عوام بیزار، پی ٹی آئی صرف خیبرپختونخوا تک محدود کیوں ہو گئی؟

عمران خان کی رہائی کے لیے شروع کیا جانے والا تحریک انصاف کا لانگ مارچ تاحال خیبر پختونخوا سے باہر خاطر خواہ عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب دکھائی نہیں دیتا۔ پنجاب اور سندھ سے پارٹی قیادت اور کارکنوں کی محدود شرکت، اندرونی اختلافات، تنظیمی رابطوں کی کمزوری اور وفاقی حکومت کے سخت اقدامات نے مارچ کی رفتار اور سیاسی اثرات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کے اعلانات جاری ہیں، لیکن زمینی صورت حال یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایک صوبے میں حکومت اور کارکنوں کی سرگرمی کو ملک گیر تحریک میں تبدیل کرنا تحریک انصاف کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ مارچ واقعی عمران خان کی رہائی کے لیے قومی سطح پر دباؤ پیدا کر سکے گا یا اندرونی اختلافات اور محدود عوامی شرکت اس کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے رہیں گے؟
تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے دور میں اسلام آباد کی جانب متعدد احتجاجی سرگرمیاں اور لانگ مارچ کیے گئے، لیکن ان سرگرمیوں کے دوران قیادت اور کارکنوں کے درمیان رابطوں کے مسائل سامنے آئے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض مواقع پر علی امین گنڈاپور کی کارکنوں سے علیحدگی اور ان کی غیر موجودگی نے پارٹی کے اندر شکوک و شبہات پیدا کیے۔ ان پر وفاقی حکومت اور بعض اداروں سے پس پردہ مفاہمت کے الزامات بھی لگائے گئے، تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ رپورٹ میں موجود نہیں۔ بعد ازاں انہیں وزارتِ اعلیٰ سے ہٹا دیا گیا۔ پارٹی کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ان واقعات کے بعد موجودہ قیادت اسلام آباد کی جانب براہِ راست مارچ کے معاملے میں زیادہ محتاط ہو گئی ہے۔
سابق وزیراعلیٰ محمود خان کے مطابق نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے وقت عمران خان کو 3 نام بھیجے گئے تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان میں 2 ایسے نام شامل تھے جنہیں پارٹی کے اندر زیادہ حمایت حاصل تھی، لیکن عمران خان ان شخصیات کو ذاتی طور پر جانتے تھے، جبکہ سہیل آفریدی ان کے لیے نسبتاً غیر معروف تھے۔ محمود خان کے مطابق سہیل آفریدی کا نام مراد سعید کی سفارش پر بشریٰ بی بی کی بہن کے ذریعے عمران خان تک پہنچایا گیا۔ یہ بیان صوبائی قیادت کے انتخاب کے پس منظر سے متعلق ایک دعویٰ ہے، جو پارٹی کے اندرونی معاملات اور فیصلوں کے طریقۂ کار پر بحث کو جنم دیتا ہے۔
سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد ان سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے بھرپور سیاسی مزاحمت کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 9 ماہ تک اسلام آباد کی جانب کسی بڑے مارچ کا اعلان نہ ہونے پر پارٹی کے بعض حلقوں نے ان کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے۔ اسی دباؤ کے ماحول میں انہوں نے 27 ستمبر کو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کیا، لیکن اس اعلان کے بعد بھی پارٹی کے اندر یہ سوال موجود رہا کہ مارچ شروع کرنے میں تاخیر کیوں ہوئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ احتجاج کا معاملہ صرف وفاقی حکومت کے ساتھ کشمکش تک محدود نہیں بلکہ پارٹی کی اپنی قیادت بھی کارکنوں اور حامیوں کو مطمئن رکھنے کے دباؤ میں ہے۔
مارچ کی تاریخ قریب آنے پر وفاقی حکومت کی جانب سے سخت انتظامی اور سکیورٹی اقدامات کیے گئے۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے درمیان راستوں کی بندش، پشاور میں صوبائی اسمبلی کے سامنے کنٹینرز کی تنصیب، کابینہ ارکان کے خلاف کارروائیوں اور گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکانات پر بحث نے صورت حال کو مزید حساس بنا دیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے پشاور دورے اور گورنر کی جانب سے سکیورٹی اجلاس کے انعقاد کو بھی اسی تناظر میں دیکھا گیا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق ان اقدامات نے سہیل آفریدی اور صوبائی حکومت کے لیے اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کے ممکنہ نتائج کے حوالے سے خدشات بڑھائے۔ تاہم وفاقی حکومت کے اقدامات کے باوجود مارچ کی محدود شرکت کی تمام وجوہات کو صرف حکومتی رکاوٹوں سے منسوب کرنا بھی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔
لانگ مارچ کو ملک گیر تحریک بنانے میں سب سے بڑی مشکل پنجاب اور سندھ سے مطلوبہ شرکت کا نہ ہونا بتائی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سہیل آفریدی نے ان صوبوں میں کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوششیں کیں، لیکن وہاں سے خاطر خواہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ پارٹی قیادت اور کارکنوں کی سرگرمیاں زیادہ تر سوشل میڈیا تک محدود رہیں، جبکہ خیبر پختونخوا کے باہر زمینی سطح پر منظم شرکت کم دکھائی دی۔ اس صورت حال نے تحریک انصاف کے لیے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ آیا اس کی صوبائی تنظیمیں ایک مشترکہ حکمت عملی پر متفق ہیں اور کیا وہ اپنے کارکنوں کو ایک ہی وقت میں متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے اندر بھی اختلافات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایک گروپ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے حامی ارکان پر مشتمل ہے، جبکہ دوسرے گروپ میں وہ ارکان شامل بتائے جاتے ہیں جنہیں پہلے گنڈاپور اور بعد میں سہیل آفریدی نے کابینہ میں جگہ نہیں دی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دونوں گروپ لانگ مارچ میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہے اور مستقبل کی قیادت کے حوالے سے بھی اپنی حکمت عملی رکھتے ہیں۔ اگر یہ اختلافات برقرار رہتے ہیں تو وزیراعلیٰ کے لیے صوبائی حکومت، پارٹی تنظیم اور کارکنوں کو ایک مؤثر احتجاجی حکمت عملی کے تحت متحد رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
4 اکتوبر کو لانگ مارچ کے آغاز کے وقت پنجاب سے بڑی تعداد میں کارکنوں کی شرکت متوقع تھی، لیکن رپورٹ کے مطابق عملی طور پر میانوالی سے ایک گاڑی اور فیصل آباد سے چند افراد ہی قافلے میں شامل ہوئے۔ قافلہ لکی مروت سے کرک اور پھر لاچی پہنچا تو کرک کے کارکن واپس چلے گئے۔ پشاور کے علاقے متنی تک پہنچتے پہنچتے دوسرے اضلاع سے آنے والے کارکنوں کی تعداد بھی کم ہوتی گئی، جبکہ ضلع خیبر کی جانب روانگی کے وقت کوہاٹ سے آنے والے کارکن بھی واپس چلے گئے۔ یوں قافلے کی نقل و حرکت کے ساتھ اس کی تعداد میں کمی کا معاملہ بھی سامنے آیا، جس نے مارچ کی وسعت اور عوامی حمایت کے دعوؤں پر سوالات کو تقویت دی۔
فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے کارکن عمار علی کے مطابق پنجاب میں سیاسی سرگرمیوں کے دوران گرفتاریوں کا خدشہ رہتا ہے، اسی لیے انہوں نے اپنے صوبے میں احتجاج کرنے کے بجائے لکی مروت پہنچ کر مارچ میں شرکت کا فیصلہ کیا۔ ان کے بقول اس وقت پنجاب سے تقریباً 20 سے 22 افراد قافلے کا حصہ تھے، جن میں چند دوستوں کے علاوہ میانوالی سے آنے والی ایک گاڑی بھی شامل تھی۔ انہیں توقع تھی کہ اٹک، میانوالی، ڈیرہ غازی خان اور رحیم یار خان سمیت دیگر اضلاع سے زیادہ کارکن شریک ہوں گے، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ یہ بیان کم شرکت کی ایک ممکنہ وجہ، یعنی گرفتاریوں کے خدشے، کو سامنے لاتا ہے؛ تاہم پنجاب بھر میں کارکنوں کی عدم شرکت کی مکمل وجوہات جاننے کے لیے مزید شواہد درکار ہوں گے۔
تحریک انصاف کے لیے اس صورت حال کا سیاسی مطلب اہم ہے۔ خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کی موجودگی مارچ کے انتظامات اور کارکنوں کو متحرک کرنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن قومی سطح پر سیاسی دباؤ پیدا کرنے کے لیے دوسرے صوبوں میں فعال تنظیمی نیٹ ورک اور مؤثر عوامی شرکت بھی ضروری ہے۔ اگر پنجاب اور سندھ میں قیادت کارکنوں کو سڑکوں پر لانے میں کامیاب نہیں ہوتی تو اسلام آباد تک مارچ لے جانے کا اعلان اپنی عملی قوت کے حوالے سے سوالات کا سامنا کرتا رہے گا۔ دوسری طرف گرفتاریوں کے خدشات، راستوں کی بندش اور سکیورٹی اقدامات بھی کارکنوں کی شرکت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، اس لیے صورت حال کو صرف ایک سبب سے سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
بالآخر پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا مستقبل اس بات سے جڑا ہے کہ پارٹی اپنے اندرونی اختلافات کو کس حد تک کم کرتی ہے، صوبائی تنظیموں کے درمیان رابطے کیسے بہتر بناتی ہے اور عمران خان کی رہائی کے مطالبے کو وسیع عوامی حمایت میں تبدیل کرنے کے لیے کیا عملی حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔ محض اعلانات اور سوشل میڈیا مہم ملک گیر تحریک کا متبادل نہیں بن سکتے۔ اگر مارچ کو خیبر پختونخوا سے آگے بڑھانا ہے تو قیادت کو دیگر صوبوں میں کارکنوں کی شرکت، تنظیمی ہم آہنگی اور واضح سیاسی اہداف کے مسائل حل کرنا ہوں گے۔ فی الحال مارچ کا خیبر پختونخوا تک محدود دکھائی دینا تحریک انصاف کے لیے ایک سیاسی اور تنظیمی چیلنج ہے، جبکہ اسلام آباد تک پیش قدمی کا منصوبہ آنے والے دنوں میں اس کی عملی صلاحیت کا امتحان بن سکتا ہے۔
