کیا شہباز کی اتحادی حکومت مدت پوری کرے گی ؟

 

 

 

 

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی مرکز میں قائم اتحادی حکومت کے مابین باہمی اختلافات ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور اب اسلام آباد میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور کتنا عرصہ مسلم لیگ کی حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی؟ اگرچہ اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تقرری کے معاملے پر پیدا ہونے والا حالیہ تعطل فی الحال ختم ہو گیا ہے، تاہم آزاد کشمیر کے انتخابات، ججز کی تقرری اور نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام سمیت کئی اہم معاملات پر دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں۔

 

آزاد کشمیر میں حالیہ انتخابات کے انعقاد اور انتخابی عمل پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان پیدا ہونے والی تلخی ابھی پوری طرح ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تقرری کا معاملہ دونوں جماعتوں کے درمیان ایک نئے تنازع کا باعث بن گیا۔ جو معاملہ کئی ہفتوں تک تعطل کا شکار رہا، وہ بالآخر منگل کے روز صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے ججز کی تقرریوں کی منظوری کے بعد وقتی طور پر حل ہو گیا، تاہم اس پیش رفت کے باوجود اتحادی حکومت کے اندر پائی جانے والی بے چینی ختم نہیں ہوئی۔

 

اس تنازع کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پیر کی شب پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صدر آصف علی زرداری کی قانونی ٹیم کے ارکان، ان کے قانونی مشیر عرفان قادر، سندھ کے وزیر قانون ضیاء الحسن لنجار اور کراچی کے میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب شریک ہوئے جبکہ حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کا واحد ایجنڈا ہائی کورٹس کے ججز کی تقرری کے نوٹیفکیشن میں تاخیر کا معاملہ تھا۔ اس سے قبل صدر مملکت کی قانونی ٹیم کی جانب سے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے طریقہ کار پر اعتراضات سامنے آئے تھے۔ پیپلز پارٹی کے تقریباً تمام نامزد امیدواروں کو مسترد کیے جانے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا جبکہ بعض تجویز کردہ امیدواروں کے ماضی میں مبینہ طور پر فوجداری مقدمات کا سامنا کرنے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ حکومت نے اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 48(1) کے تحت صدارتی منظوری کے بغیر معاملہ آگے بڑھانے کے امکانات پر بھی غور کیا، تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے معاملہ سماعت کے لیے منظور کیے جانے اور متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری ہونے کے بعد یہ راستہ اختیار کرنا مشکل ہو گیا۔

 

ذرائع کے مطابق چونکہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت آ چکا تھا، اس لیے حکومت اور پیپلز پارٹی دونوں نے عدالتی فیصلے کا انتظار کرنے کے بجائے باہمی مشاورت سے مسئلہ حل کرنے کو زیادہ مناسب سمجھا۔ چنانچہ پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے نتیجے میں ججز کی تقرری کا تعطل ختم کرنے کی راہ ہموار ہوئی اور بعد ازاں صدر آصف علی زرداری نے جوڈیشل کمیشن کی جانب سے منظور کیے گئے ناموں کی تقرریوں کی منظوری دے دی۔ پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما کے مطابق صدر کی جانب سے تقرریوں کی منظوری کا بنیادی مقصد کسی ممکنہ عدالتی فیصلے سے قبل معاملے کو سیاسی طور پر حل کرنا تھا۔ تاہم پارٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹس میں اب بھی تقریباً دو درجن ججز کی نشستیں خالی ہیں، اس لیے آئندہ مرحلے میں پیپلز پارٹی کے بعض نامزد امیدواروں کو بھی شامل کیے جانے کا امکان موجود ہے۔

 

پیپلز پارٹی کو حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ آئندہ اہم فیصلے پارٹی سے مشاورت کے بعد کیے جائیں گے، تاہم پارٹی کے اندر یہ سوال بھی موجود ہے کہ ماضی میں ایسی یقین دہانیاں کتنی بار پوری ہوئیں۔

پیپلز پارٹی کے اندر اس وقت سب سے اہم سوال اتحادی حکومت کے مستقبل کا ہے۔ پارٹی کے ایک رہنما کے مطابق معمول کی سیاسی چپقلش اپنی جگہ، لیکن دونوں جماعتوں کا اتحاد برقرار رہنا چاہیے۔ تاہم پیپلز پارٹی واضح کر چکی ہے کہ وہ کسی بھی غیر آئینی اقدام کا دفاع نہیں کرے گی، خواہ معاملہ نئے صوبوں کے قیام کا ہو یا کوئی اور آئینی و سیاسی تنازع۔ اس موقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ رہتے ہوئے بھی ہر معاملے پر مسلم لیگ نون کی غیر مشروط حمایت کے لیے تیار نہیں۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے ایک رہنما کے مطابق اگرچہ صدر مملکت کے دفتر اور مسلم لیگ نون کے درمیان ججز کے معاملے پر برف پگھل چکی ہے، تاہم پارٹی کی آئندہ حکمت عملی کے بارے میں قیادت کی جانب سے واضح ہدایات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق صدر آصف علی زرداری مفاہمت کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں اور سیاسی معاملات میں دوسروں کو گنجائش دینے کے لیے تیار رہتے ہیں، لیکن پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا سیاسی انداز نسبتاً سخت سمجھا جاتا ہے اور وہ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے کم آمادہ نظر آتے ہیں۔

 

پیپلز پارٹی کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس جلد طلب کیے جانے کا امکان ہے۔ اس اجلاس میں مرکز میں مسلم لیگ نون کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کے ساتھ ساتھ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث پر بھی تفصیلی غور کیا جا سکتا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق 14 اگست کے بعد کسی بھی وقت سی ای سی کا اجلاس بلایا جا سکتا ہے، کیونکہ پارٹی کے اندر موجود ارکان اور رہنما آئندہ سیاسی حکمت عملی کے بارے میں بلاول بھٹو زرداری کی جانب دیکھ رہے ہیں۔

 

دوسری جانب مسلم لیگ نون کی قیادت بھی پیپلز پارٹی کے بعض معاملات پر اختیار کیے گئے جارحانہ مؤقف پر غور کر رہی ہے۔ مسلم لیگ نون کے حلقوں کے مطابق پارٹی اس وقت ایسے حساس معاملات کو زیادہ سے زیادہ مؤخر کرنے کی خواہش مند ہے جن کے باعث دونوں جماعتوں کے درمیان موجودہ اتحاد متاثر ہو سکتا ہے۔ بالخصوص نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ مسلم لیگ نون کے لیے ایک ایسا موضوع بن چکا ہے جس پر فوری بحث سے گریز کیا جا رہا ہے۔

 

مسلم لیگ نون کی قیادت کے قریب سمجھے جانے والے ایک رہنما کے مطابق پیپلز پارٹی کی اصل تشویش نئے صوبوں کی تجویز اور اس سلسلے میں بڑھتے ہوئے دباؤ سے متعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے صدر آصف علی زرداری نے ججز کی تقرری کے معاملے پر منظوری دینے سے قبل وزیراعظم شہباز شریف سے نئے صوبوں کے معاملے پر کچھ یقین دہانیاں حاصل کی ہوں۔ تاہم اس حوالے سے حکومت یا ایوان صدر کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

 

مسلم لیگ نون کے حلقوں میں زیر غور ایک تجویز کے مطابق نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث کو فی الحال مؤخر کر دیا جائے اور اس معاملے کو اگلی قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے سامنے پیش کیا جائے، جو موجودہ سیاسی شیڈول کے مطابق 2029 میں منتخب ہوں گی۔ مسلم لیگ نون کی خواہش ہے کہ اس وقت تک نئے صوبوں کا معاملہ سیاسی ایجنڈے سے باہر رکھا جائے تاکہ موجودہ اتحادی حکومت کو کسی نئے اور حساس تنازع کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

کیا ایس آئی ایف سی پاکستان میں سرمایہ کاری لا پائے گی؟

یوں ججز کی تقرری کا معاملہ وقتی طور پر حل ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان اختلافات کے بنیادی اسباب اپنی جگہ موجود ہیں۔ ایک طرف پیپلز پارٹی مرکز میں اپنی سیاسی حیثیت اور آئینی کردار کے حوالے سے زیادہ مؤثر مشاورت چاہتی ہے تو دوسری طرف مسلم لیگ نون حکومت کے استحکام کے لیے حساس اور متنازع معاملات کو فی الحال مؤخر رکھنے کی پالیسی اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں اسی لیے یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ آیا دونوں جماعتیں اپنے اختلافات کو محدود رکھتے ہوئے 2029 تک اتحادی حکومت کا سفر جاری رکھ سکتی ہیں یا نئے صوبوں، انتخابی تنازعات اور دیگر آئینی و سیاسی معاملات مستقبل میں ان کے درمیان فاصلے مزید بڑھا دیں گے۔ فی الحال دونوں جماعتیں اتحاد برقرار رکھنے پر آمادہ دکھائی دیتی ہیں، لیکن حالیہ واقعات نے یہ ضرور واضح کر دیا ہے کہ یہ اتحاد اب محض باہمی سیاسی مفاہمت کے بجائے مسلسل مذاکرات، یقین دہانیوں اور سمجھوتوں کا محتاج ہو چکا ہے۔

Back to top button