد میں مارچ میں شامل کیا جا سکے۔
تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا کہ مختلف ڈویژنوں کے قافلے الگ الگ اوقات میں صوابی پہنچیں گے۔ ان کے مطابق پشاور ڈویژن کا قافلہ 11 اکتوبر کو صوابی پہنچنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جبکہ ہزارہ اور مالاکنڈ کے قافلے بھی اپنے اپنے شیڈول کے مطابق شامل ہوں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب تمام قافلے یکجا ہوں گے تو شرکا کی تعداد لاکھوں میں ہو سکتی ہے۔ اس مؤقف کے مطابق موجودہ قافلے میں کم تعداد کو مارچ کی مجموعی حمایت کا حتمی پیمانہ نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ پارٹی کی توجہ ایک بڑے اجتماع کے لیے مختلف علاقوں کے کارکنوں کو ایک مقام پر جمع کرنے پر ہے۔
اس کے باوجود تحریک انصاف کے اندر لانگ مارچ کی حکمت عملی پر اختلافات کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ رپورٹ میں پارٹی کے باخبر حلقوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بعض پرانے رہنما مذاکرات کے ذریعے سیاسی تعطل ختم کرنے اور حالات کو تصادم سے بچانے کے حامی ہیں، جبکہ سہیل آفریدی کے قریب سمجھے جانے والے حلقے اسلام آباد تک پیش قدمی پر زور دے رہے ہیں۔ ان اختلافات کے بارے میں پارٹی کی جانب سے تردید بھی کی جا رہی ہے۔ تاہم اگر قیادت کے مختلف دھڑوں میں مارچ کے مقصد، طریقۂ کار اور اگلے مرحلے پر اتفاق نہیں تو اس کا اثر کارکنوں کو متحرک کرنے اور ملک گیر سطح پر مشترکہ حکمت عملی بنانے پر پڑ سکتا ہے۔
پارٹی کے اندر محتاط حلقوں کو خدشہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب براہِ راست پیش قدمی کے دوران تصادم کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے، جس سے تحریک انصاف کو سیاسی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اس کے برعکس مارچ کے حامیوں کا خیال ہے کہ بڑے اجتماع اور مسلسل احتجاج کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبے کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ ان دونوں نقطہ ہائے نظر کے درمیان اختلاف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ لانگ مارچ محض سڑکوں پر پیش قدمی کا معاملہ نہیں بلکہ پارٹی کی آئندہ سیاسی حکمت عملی کا بھی امتحان ہے۔
تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات اکرم کٹھانہ نے مارچ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ لکی مروت سے ضلع خیبر تک کارکنوں نے سہیل آفریدی کا بھرپور استقبال کیا اور بڑی تعداد میں باہر نکلے۔ ان کے مطابق مخالفین اس عوامی ردعمل سے پریشان ہیں اور قافلہ جب صوابی پہنچے گا تو وہاں بڑی تعداد میں لوگ موجود ہوں گے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ لانگ مارچ کامیابی سے جاری ہے اور اس کی منزل اسلام آباد ہے۔ یوں ایک طرف سرکاری ذرائع قافلے کے ساتھ سفر کرنے والے افراد کی تعداد محدود بتا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف استقبال اور آئندہ اجتماعات کو اپنی عوامی حمایت کا ثبوت قرار دے رہی ہے۔
اصل صورت حال کا تعین آنے والے دنوں میں اس وقت زیادہ واضح ہوگا جب مختلف ڈویژنوں کے قافلے صوابی پہنچیں گے۔ اگر وہاں بڑی تعداد میں کارکن جمع ہوتے ہیں تو تحریک انصاف اپنے اس مؤقف کو تقویت دے سکے گی کہ موجودہ کم تعداد ایک عارضی مرحلہ ہے۔ لیکن اگر متوقع اجتماعات میں بھی نمایاں کمی رہتی ہے تو 40 لاکھ افراد جمع کرنے کے دعوے اور مارچ کی عملی قوت کے درمیان فرق مزید نمایاں ہو سکتا ہے۔ اس لیے فی الحال کسی ایک دعوے کو حتمی نتیجہ قرار دینے کے بجائے شرکا کی تعداد، قافلے کے تسلسل اور اگلے مرحلے میں کارکنوں کی شرکت کو دیکھنا ضروری ہے۔
بالآخر سہیل آفریدی کے لانگ مارچ کی کامیابی کا انحصار صرف اس بات پر نہیں ہوگا کہ کتنے افراد مختلف مقامات پر ان کا استقبال کرتے ہیں، بلکہ اس پر بھی ہوگا کہ کتنے کارکن مسلسل سفر کرتے ہیں، مختلف صوبوں اور ڈویژنوں سے کتنے قافلے شامل ہوتے ہیں اور پارٹی اپنی قیادت کو ایک مشترکہ حکمت عملی پر کس حد تک متحد رکھتی ہے۔ تحریک انصاف کے سامنے اس وقت دو بڑے چیلنج ہیں: اپنے کارکنوں کو عملی طور پر متحرک کرنا اور اندرونی اختلافات کے باوجود اسلام آباد تک پیش قدمی کے لیے واضح لائحۂ عمل برقرار رکھنا۔ صوابی کا مجوزہ اجتماع ان دونوں پہلوؤں کے حوالے سے مارچ کی سمت متعین کرنے میں اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
