پاکستان اور ترکی سے یاری کے بعد سعودی عرب اور امریکہ تعلقات کا مستقبل کیا؟

سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان کئی دہائیوں سے قائم دفاعی شراکت داری ایک نئے تزویراتی امتحان سے گزر رہی ہے۔ یمن میں حوثی حملوں، امریکی فوجی مداخلت کی حدود اور سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے پر عملی پیش رفت نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے: کیا ریاض اب اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار کم کرکے ایک نیا دفاعی نظام تشکیل دے رہا ہے؟ دستیاب معلومات سے اشارہ ملتا ہے کہ سعودی عرب اپنی دفاعی شراکت داریوں کو وسعت دینا چاہتا ہے، تاہم اسے امریکہ سے مکمل دوری یا امریکی دفاعی نظام کا فوری متبادل قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
5 اکتوبر 2026 کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت اجتماعی دفاعی وعدوں پر فوری عمل درآمد کے لیے اقدامات کا اعلان کیا۔ اس میں مشترکہ فوجی صلاحیتوں اور دستوں کی فراہمی اور ضرورت پڑنے پر سعودی عرب میں ان کی تیز رفتار تعیناتی کی تیاری شامل ہے۔ اس سے قبل اگست میں مکہ مکرمہ میں قائم کیے گئے اس دفاعی انتظام کے تحت تینوں ممالک نے اس اصول پر اتفاق کیا تھا کہ کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام ارکان کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اتحاد کے پہلے سیکریٹری جنرل کے طور پر پاکستان کے ریٹائرڈ جنرل نعمان محمود کی 3 سال کے لیے تقرری بھی اسے ادارہ جاتی شکل دینے کی کوشش قرار دی جا رہی ہے۔
اس پیش رفت کا پس منظر یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔ 2022 میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد نسبتاً سکون رہا، لیکن حالیہ عرصے میں سعودی حمایت یافتہ یمنی افواج اور حوثی تحریک کے درمیان لڑائی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔ حوثیوں کے سعودی عرب پر میزائل حملوں اور باب المندب کے قریب بحری جہاز رانی کو لاحق خطرات نے ریاض کے لیے دفاعی چیلنج بڑھا دیا ہے۔ باب المندب بحیرہ احمر کا اہم بحری راستہ ہے، جس کے ذریعے عالمی تجارت کا بڑا حصہ نہرِ سویز کی طرف آتا جاتا ہے۔ اس لیے یمن کی کشیدگی صرف علاقائی سلامتی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔
سعودی عرب اور امریکہ کے دفاعی تعلقات تاریخی طور پر توانائی اور سلامتی کے مفادات کے گرد استوار رہے ہیں۔ سعودی عرب عالمی توانائی منڈیوں میں اہم کردار ادا کرتا رہا، جبکہ امریکہ نے مملکت کو فوجی، انٹیلی جنس اور دفاعی معاونت فراہم کی۔ تاہم ماضی کے بعض واقعات نے سعودی قیادت کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ امریکی شراکت داری کا مطلب ہر صورت میں براہِ راست فوجی مداخلت کی ضمانت نہیں۔ ستمبر 2019 میں سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد واشنگٹن کی جانب سے ایران کے خلاف براہِ راست کارروائی نہ کرنا اس بحث کی ایک نمایاں مثال رہا۔ ان حملوں کا الزام امریکہ اور سعودی عرب نے ایران پر عائد کیا تھا، جس کی تہران نے تردید کی تھی۔
حالیہ کشیدگی میں بھی امریکی کردار کی حدود پر بحث جاری ہے۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کی سعودی درخواستیں قبول نہیں کیں، اگرچہ امریکہ کی جانب سے انٹیلی جنس اور آپریشنل معلومات کی معاونت جاری رہی۔ مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر مچل پلیٹنک کے نزدیک اس صورت حال نے سعودی عرب اور امریکہ کے دفاعی تعلقات کو نئے امتحان سے دوچار کیا ہے۔ اس کے برعکس سابق امریکی مشیر آرون ڈیوڈ ملر کے مطابق واشنگٹن ایران کے ساتھ وسیع تر تصادم اور یمن میں ایک نئے فوجی محاذ سے بچنا چاہتا تھا۔ ان کے مطابق حوثیوں کے خلاف 2025 کے امریکی آپریشن میں طویل کارروائیوں کے باوجود فیصلہ کن نتائج حاصل نہ ہونے کا تجربہ بھی اس احتیاط کی ایک وجہ تھا۔
دوسری جانب بعض ماہرین کا مؤقف ہے کہ امریکی فوجی مداخلت سے گریز کو سعودی عرب سے مکمل دستبرداری نہیں سمجھنا چاہیے۔ عمرو حمزاوی کے مطابق امریکہ نے براہِ راست حملوں کے بجائے انٹیلی جنس تعاون کا راستہ اختیار کیا، جو اس کے فوجی کردار کی حدود کو ظاہر کرتا ہے، نہ کہ لازماً سعودی عرب سے تعلقات میں بنیادی تبدیلی کو۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی ستمبر میں دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات کو مضبوط قرار دیا تھا۔ سعودی اور امریکی وزرائے دفاع کے درمیان رابطے بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون جاری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کو امریکہ کا مکمل متبادل سمجھنے کے بجائے سعودی عرب کی وسیع تر دفاعی حکمت عملی کے ایک حصے کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کی مشترکہ صلاحیتیں اس اتحاد کو اہم بناتی ہیں۔ سعودی عرب توانائی اور مالی وسائل کے اعتبار سے اہم ملک ہے، پاکستان ایک جوہری طاقت اور تجربہ کار فوج رکھتا ہے، جبکہ ترکی نیٹو کا رکن اور ایک اہم علاقائی عسکری قوت ہے۔ اس کے باوجود تینوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ یا یمن میں وسیع فوجی مداخلت کے لیے تیار ہیں۔ معاہدے کی اصل افادیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ مشترکہ دفاعی وعدوں کو کس طرح عملی شکل دی جاتی ہے، کمانڈ اور رابطے کا نظام کیا ہوگا اور کسی حملے کی صورت میں فیصلہ سازی کیسے کی جائے گی۔
پاکستان کے لیے بھی اس معاہدے کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ تعلقات، دفاعی تعاون اور خطے میں پاکستان کی جغرافیائی و تزویراتی حیثیت اسے اس اتحاد کا اہم رکن بناتی ہے۔ تاہم اسلام آباد کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اپنے دفاعی وعدوں اور علاقائی امن کے تقاضوں کے درمیان توازن قائم رکھے۔ سعودی عرب کا دفاعی تعاون مضبوط کرنا ایک بات ہے، جبکہ کسی علاقائی تنازع میں براہِ راست شامل ہونا دوسری۔ اس لیے معاہدے کے عملی دائرۂ کار اور اس کے تحت ممکنہ ذمہ داریوں کی وضاحت پاکستان سمیت تمام فریقوں کے لیے اہم ہوگی۔
سعودی عرب کی دفاعی حکمت عملی کا ایک اور پہلو اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور امریکہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے وسیع تر علاقائی انتظامات ہیں۔ واشنگٹن طویل عرصے سے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کرتا رہا ہے، جبکہ سعودی عرب نے فلسطینی مسئلے پر پیش رفت کو تعلقات کی بحالی کے لیے اہم شرط قرار دیا ہے۔ بعض ماہرین کے نزدیک مستقبل میں سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان دفاعی یا انٹیلی جنس تعاون کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن اس حوالے سے سامنے آنے والی بعض خفیہ ملاقاتوں کی اطلاعات کی متعلقہ فریقوں نے تصدیق نہیں کی یا ان کی تردید کی ہے۔ لہٰذا کسی ممکنہ نئی شراکت داری کو فی الحال طے شدہ پالیسی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
مجموعی طور پر مکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کی جانب سے اپنے دفاعی اختیارات وسیع کرنے اور کسی ایک طاقت پر مکمل انحصار سے بچنے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔ ریاض کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ امریکہ کو مکمل طور پر چھوڑ دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اگر کسی بحران میں واشنگٹن براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کرے تو سعودی عرب کے پاس دوسرے قابلِ اعتماد راستے موجود ہوں۔ پاکستان اور ترکی کے ساتھ تعاون اس حکمت عملی میں اضافی حفاظتی تہہ فراہم کر سکتا ہے، لیکن اسے امریکی دفاعی نظام کا مکمل متبادل بننے کے لیے وقت، مشترکہ منصوبہ بندی، عملی صلاحیتوں اور سیاسی اتفاق کی ضرورت ہوگی۔
آنے والے دنوں میں اس اتحاد کی اصل اہمیت اس کے اعلانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے سامنے آئے گی۔ اگر تینوں ممالک مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی، فوجی رابطوں اور سعودی سرزمین و اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے مؤثر نظام قائم کرتے ہیں تو یہ علاقائی سلامتی کے ڈھانچے میں اہم تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات کا مستقبل بدستور باہمی مفادات، علاقائی کشیدگی اور واشنگٹن کی بدلتی ترجیحات سے جڑا رہے گا۔ فی الحال زیادہ درست نتیجہ یہی ہے کہ سعودی عرب امریکہ سے مکمل علیحدگی کے بجائے اپنی دفاعی حکمت عملی میں تنوع پیدا کر رہا ہے۔
