نئے صوبوں کا فیصلہ فوج کرے گی یا عوام کی منتخب پارلیمنٹ؟

وزیر داخلہ محسن نقوی کے بعد اب فوجی ترجمان نے بھی سینیئر صحافیوں سے گفتگو میں نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کر دی ہے جس کے بعد یہ اہم سوال کھڑا ہوگیا ہے کہ نئے صوبوں کا فیصلہ عوام کے منتخب نمائندوں پر مبنی پارلیمنٹ کرے گی یا طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ؟۔

بتایا جا رہا ہے کہ فوجی ترجمان نے حال ہی میں سینیئر صحافیوں پر مبنی ایک گروپ سے ملاقات کے دوران آف دی ریکارڈ بات کرتے ہوئے نئے صوبے بنانے کی حمایت کی اور یہ بھی کہا کہ ایسا کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ یاد رہے پاکستان میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث ملکی سیاست کا مرکز بن چکی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کے دوٹوک بیانات کے بعد سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ بعض سیاسی قوتیں موجودہ صوبوں کی تقسیم کی مخالفت کر رہی ہیں، کچھ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو وقت کی ضرورت قرار دے رہی ہیں جبکہ ایک رائے یہ ہے کہ اتنے اہم معاملے کو پارلیمان کے ذریعے سیاسی اتفاقِ رائے سے ہی آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے تاحال نئے صوبوں کے معاملے پر پارٹی سطح پر کوئی واضح اور حتمی پالیسی سامنے نہیں رکھی، تاہم پارٹی رہنماؤں کے مختلف بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاملے پر اندرونی سطح پر بحث جاری ہے۔ مسلم لیگی رہنما طارق فضل چوہدری یہ اعلان کر چکے ہیں کہ اکتوبر کے مہینے میں نئے صوبوں کے قیام پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے گی۔ تاہم سندھ کے وزیراعلی مراد علی شاہ نے واضح کیا ہے کہ اگر قومی اسمبلی نے نئے صوبوں کے قیام کے حق میں کوئی قرارداد منظور کی تو سندھ اسمبلی اسے مسترد کر دے گی۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اسلام آباد کو الگ صوبہ بنانے سے متعلق ابتدائی تجاویز وزیراعظم کو بھجوانے اور نئے صوبوں کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ آئین کی مکمل پاسداری کے بغیر نئے صوبوں کا قیام بھی نظام کی خرابیوں کو دور نہیں کرسکتا۔ تاہم اس وقت بھائی لوگوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ نئے صوبے قائم کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل کرنا ہے۔ پیپلز پارٹی نے پہلے ہی صوبوں کی تقسیم کی مخالفت میں سندھ اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کروا لی ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر داخلہ محسن نقوی سے اس معاملے پر پارلیمان میں بحث کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق نظام میں موجود خرابیوں کی وجوہات اور ان کے حل پر منتخب نمائندوں کو پارلیمان میں اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے تاکہ کسی بھی تبدیلی کے لیے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کیا جاسکے۔

ادھر تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی اصولی طور پر حامی ہیں، تاہم دونوں جماعتیں فوری طور پر نئے یونٹس بنانے کے بجائے اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔ اس طرح نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے مؤقف میں نمایاں فرق موجود ہے اور ابھی تک ایسا کوئی متفقہ فارمولا سامنے نہیں آیا جس پر تمام بڑی سیاسی قوتیں اتفاق کرسکیں۔
یہ بحث اس وقت مزید شدت اختیار کرگئی جب وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور کے ایک سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عہدے پر رہیں یا نہ رہیں، انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے اور انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ اس بیان نے سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا کہ حکومت صرف انتظامی اصلاحات کی بات کر رہی ہے یا ملک کے موجودہ صوبائی ڈھانچے میں کسی بڑی تبدیلی کی بنیاد بھی رکھی جا رہی ہے۔

اب فوجی ترجمان کی جانب سے سینیئر صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں نئے صوبوں کی تجویز کی حمایت نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ اس معاملے میں طاقتور حلقوں کی سوچ کیا ہے۔
پنجاب میں بھی نئے صوبوں کا معاملہ سیاسی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ لندن میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مسلم لیگ ن کے متحد رہنے پر زور دیا، تاہم نئے صوبوں کے معاملے پر انہوں نے کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔ اس حوالے سے پنجاب حکومت کے ترجمان سے بھی مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم رپورٹ کی اشاعت تک کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔

آئینی ماہرین کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے سب سے اہم سوال آئینی طریقہ کار کا بھی ہے۔ اگر مستقبل میں نئے صوبے بنانے کی سنجیدہ کوشش کی جاتی ہے تو اس کے لیے آئینی ترمیم، پارلیمانی منظوری اور متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کے کردار سمیت مختلف قانونی مراحل طے کرنا ہوں گے۔ اس لیے محض سیاسی بیانات یا طاقتور حلقوں کی حمایت کو نئے صوبوں کے قیام کا حتمی فیصلہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ تاہم فوجی ترجمان کی حمایت اور وزیر داخلہ کے مسلسل بیانات نے اس معاملے کو محض سیاسی بحث کے بجائے قومی سطح کے ایک اہم پالیسی سوال میں تبدیل کردیا ہے۔

اب اصل سوال یہی ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا فیصلہ پارلیمان کے ذریعے ہوگا، جہاں عوامی نمائندے آئینی تقاضے پورے کرتے ہوئے اس پر بحث اور فیصلہ کریں گے، یا فوجی اسٹیبلشمنٹ فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔ آنے والے دنوں میں حکومت اور سیاسی جماعتوں کے واضح مؤقف، پارلیمان میں ہونے والی بحث اور عملی اقدامات سے ہی یہ واضح ہوگا کہ نئے صوبوں کی بحث محض سیاسی بیانات تک محدود رہتی ہے یا پاکستان کے انتظامی نقشے میں واقعی کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔

Back to top button