پی ٹی آئی میں پھوٹ، گنڈاپور کے ہاتھوں آفریدی کی دھلائی

پاکستان تحریک انصاف میں خیبرپختونخوا کی قیادت کے درمیان اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے منسوب لیک ہونے والے آڈیو پیغامات نے پارٹی کے اندر جاری کشمکش کو نئی شدت دے دی ہے۔ ان پیغامات میں گنڈاپور موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو سخت لہجے میں مخاطب کرتے ہوئے ان کے اقتدار میں آنے کے پس منظر، بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں میں رکاوٹوں اور بشریٰ بی بی سے متعلق معاملات پر سنگین الزامات عائد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پارٹی اور عمران خان کی خاطر خاموش ہیں، لیکن اس خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، کیونکہ ان کے پاس ایسے معاملات کا ریکارڈ موجود ہے جسے منظرعام پر لانے کی صورت میں کئی افراد کو جواب دینا مشکل ہوجائے گا۔

صوبائی کابینہ کے واٹس ایپ گروپ میں شیئر کیے گئے پہلے آڈیو پیغام میں علی امین گنڈاپور نے سہیل آفریدی کو اپنی گفتگو میں احتیاط کرنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے اندر اتحاد برقرار رکھنے کے لیے وہ اب تک خاموش ہیں، تاہم ان کے خلاف الزامات اور استعمال کیے جانے والے الفاظ ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ یہ حقائق سامنے لاسکتے ہیں کہ سہیل آفریدی کس طرح اور کن شرائط کے تحت اقتدار میں آئے اور انہیں اس منصب تک پہنچانے میں کن افراد کا کردار تھا۔ انہوں نے سہیل آفریدی کے لیے سخت اور طنزیہ الفاظ بھی استعمال کیے اور 26 نومبر 2025 کے ایک مبینہ اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اس وقت طے شدہ بات کے مطابق اعلان نہیں کیا گیا۔

اس تنازع کا اہم ترین پہلو عمران خان سے ملاقاتوں کا معاملہ ہے۔ علی امین گنڈاپور نے الزام لگایا کہ عمران خان سے ملاقاتیں بند کروانے میں سہیل آفریدی کا کردار تھا۔ انہوں نے بشریٰ بی بی کی جانب سے سہیل آفریدی کو اقتدار میں لانے والے شخص کے لیے مبینہ طور پر بھیجے گئے پیغامات اور اس حوالے سے ہونے والی گفتگو کا ریکارڈ موجود ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔ مزید یہ کہ انہوں نے بشریٰ بی بی کی بیٹی کی ملاقاتیں بند کروانے کا الزام بھی سہیل آفریدی پر عائد کیا۔ تاہم لیک ہونے والے آڈیو پیغامات میں ان دعوؤں کے حق میں کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، اس لیے انہیں علی امین گنڈاپور کے الزامات اور دعوؤں ہی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

بعدازاں سامنے آنے والے دوسرے آڈیو پیغام میں گنڈاپور نے بتایا کہ انہوں نے اس تنازع پر ایک سخت تحریری پیغام تیار کیا تھا، لیکن اس خدشے کے باعث اسے حذف کردیا کہ وہ میڈیا میں لیک ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر سے پیغامات ذرائع ابلاغ تک پہنچ رہے ہیں اور ایسی غیر ذمہ دارانہ گفتگو سے اختلافات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان اور پارٹی کے موجودہ حالات کی وجہ سے وہ بہت سی باتیں برداشت کررہے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہمیشہ خاموش رہیں گے۔ انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ان کے پاس مختلف معاملات کا ریکارڈ موجود ہے اور اگر وہ سامنے آگیا تو متعلقہ افراد کے لیے اپنی پوزیشن کا دفاع مشکل ہوسکتا ہے۔

علی امین گنڈاپور نے سہیل آفریدی کو مشورہ دیا کہ وہ دوسروں پر تنقید کرنے کے بجائے اپنی کارکردگی پر توجہ دیں۔ انہوں نے ان پر احسان فراموشی اور اپنی حدود سے تجاوز کرنے کا الزام بھی لگایا، جبکہ بشریٰ بی بی کو چھوڑ کر چلے جانے کے حوالے سے بھی سخت تنقید کی۔ ان کا مؤقف ہے کہ وہ پارٹی کے وسیع تر مفاد میں خاموش ہیں، لیکن ان کے خلاف الزامات کا سلسلہ جاری رہا تو وہ ہر معاملے پر جواب دیں گے اور اپنے پاس موجود ریکارڈ سامنے لے آئیں گے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات منظرعام پر آئے ہوں۔ اس سے قبل بھی پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں ان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوچکا ہے۔ دونوں کے سیاسی طرزعمل میں اختلافات کی نوعیت پر بحث اس وقت مزید اہم ہوگئی ہے جب سہیل آفریدی حکومت مخالف احتجاج اور اسلام آباد مارچ کے حوالے سے جارحانہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک خطاب میں سابقہ مارچوں کو طے شدہ کھیل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس مرتبہ ان کی جماعت کامیابی حاصل کرنے کے لیے میدان میں ہے اور وہ کارکنوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

اس صورت حال میں بنیادی سوال یہ ہے کہ عمران خان سے ملاقاتوں، قیادت کے انتخاب اور احتجاجی حکمت عملی جیسے اہم معاملات پر اختلافات پارٹی کے اندر کس حد تک بڑھ چکے ہیں۔ اگرچہ علی امین گنڈاپور کے آڈیو پیغامات میں سخت الزامات اور ریکارڈ سامنے لانے کی دھمکیاں دی گئی ہیں، لیکن ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ شواہد کے بغیر کسی نتیجے پر پہنچنا درست نہیں ہوگا۔ دوسری جانب، قیادت کے دو اہم عہدیداروں کے درمیان اس نوعیت کی تلخ کلامی پارٹی کے اندر رابطوں، اعتماد اور فیصلہ سازی کے طریقۂ کار سے متعلق سوالات ضرور پیدا کرتی ہے۔

پی ٹی آئی کے لیے یہ تنازع محض دو رہنماؤں کی ذاتی تلخ کلامی تک محدود نہیں، کیونکہ اس میں بانی جماعت سے ملاقاتوں، صوبائی حکومت کی قیادت اور احتجاجی سیاست کے فیصلوں جیسے حساس معاملات شامل ہیں۔ اب توجہ اس بات پر رہے گی کہ آیا پارٹی قیادت اس اختلاف کو اندرونی سطح پر حل کرتی ہے یا مزید پیغامات، الزامات اور جوابی بیانات کے ذریعے یہ تنازع وسیع ہوتا ہے۔ فی الحال، آڈیو پیغامات نے اختلافات کو نمایاں ضرور کردیا ہے، لیکن ان میں کیے گئے الزامات کی حقیقت جاننے کے لیے مزید قابلِ تصدیق شواہد اور متعلقہ فریقوں کا مؤقف اہم ہوگا۔

Back to top button