PTIکا لانگ مارچ، پشاور کے عوام کے لیے آزمائش کیوں بن گیا؟

پشاور میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ نے ایک بار پھر سیاسی احتجاج، شہری زندگی اور صوبائی حکومت کی ترجیحات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ریڈ زون کی بندش، مختلف مقامات پر ناکہ بندیوں، تعلیمی اداروں کی تعطیلی اور موبائل فون سروس میں تعطل نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ملازمت پیشہ افراد کے لیے دفاتر پہنچنا مشکل ہو گیا، طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی اور رابطوں میں رکاوٹوں نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔ ایسے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی احتجاج کی قیمت ہر بار عام شہریوں کو ہی ادا کرنا پڑے گی، اور کیا صوبے کے سنگین مسائل کے مقابلے میں لانگ مارچ کو ترجیح دینا دانش مندانہ حکمت عملی ہے؟

پشاور میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ریڈ زون کو سیل کرنے اور حساس مقامات پر کنٹینرز سمیت دیگر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے اقدامات کیے گئے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں موبائل فون سگنلز کی عارضی بندش سے وائس کالز اور انٹرنیٹ سروس متاثر ہوئی، جبکہ نجی تعلیمی اداروں کی بندش اور راستوں کی ناکہ بندیوں نے معمولاتِ زندگی کو مزید مشکل بنا دیا۔ اس صورت حال میں پولیس افسران اور اہلکار بھی لانگ مارچ کی سکیورٹی ڈیوٹی میں مصروف رہے۔ یوں ایک سیاسی سرگرمی کے انتظامات نے شہر کے تعلیمی، معاشی اور انتظامی معمولات کو متاثر کیا۔

رپورٹ کے مطابق پشاور میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو وہ عوامی پذیرائی نہیں ملی جس کی جماعت کو توقع تھی۔ شہریوں کی جانب سے اس مارچ کی منزل، منصوبہ بندی اور افادیت پر سوالات اٹھائے گئے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب کسی احتجاج کا واضح مقصد اور قابلِ عمل حکمت عملی سامنے نہ ہو تو اس کی سیاسی اہمیت محدود ہو جاتی ہے، جبکہ سڑکوں کی بندش اور شہریوں کی مشکلات اس کی مخالفت میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔ تاہم مارچ کی حقیقی عوامی حمایت کا اندازہ لگانے کے لیے شرکا کی تعداد اور زمینی صورت حال کے قابلِ اعتماد شواہد ضروری ہیں۔

تحریک انصاف کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پشاور کے عوام سے لانگ مارچ کے اگلے مرحلے میں بھرپور شرکت کی اپیل کی تھی۔ ان کے مطابق قافلے نے حیات آباد انڈر پاس سے روانہ ہو کر صوابی پہنچنا تھا، جہاں آئندہ کا لائحہ عمل پیش کیا جانا تھا۔ فراہم کردہ شیڈول میں پشاور سے چارسدہ، پھر مردان اور صوابی کی جانب پیش قدمی اور 12 اکتوبر کو صوبے بھر سے کارکنوں کو متحرک کرنے کا منصوبہ شامل تھا۔ اس حکمت عملی کا مقصد احتجاج کا دائرہ وسیع کرنا دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار صرف قافلے کی نقل و حرکت پر نہیں بلکہ عوامی شرکت، سیاسی پیغام اور واضح اہداف پر بھی ہوگا۔

لانگ مارچ کی عوامی مقبولیت کے حوالے سے بعض حلقوں نے دعویٰ کیا کہ قافلے میں کارکنوں کے مقابلے میں گاڑیوں کی تعداد زیادہ تھی اور سوشل میڈیا پر پرانی ویڈیوز اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کے ذریعے مارچ کو بڑا دکھانے کی کوشش کی گئی۔ یہ الزامات اگر درست ثابت ہوتے ہیں تو سیاسی مہمات میں ڈیجیٹل پروپیگنڈے اور عوامی تاثر سازی کے بڑھتے ہوئے کردار کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم ایسے دعوؤں کی تصدیق کے لیے متعلقہ ویڈیوز، تصاویر اور دیگر شواہد کا آزادانہ جائزہ ضروری ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کو سیاسی تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ مارچ امن، روزگار، تعلیم اور ترقی کے لیے نہیں بلکہ سیاسی ڈرامے کا ایک اور مرحلہ ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر الزام لگایا کہ احتجاج کے ذریعے کارکنوں کو مصروف رکھا جا رہا ہے اور عوام کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹائی جا رہی ہے۔ یہ مؤقف مخالف سیاسی جماعت کی تنقید کی عکاسی کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ صوبائی حکومت احتجاج کے دوران عوامی سہولتوں اور انتظامی ذمہ داریوں کو کس حد تک یقینی بنا رہی ہے۔

خیبر پختونخوا کو درپیش مسائل محض سیاسی بیانات سے حل نہیں ہو سکتے۔ امن و امان، دہشت گردی، روزگار، تعلیم، صحت، ترقیاتی منصوبوں اور صوبائی وسائل کے معاملات ایسے عملی اقدامات کے متقاضی ہیں جن کے نتائج عوام کو براہِ راست نظر آئیں۔ اگر صوبائی حکومت مسلسل احتجاجی سیاست میں مصروف دکھائی دے اور شہریوں کو بنیادی سہولتوں میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے تو حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ اسی طرح وفاقی حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ صوبے کے حقوق، وسائل اور امن و امان سے متعلق معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھے۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کا حق حاصل ہے یا نہیں؛ جمہوری معاشرے میں یہ حق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ احتجاج کس مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے، اس کی حکمت عملی کتنی واضح ہے اور اس دوران عام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیسے یقینی بنایا جا رہا ہے۔ سڑکیں بند ہونے، تعلیمی سرگرمیاں رکنے، کاروبار متاثر ہونے اور رابطوں میں خلل پڑنے سے سب سے زیادہ نقصان ان لوگوں کو ہوتا ہے جن کا سیاسی فیصلوں میں براہِ راست کوئی کردار نہیں ہوتا۔

پشاور کی موجودہ صورت حال تحریک انصاف کے لیے بھی ایک سیاسی امتحان ہے۔ اگر لانگ مارچ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھانے کے بجائے شہریوں کی مشکلات کا سبب بنے تو اس کا سیاسی فائدہ محدود ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب انتظامیہ کو بھی سکیورٹی کے نام پر کیے جانے والے اقدامات میں تناسب، ضرورت اور عوامی سہولت کا خیال رکھنا چاہیے۔ موبائل سروس کی بندش اور راستوں کی بندش جیسے اقدامات کے اثرات واضح ہونے چاہییں اور شہریوں کو بروقت معلومات فراہم کی جانی چاہییں۔

بالآخر خیبر پختونخوا کے عوام کو سیاسی نعروں سے زیادہ امن، روزگار، بہتر تعلیم، مؤثر صحت کی سہولتوں اور ترقی کی ضرورت ہے۔ سیاسی قیادت کی اصل کامیابی بڑے قافلے نکالنے یا مخالفین کو تنقید کا نشانہ بنانے میں نہیں بلکہ عوامی مسائل حل کرنے میں ہے۔ اگر لانگ مارچ کے اختتام پر بھی صوبے کے مسائل وہیں رہتے ہیں اور شہریوں کو صرف بند راستوں، متاثرہ کاروبار اور معطل رابطوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس سیاسی سرگرمی کی افادیت پر سوال اٹھتے رہیں گے۔

Back to top button