پنجاب کی عدالتوں میں ویڈیوز اور تصاویر بنانے پر پابندی کیوں لگی؟

عدالتیں انصاف کی فراہمی، شہری حقوق کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کی علامت ہوتی ہیں، لیکن جب عدالتی احاطے میں پیش آنے والے واقعات کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو کر تماشے، تضحیک یا تنازعات کا ذریعہ بننے لگیں تو عدالتی نظم و ضبط کا سوال اہم ہو جاتا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے پنجاب کی عدالتوں کے احاطوں میں ویڈیوز اور تصاویر بنانے پر عائد پابندی پر دوبارہ سختی سے عمل درآمد کا حکم اسی پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ تاہم اس فیصلے کے ساتھ یہ سوال بھی جڑا ہے کہ عدالتی وقار برقرار رکھنے اور عوام کے معلومات تک رسائی کے حق کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے؟
لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق عدالتی احاطے میں تصاویر اور ویڈیوز بنانے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور ان کی ڈیوائسز ضبط کی جا سکتی ہیں۔ میڈیا کو کوریج کی اجازت صرف اس مقام پر ہوگی جو ہائی کورٹ کے احاطے میں کیمروں کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد عدالتی کارروائیوں کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھنا اور ایسے واقعات کی غیر مجاز ریکارڈنگ روکنا ہے جو متعلقہ افراد کی عزت، نجی زندگی اور عدالتی ماحول کو متاثر کر سکتے ہیں۔
پابندی پر دوبارہ زور دینے کی ایک وجہ حالیہ عرصے میں پیش آنے والے متعدد واقعات کی ویڈیوز کا سوشل میڈیا پر گردش کرنا ہے۔ ایک واقعے میں پولیس افسر کی ضمانت خارج ہونے کے بعد وکلا نے انہیں پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا، جبکہ پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کی عدالت میں پیشی کے موقع پر بھی ویڈیوز بنائی گئیں۔ اسی طرح خاندانی مقدمات میں فریقین کے درمیان جھگڑوں کی ریکارڈنگ بھی سوشل میڈیا پر سامنے آتی رہی ہے۔ ایسے مناظر، خصوصاً جب ان میں مقدمات کے فریقین یا ان کے اہل خانہ شامل ہوں، متعلقہ افراد کی نجی زندگی اور سماجی ساکھ پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر بابر مرتضیٰ خاں نے بھی عدالتی وقار برقرار رکھنے کے لیے پابندی پر عمل درآمد کو ضروری قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق کمرہ عدالت میں موبائل فون کی گھنٹی اور کوریج پر پہلے ہی پابندیاں موجود ہیں، لیکن عدالتی احاطے میں وکلا اور سائلین سے متعلق واقعات کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ بالخصوص خاندانی تنازعات سے متعلق ویڈیوز متاثرہ افراد کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔
تاہم اس معاملے کا دوسرا رخ بھی اہم ہے۔ ڈیجیٹل دور میں موبائل فون عام شہری کے ہاتھ میں موجود ایسا ذریعہ بن چکا ہے جس کے ذریعے وہ کسی واقعے کو فوری طور پر ریکارڈ کرکے دوسروں تک پہنچا سکتا ہے۔ صحافیوں اور ڈیجیٹل حقوق سے وابستہ افراد کے نزدیک عدالتی احاطوں میں مکمل پابندی پر عمل درآمد ایک عملی چیلنج ہوگا، کیونکہ وہاں وکلا، سائلین، عدالتی عملہ، صحافی اور دیگر افراد موجود ہوتے ہیں۔ اگر پابندی کے نفاذ کے لیے واضح ضابطے اور یکساں طریقۂ کار نہ ہو تو اس پر عمل درآمد کے دوران اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔
یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ عدالتی نظم و ضبط اور آزادیٔ صحافت کے درمیان حد کہاں مقرر کی جائے۔ عدالتوں میں ہر شخص کو بلااجازت ریکارڈنگ کی اجازت دینا مناسب نہیں، خصوصاً جب اس سے زیرِ سماعت مقدمات، گواہوں، متاثرہ افراد یا خاندانی تنازعات سے وابستہ شہریوں کی رازداری متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔ دوسری جانب عوامی اہمیت کے واقعات کی رپورٹنگ اور حکام کے احتساب میں صحافت کا کردار بھی اہم ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عام شہریوں کی غیر مجاز ریکارڈنگ اور پیشہ ورانہ صحافتی کوریج کے درمیان واضح فرق رکھا جائے۔
پابندی کے مؤثر نفاذ کے لیے صرف ڈیوائسز ضبط کرنے کی ہدایت کافی نہیں ہوگی۔ یہ واضح ہونا چاہیے کہ کون سے مقامات پر ریکارڈنگ ممنوع ہے، میڈیا کو مخصوص جگہ پر کوریج کی اجازت کیسے ملے گی، خلاف ورزی کی صورت میں کیا طریقۂ کار اختیار کیا جائے گا اور ضبط شدہ ڈیوائسز کے ساتھ کس طرح قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ قواعد کا شفاف اور غیر امتیازی نفاذ اس لیے بھی ضروری ہے کہ کسی شہری یا صحافی کے ساتھ غیر ضروری سختی یا صوابدیدی سلوک کا تاثر پیدا نہ ہو۔
آخرکار، عدالتوں کا احترام صرف کیمروں اور موبائل فونز پر پابندی سے قائم نہیں ہوتا بلکہ منصفانہ کارروائی، قانون کی پاسداری، شہریوں کی عزت اور ادارہ جاتی شفافیت سے مضبوط ہوتا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کا حکم عدالتی ماحول میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کی کوشش ہے، لیکن اس کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ پابندی کو واضح قواعد، منصفانہ نفاذ اور صحافتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کس طرح نافذ کیا جاتا ہے۔ عدالتی وقار اور عوام کے حقِ معلومات کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے ایسا توازن قائم کرنا ضروری ہے جس میں انصاف کی حرمت بھی برقرار رہے اور جواب دہی و ذمہ دارانہ رپورٹنگ کا راستہ بھی بند نہ ہو۔
